ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کے خلاف سازش ٹاولز کی ایک اور برآمدی کھیپ میں پوست پکڑی گئی
برآمدکنندہ کمپنیوں کے نام پر جعلی دستاویزات کے ذریعے پوست کے بیج برآمد کرنے میں منظم گروہ ملوث ہے، برآمدکنندگان
کنسائنمنٹس میں منشیات نکلنے کے پے درپے واقعات سے ٹاولزایکسپورٹرزمیں کھلبلی پھیل گئی ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان سے یورپ کے لیے جانے والے ٹاولز کے کنسائمنٹس میں ممنوعہ پوست کے بیج بھیجے جانے کے پے درپے واقعات سے ٹاولز ایکسپورٹرز میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
ٹاولز ایکسپورٹرز کا موقف ہے کہ منظم شعبے کی بعض برآمدکنندہ کمپنیوں کے نام پر جعلی دستاویزات کے ذریعے پوست کے بیج برآمد کرنے میں منظم گروہ ملوث ہے تاکہ پاکستان سے ٹاولز سمیت دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ہفتہ کو بھی محکمہ کسٹمز ایکسپورٹ کلکٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ کسٹمزانٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر کراچی نے ایک اور کنٹینرپر چھاپہ مارکرمزید26 ٹن پوست کے بیج برآمد کرکے ایک اور ایف آئی آر درج کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاولز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے پیر 4 نومبر کو ٹی ایم اے ہاؤس ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں ایسوسی ایشن کے 2برآمدکنندہ رکن کمپنیوں کے نام پر پوست کے بیج کی ایک بڑی مقدار اسمگل کرنے کی کوشش کے واقعے میں ملوث گروہ اور محکمہ کسٹمز کے کلیئرنس سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے علاوہ ان شعبوں کی کارکردگی کا احاطہ کیا جائے گا جو فیکٹری سے بندرگاہ اور بحری جہاز تک کنسائنمنٹ پہنچانے کی ذمے دار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹاولز مینوفیکچررز نے کلکٹرکسٹمز ایکسپورٹ کراچی واصف میمن اور ڈائریکٹرکسٹمز انٹیلی جنس کراچی سے وفد کی صورت میں باقاعدہ مذاکرات کرنے کے علاوہ ممبرکسٹمز ایف بی آر نثار محمد خان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ متاثرہ ٹاول ایکسپورٹر کمپنی فرینڈز انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک عدنان نے ''ایکسپریس'' سے رابطہ کر کے بتایا کہ انکے ادارے کی جانب سے اگرچہ امریکا اوریورپ کے لیے ٹاول مصنوعات کی مستقل برآمدات ہورہی ہیں لیکن ہالینڈ کے لیے کبھی بھی کوئی کنسائنمنٹ برآمد نہیں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ منظم گروہ کی جانب سے فرینڈز اور رستم ٹاولز کے آئی ڈی پاس ورڈ کی ضرورت ختم کرنے کے لیے ایک ہی کنٹینر میں دونوں کمپنیوں کے نام سے شپمنٹ کرکے ایل سی ایل کیا گیا جس کی وجہ سے پکڑے گئے مذکورہ کنسائنمنٹ کی کسٹمز کلیئرنس مینوئل سسٹم میں چلی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ فرینڈز انٹرپرائزز کے بینک کھاتے صرف این آئی بی بینک اور فیصل بینک میں ہیں لیکن پکڑے گئے مذکورہ کنسائنمنٹ میں اسٹیٹ بینک کی شرائط کے تحت برآمدی آمدنی لانے کا مطلوبہ فارم''ای'' الائیڈ بینک کا استعمال کیا گیا، اسی طرح رستم ٹاولز کی دستاویزات میں کے اے ایس بی بینک کا جاری کردہ فارم ''ای'' استعمال کیا گیا حالانکہ رستم ٹاولز کے بینک کھاتے حبیب میٹروپولیٹن بینک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میںہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کسٹمز ودیگر تحقیقاتی محکموں کو جعلی دستاویزات میں استعمال ہونے والے جعلی فارم ''ای'' کی بھی متعلقہ بینکوں سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔
ٹاولز ایکسپورٹرز کا موقف ہے کہ منظم شعبے کی بعض برآمدکنندہ کمپنیوں کے نام پر جعلی دستاویزات کے ذریعے پوست کے بیج برآمد کرنے میں منظم گروہ ملوث ہے تاکہ پاکستان سے ٹاولز سمیت دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ہفتہ کو بھی محکمہ کسٹمز ایکسپورٹ کلکٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ کسٹمزانٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر کراچی نے ایک اور کنٹینرپر چھاپہ مارکرمزید26 ٹن پوست کے بیج برآمد کرکے ایک اور ایف آئی آر درج کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاولز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے پیر 4 نومبر کو ٹی ایم اے ہاؤس ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں ایسوسی ایشن کے 2برآمدکنندہ رکن کمپنیوں کے نام پر پوست کے بیج کی ایک بڑی مقدار اسمگل کرنے کی کوشش کے واقعے میں ملوث گروہ اور محکمہ کسٹمز کے کلیئرنس سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے علاوہ ان شعبوں کی کارکردگی کا احاطہ کیا جائے گا جو فیکٹری سے بندرگاہ اور بحری جہاز تک کنسائنمنٹ پہنچانے کی ذمے دار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹاولز مینوفیکچررز نے کلکٹرکسٹمز ایکسپورٹ کراچی واصف میمن اور ڈائریکٹرکسٹمز انٹیلی جنس کراچی سے وفد کی صورت میں باقاعدہ مذاکرات کرنے کے علاوہ ممبرکسٹمز ایف بی آر نثار محمد خان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ متاثرہ ٹاول ایکسپورٹر کمپنی فرینڈز انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک عدنان نے ''ایکسپریس'' سے رابطہ کر کے بتایا کہ انکے ادارے کی جانب سے اگرچہ امریکا اوریورپ کے لیے ٹاول مصنوعات کی مستقل برآمدات ہورہی ہیں لیکن ہالینڈ کے لیے کبھی بھی کوئی کنسائنمنٹ برآمد نہیں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ منظم گروہ کی جانب سے فرینڈز اور رستم ٹاولز کے آئی ڈی پاس ورڈ کی ضرورت ختم کرنے کے لیے ایک ہی کنٹینر میں دونوں کمپنیوں کے نام سے شپمنٹ کرکے ایل سی ایل کیا گیا جس کی وجہ سے پکڑے گئے مذکورہ کنسائنمنٹ کی کسٹمز کلیئرنس مینوئل سسٹم میں چلی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ فرینڈز انٹرپرائزز کے بینک کھاتے صرف این آئی بی بینک اور فیصل بینک میں ہیں لیکن پکڑے گئے مذکورہ کنسائنمنٹ میں اسٹیٹ بینک کی شرائط کے تحت برآمدی آمدنی لانے کا مطلوبہ فارم''ای'' الائیڈ بینک کا استعمال کیا گیا، اسی طرح رستم ٹاولز کی دستاویزات میں کے اے ایس بی بینک کا جاری کردہ فارم ''ای'' استعمال کیا گیا حالانکہ رستم ٹاولز کے بینک کھاتے حبیب میٹروپولیٹن بینک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میںہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کسٹمز ودیگر تحقیقاتی محکموں کو جعلی دستاویزات میں استعمال ہونے والے جعلی فارم ''ای'' کی بھی متعلقہ بینکوں سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔