پولیو ٹیموں پر جان لیوا حملے

پولیو ورکرز اپنی جان پر کھیل کر معماران وطن کے مستقبل کومحفوظ بنانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔

پولیو ورکرز اپنی جان پر کھیل کر معماران وطن کے مستقبل کومحفوظ بنانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

ملک بھر میں انسداد پولیو وائرس کی داستان مہم بدستور ہلاکتوں سے رقم ہورہی ہے، میڈیا کی اطلاع کے مطابق میدان دیرلوئر میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دوپولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ شکارپور میں پولیو ٹیم کو یرغمال بنالیا گیا، تشدد سے لیڈی ہیلتھ ورکر بے ہوش ہوگئیں، گوجرانوالہ میں بچہ میں ٕپولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ادھر ملک کے مختلف علاقوں میں مزید 6بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ، جب کہ ملک بھر میں متاثرہ کیسز کی تعداد اب 111ہوگئی ہے۔

یہ دردانگیز حقیقت ہے کہ پولیو انسداد کی مہم کو دہرے خطرے کا سامنا ہے، ایک طرف اس میں نئے متاثرہ کیسز کی رپورٹس کی آمد ہے اور دوسری جانب پولیو ورکرز کی والہانہ اور انسانی مہم کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردوںکی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، ان کی سہولت کاری میں سماج دشمن عناصر،شرپسندوں اور انتہاپسندوں کی طرف سے خونی حملے ہورہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے حکام کے لیے یہ صورتحال بہت تشویشناک بتائی گئی ہے، جب کہ پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کے لیے پولیو ورکرز اپنی جان پر کھیل کر معماران وطن کے مستقبل کومحفوظ بنانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہیں لیکن سب سے اہم ٹاسک ان کی قیمتی جانوں کے تحفظ کا ہے۔ جب کہ حکومت نے تہیہ کررکھا ہے کہ بچوں کے مستقبل کے لیے حکومت کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور کسی بھی تنظیم یا دہشتگردوں کوانسداد پولیو مہم کو متاثر کرنے اور پولیو ورکرز کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے پولیو ورکرز کی سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے جانے والی پولیس ٹیم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیس جوان شہید ہو گئے۔لوئردیر پولیس کے کانسٹیبل فرمان اللہ اور اسپیشل پولیس فورس کے جوان مکرم خان تھانہ لعل قلعہ کی حدود مرخنی پل کے مقام پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے، دونوں پولیس اہلکاروں کی مشترکہ نماز جنازہ پولیس لائن گراؤنڈ تیمرگرہ میں ادا کی گئی۔

جس میں شہید اہلکاروں کو سلامی پیش کی گئی۔ نماز جنازہ کے موقع پر ضلعی پولیس سربراہ دیر پائین عارف شھباز وزیر، کمانڈنٹ دیر ٹاسک فورس، ڈپٹی کمشنر لوئردیر سعادت حسن،ایس پی انوسٹی گیشن وقارخان، ضلع بھر کے ڈی ایس پیز، پولیس افسران و اہلکاران سمیت مقامی زعما و سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


پولیس لائن تیمرگرہ میں نماز جنازہ ادا ہونے کے بعد دونوں اہلکاروں کا جسد خاکی اپنے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا۔ 28سالہ پولیس اہلکار فرمان اللہ کا تعلق لوئردیر کے دور افتادہ علاقہ گماگٹ طورمنگ سے ہے جنہوں نے سال 2010 میں پولیس فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شمولیت اختیار کی۔ سوگواران میں بیوی، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ 34 سالہ اسپیشل پولیس فورس کے اہلکار مکرم خان کا تعلق تحصیل میدان سنگولئی سے ہے جس نے یکم جنوری 2013 کو اسپیشل پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی۔ان کے سوگواران میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پولیو مہم کو اس کے انسانی اور معصوم بچوں کی صحت کے سیاق وسباق سے الگ کرکے ایک ٹارگیٹڈ مہم کی صورت دی گئی ہے اور نامعلوم عناصر نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے لیے قومی صحت کے مسئلہ کو اپنی اناکا مسلکی مسئلہ بنا دیا اور قومی مہم کے خلاف گمراہ کن اور غلط پروپیگنڈہ کیا گیا۔

اگرچہ مذہبی اسکالرز ، ڈاکٹرز اور سیاسی رہنماؤں نے عوامی بیداری کے لیے صائب اقدامات کیے اور ان عناصر سے انسانیت کا حوالہ دیتے ہوئے اعتدال پسندی اور حقیقت پسندانہ رویے کی اپیل کی لیکن پولیو ورکرز کے خلاف تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی اور مزید دو قیمتی جانیں ضایع ہوئیں، دوسری جانب عوام کو بھی پولیو دشمن عناصر کے پروپیگنڈے اوردباؤ کو غیرموثر کرنے کی کوششوں میں سماجی رابطے کو مستحکم کرنا ہوگا۔

سماجی اور مذہبی تنظیمیں اپنا قومی کردار ادا کرنے کے لیے وزارت صحت اور حکومتی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیو ورکرز کے ساتھ عملی تعاون اور اشتراک عمل کا ٹھوس میکنزم وضع کریں، سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنائے جائیں تاکہ مہم جو ایک قومی چیلنج ہے اسے طے شدہ شیڈول کے مطابق اپنی تکمیل تک پہنچایاجائے۔

حکومت نے مہم کو منظم بنیاد عطا کی ہے، چاروں صوبائی حکومتوں کے چیف ایگزیکٹیو نے مہم کا آغاز کیا ہے، وزیراعلی پنجاب، سندھ،خیبر پختونخوا اوربلوچستان نے پانچ کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ٹاسک پیش نظر رکھا ہے،ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن اضلاع میں نئے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، وہاں توجہ کی اشد ضرورت ہے، ورکرز ملک بھر میں پھیل گئے ہیں۔

خواتین کی بہت بڑی تعداد اس نیشنل ٹاسک کے لیے قربانی کے جذبے سے سرشار ہے لیکن ضرورت ان قیمتی جانوںکے اجتماعی تحفظ کی ہے، پاکستان کو عالمی ادارہ صحت کی ڈیڈ لائن کو بھی پورا کرنا ہے،پاکستان ،افغانستان اور نائجیریا سے پولیو کا خاتمہ عالمی چیلنج ہے، پولیو لاعلاج ہے مگر اس سے بچاؤ کا افق کھلا ہوا ہے۔ والدین انسدادی مہم میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں مگر ضرورت اس مہم کو حتمی کامیابی تک پہنچانے کی ہے۔
Load Next Story