بلدیہ وسطی میں شاپ بورڈ کے ٹھیکے میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا انکشاف
ایم ایف کیو ویژن نامی فرم نے سرکاری خزانے میں صرف چند لاکھ روپے جمع کروائے اور کروڑوں سمیٹ کر لے گئی، ذرائع
ٹھیکیدار نے دکانوں، اسپتالوں، اسکولز، بینکس، ملکی و غیرملکی کمپنیوں کی تشہیر سمیت دیگر کی مد میں کروڑوں وصول کیے فوٹو : فائل
بلدیہ وسطی میں شاپ بورڈ کے ٹھیکے کی مد میں مبینہ طور پرکروڑوں روپے کی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔
ایم ایف کیوویژن نامی فرم سرکاری خزانے میں چند لاکھ روپے جمع کروا کر کروڑوں سمیٹ کرلے گئی، بلدیہ وسطی کے لیاقت آباد،نارتھ ناظم آباد، گلبرگ اورنارتھ کراچی زون میں لاکھوں کی تعداد میں موجود دکانوں، اسپتالوں، اسکولز، بینکس،ملکی وغیر ملکی کمپنیوں کی تشہیر سمیت دیگر مد میں ٹھیکیدار کی جانب سے کروڑوں روپے کی ریکوری کی گئی جبکہ دوسال میں ڈی ایم سی سینٹرل کے خزانے میں صرف چند لاکھ روپے ہی ٹیکس جمع کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اس سلسلے میں جاری تحقیقات میں بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈز میں فراڈ کے انکشافات ہوئے ہیں،ذرائع کے مطابق مالی سال 2017-18اور مالی سال2018-19 کے دوران بلدیہ وسطی میں شاپ بورڈ کا ٹھیکہ ایم ایف کیو ویژن نامی ایک فرم کو دیا گیا تھا۔
مذکورہ ٹھیکیدار نے افسران کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے ضلع وسطی کے چاروں زونز میں شاپ بورڈز سے من مانہ ٹیکس وصول کیا اور اس مد میں10کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایم سی کے ساتھ کیا گیا معاہدہ صرف کاغذوں تک محدود رہا اور بلدیہ وسطی کے خزانے میں شاپ بورڈکی مد میں صرف چند لاکھ روپے جمع کرائے گئے جبکہ باقی کروڑوں روپے کی ریکوری بندر بانٹ کی نذرکردی گئی۔
ٹھیکیدار پرڈی ایم سی سینٹرل کے کروڑوںروپے واجب الادا ہیں جس کی وصولی کرنے کے بجائے ڈی ایم سی حکام پراسرار خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ شاپ بورڈ کے ٹھیکے کی مد میں کی جانیوالی سنگین کرپشن اور بدعنوانی پرنیب کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے جس کیلیے ڈی ایم سی حکام سے تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ٹھیکیدار اور افسران کے مابین گٹھ جوڑ کے باعث بلدیہ وسطی کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم ہو گیا ہے اور بلدیہ وسطی حکام نے ٹھیکیدار سے ریکوری حاصل کرنے کے بجائے اب خود شاپ بورڈز کا ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے جس میں بھی سنگین بدعنوانیوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں،بلدیہ وسطی کے سینئر افسران نے ایم ایف کیو نامی فرم کے ٹھیکے میں کی جانے والی سنگین نوعیت کی بدعنوانیوں کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایم ایف کیوویژن نامی فرم سرکاری خزانے میں چند لاکھ روپے جمع کروا کر کروڑوں سمیٹ کرلے گئی، بلدیہ وسطی کے لیاقت آباد،نارتھ ناظم آباد، گلبرگ اورنارتھ کراچی زون میں لاکھوں کی تعداد میں موجود دکانوں، اسپتالوں، اسکولز، بینکس،ملکی وغیر ملکی کمپنیوں کی تشہیر سمیت دیگر مد میں ٹھیکیدار کی جانب سے کروڑوں روپے کی ریکوری کی گئی جبکہ دوسال میں ڈی ایم سی سینٹرل کے خزانے میں صرف چند لاکھ روپے ہی ٹیکس جمع کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اس سلسلے میں جاری تحقیقات میں بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈز میں فراڈ کے انکشافات ہوئے ہیں،ذرائع کے مطابق مالی سال 2017-18اور مالی سال2018-19 کے دوران بلدیہ وسطی میں شاپ بورڈ کا ٹھیکہ ایم ایف کیو ویژن نامی ایک فرم کو دیا گیا تھا۔
مذکورہ ٹھیکیدار نے افسران کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے ضلع وسطی کے چاروں زونز میں شاپ بورڈز سے من مانہ ٹیکس وصول کیا اور اس مد میں10کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایم سی کے ساتھ کیا گیا معاہدہ صرف کاغذوں تک محدود رہا اور بلدیہ وسطی کے خزانے میں شاپ بورڈکی مد میں صرف چند لاکھ روپے جمع کرائے گئے جبکہ باقی کروڑوں روپے کی ریکوری بندر بانٹ کی نذرکردی گئی۔
ٹھیکیدار پرڈی ایم سی سینٹرل کے کروڑوںروپے واجب الادا ہیں جس کی وصولی کرنے کے بجائے ڈی ایم سی حکام پراسرار خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ شاپ بورڈ کے ٹھیکے کی مد میں کی جانیوالی سنگین کرپشن اور بدعنوانی پرنیب کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے جس کیلیے ڈی ایم سی حکام سے تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ٹھیکیدار اور افسران کے مابین گٹھ جوڑ کے باعث بلدیہ وسطی کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم ہو گیا ہے اور بلدیہ وسطی حکام نے ٹھیکیدار سے ریکوری حاصل کرنے کے بجائے اب خود شاپ بورڈز کا ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے جس میں بھی سنگین بدعنوانیوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں،بلدیہ وسطی کے سینئر افسران نے ایم ایف کیو نامی فرم کے ٹھیکے میں کی جانے والی سنگین نوعیت کی بدعنوانیوں کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔