سونے سے قبل موبائل فون لیپ ٹاپ کا استعمال نیند کا دشمن
مصنوعی روشنی نیند کا باعث بننے والے مادے میلاٹونین کو کم کرتی ہے،ماہرین
میلاٹونین کی کمی سےکم خوابی کی شکایت پیدا ہوتی ہے جو کسی بھی انسان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔،ماہرین۔ فوٹو: فائل
امریکی تحقیقی ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کو سونے سے پہلے ایک گھنٹے یا اْس سے زائد وقت تک موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹی وی اور ٹیبلیٹ پی سی جیسی الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال انسان کی نیند میں خلل اور بے سکونی کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے سے قبل موبائل فون، ٹی وی یا دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال نوجوانوں پر زیادہ بری طرح اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ پرسکون نیند نہ ملنے سے ان کی صلاحیتیں پوری طرح کھل کر سامنے نہیں آ سکتیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی روشنی کی موجودگی میں انسانی جسم میں گہری نیند کے باعث بننے والے کیمیائی مادّے Melatonin کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے کم خوابی کی شکایت پیدا ہوتی ہے جو کسی بھی انسان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے سے قبل موبائل فون، ٹی وی یا دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال نوجوانوں پر زیادہ بری طرح اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ پرسکون نیند نہ ملنے سے ان کی صلاحیتیں پوری طرح کھل کر سامنے نہیں آ سکتیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی روشنی کی موجودگی میں انسانی جسم میں گہری نیند کے باعث بننے والے کیمیائی مادّے Melatonin کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے کم خوابی کی شکایت پیدا ہوتی ہے جو کسی بھی انسان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔