حکیم اللہ کی ہلاکت نوازشریف کے دورہ امریکا کا تسلسل ہے طاہر القادری
نوازشریف طے کرکے آئے کہ جنگ جاری رکھیں گے،آپ بقایا ڈیڑھ ارب ڈالردیں،سربراہ پاکستان عوامی تحریک
پرامن انقلاب کیلیے اچانک کال دیں گے، تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے کہاہے کہ ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈرحکیم اللہ محسود کی ہلاکت وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکا کا تسلسل ہے۔
انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرارمیں میزبان عمران خان سے گفتگومیں کہا کہ 23اکتوبرکو وائٹ ہائوس نے اوبامااور نوازشریف کی ملاقات کامشترکہ اعلامیہ جاری ہواجس میں ڈرون حملوں کا ذکرتک نہیں ہے۔ نواز شریف نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں امریکی تعاون کاشکریہ ادا کیا اور اے پی سی کے فیصلے کاوہاں تذکرہ نہیںکیا۔ وزیراعظم کاامریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کے لیے خودجانا پاکستان کے لیے شرمناک ہے۔ اس میں طے پایاکہ ڈرون حملے جاری رہیںگے، حکومت امریکی انٹیلی جنس سیکیورٹی ایجنسی سے یکطرفہ انٹیلی جنس شیرنگ کرے گی، آئی ایس آئی کوپیچھے کیاجائے گا، آصف زرداری کی کرپشن کاکوئی مقدمہ نہیں کھولا جائے گا، مشرف چنددن میں رہا ہوکر باہر چلے جائیں گے، طالبان کے ان گروپوں سے مذاکرات ہوں گے جو امریکااور عرب نوازہیں۔
طاہر القادری نے کہاکہ امریکا میں 4 دنوں کے قیام کے دوران نوازوفد کو صرف 4گھنٹے ملے جس میں اوباما،کیری، انرجی ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون اورسی آئی اے حکام سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ڈرون حملے افواج روک سکتی ہیںمگر اس کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔ مگر نوازشریف وہاں طے کرکے آئے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، آّپ ہمیں اس جنگ کے بقایا ڈیڑھ ارب ڈالردیں۔ عمران خان اسمبلی میں آواز کیوں نہیں اٹھاتے کہ نواز شریف دورہ امریکاکے بعدپاکستان سے کیوںبھاگے ہوئے ہیں۔
اصل میں وہ لوگوں کا سامنا نہیں کرسکتے۔ آج تک کسی نے اتنا غیرسنجیدہ وزیراعظم دیکھا؟ ان حالات میں بھی بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہیں۔ ملک وزیر خارجہ کے بغیرچل رہاہے۔ طالبان سے مذاکرات کا اللہ ہی جانتا ہے۔ انھوںنے کہاکہ پرامن انقلاب کے لیے تیاریاںآدھے راستے میں ہیں۔ اچانک کال دیںگے۔ ہرسیاسی جماعت اور مکتبہ فکرکو شرکت کی دعوت دوں گا کہ ہمیں دہشت گردی، انتہاپسندی، ملاازم، غنڈہ ازم، جنگجوازم اورفوجی حکومت نہیںچاہیے۔ ٹی وی پردیکھ کردعائیں دینے کا وقت نہیں، ملکی سالمیت وبقاکے لیے ہمارے ساتھ نکلیں۔ اس مرتبہ اسلام آبادسے واپس نہیں آئیں گے۔ فتح کی صبح یا شہادت تک جنگ لڑیں گے۔
انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرارمیں میزبان عمران خان سے گفتگومیں کہا کہ 23اکتوبرکو وائٹ ہائوس نے اوبامااور نوازشریف کی ملاقات کامشترکہ اعلامیہ جاری ہواجس میں ڈرون حملوں کا ذکرتک نہیں ہے۔ نواز شریف نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں امریکی تعاون کاشکریہ ادا کیا اور اے پی سی کے فیصلے کاوہاں تذکرہ نہیںکیا۔ وزیراعظم کاامریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کے لیے خودجانا پاکستان کے لیے شرمناک ہے۔ اس میں طے پایاکہ ڈرون حملے جاری رہیںگے، حکومت امریکی انٹیلی جنس سیکیورٹی ایجنسی سے یکطرفہ انٹیلی جنس شیرنگ کرے گی، آئی ایس آئی کوپیچھے کیاجائے گا، آصف زرداری کی کرپشن کاکوئی مقدمہ نہیں کھولا جائے گا، مشرف چنددن میں رہا ہوکر باہر چلے جائیں گے، طالبان کے ان گروپوں سے مذاکرات ہوں گے جو امریکااور عرب نوازہیں۔
طاہر القادری نے کہاکہ امریکا میں 4 دنوں کے قیام کے دوران نوازوفد کو صرف 4گھنٹے ملے جس میں اوباما،کیری، انرجی ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون اورسی آئی اے حکام سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ڈرون حملے افواج روک سکتی ہیںمگر اس کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔ مگر نوازشریف وہاں طے کرکے آئے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، آّپ ہمیں اس جنگ کے بقایا ڈیڑھ ارب ڈالردیں۔ عمران خان اسمبلی میں آواز کیوں نہیں اٹھاتے کہ نواز شریف دورہ امریکاکے بعدپاکستان سے کیوںبھاگے ہوئے ہیں۔
اصل میں وہ لوگوں کا سامنا نہیں کرسکتے۔ آج تک کسی نے اتنا غیرسنجیدہ وزیراعظم دیکھا؟ ان حالات میں بھی بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہیں۔ ملک وزیر خارجہ کے بغیرچل رہاہے۔ طالبان سے مذاکرات کا اللہ ہی جانتا ہے۔ انھوںنے کہاکہ پرامن انقلاب کے لیے تیاریاںآدھے راستے میں ہیں۔ اچانک کال دیںگے۔ ہرسیاسی جماعت اور مکتبہ فکرکو شرکت کی دعوت دوں گا کہ ہمیں دہشت گردی، انتہاپسندی، ملاازم، غنڈہ ازم، جنگجوازم اورفوجی حکومت نہیںچاہیے۔ ٹی وی پردیکھ کردعائیں دینے کا وقت نہیں، ملکی سالمیت وبقاکے لیے ہمارے ساتھ نکلیں۔ اس مرتبہ اسلام آبادسے واپس نہیں آئیں گے۔ فتح کی صبح یا شہادت تک جنگ لڑیں گے۔