حکیم اللہ کی ہلاکت پارلیمنٹ میں امریکا کیخلاف شدید ردعمل متوقع

دونوں ایوانوں کے اجلاس اہمیت اختیار کرگئے، متنازع بیان کا معاملہ دب جائیگا

وزیرداخلہ چوہدری نثار ایوان کو اعتماد میں لیں گے، مذاکرات کے مستقبل پرپالیسی بیان دیں گے ۔ فوٹو: فائل

امریکی ڈرون حملے میں طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعدپیر کو ہونے والے قومی اسمبلی اورسینیٹ کے اجلاس اہمیت اختیار کرگئے۔

سینیٹ اوراسمبلی میں اپوزیشن اورحکومت کی طرف سے طے کیے گئے ایجنڈے کی جگہ حکیم اللہ محسودکی ہلاکت اورڈرون حملوں کا ایشو زیربحث رہنے اورحکومتی اوراپوزیشن ارکان کے امریکاکے خلاف شدید ردعمل کااظہار متوقع ہے۔




وزیرداخلہ دونوں ایوانوں کومیرانشاہ میں تازہ امریکی ڈرون حملے اورتحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کی ہلاکت کے بارے میں اعتماد میں لیں گے اورتازہ ترین صورتحال بالخصوص طالبان سربراہ کے منظر عام سے ہٹائے جانے کے بعد حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں پالیسی بیان دیں گے۔ اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں وزیرداخلہ کے سینیٹ میںمتنازعہ بیان پرجو احتجاجی پروگرام ترتیب دیا تھا اس کے پس منظرمیں چلے جانے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروںکے مطابق حکیم اللہ محسودکی ہلاکت کاواقعہ نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ ملکی سیاسی صورتحال کوبھی کافی عرصہ یرغمال بنائے رکھے گا۔
Load Next Story