’’نیٹوسپلائی وفاقی معاملہ ہےصوبائی حکومت بندنہیں کرسکتی‘‘

قراردادکی منظورصرف ایک اخلاقی دباؤہوگا،کسٹمزجنرل آرڈرمیں ترمیم کرناہوگی

صوبائی حکومت نیٹو کے قافلوں کی سیکیورٹی سے انکار کرسکتی ہے، افسر ایف بی آر فوٹو: فائل

KARACHI:
فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر)نے کہاہے کہ صرف اسمبلی سے قراردادکی منظوری پرنیٹوسپلائی بندنہیں کی جاسکتی ہے۔

نیٹو سپلائی وفاقی معاملہ ہے اسے صرف صوبائی اسمبلی سے قرارداد کی منظوری پرروکانہیں جاسکتا،سپلائی روکنے کیلیے کسٹمزجنرل آرڈرمیں ترمیم کرناہوگی جبکہ کسٹمز جنرل آرڈر میں ترمیم وفاقی کابینہ یاوزارت خزانہ کی منظوری سے ہوسکتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے نیٹوسپلائی روکنے کیلیے وفاقی اورصوبائی اسمبلی میں قراردادپیش کرنے کے حوالے سے جب ایف بی آرکے سینئرافسر سے رابطہ کیاگیاتوانھوں نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ سلالہ چیک پوسٹ حملے کی طرح یہ بھی ایک سیاسی معاملہ ہے اورحل بھی سیاسی بنیادوں پرہوگا۔

جس طرح سلالہ چیک پوسٹ حملے کے بعدکچھ نہیں ہوا اسی طرح اب بھی کچھ نہیں ہونے کے امکانات ہیں تاہم اگرحکومت امریکاکے ساتھ اپنے تعلقات پرنظرثانی کرتی ہے اوراس پالیسی میں تبدیلی کے تحت نیٹوسپلائی روکنے کافیصلہ کیاجاتاہے تواس کے لئے قانونی اقدامات اٹھاناہوں گے جس کیلیے12صفحات پرمشتمل کسٹمزجنرل آرڈر نمبر10اورنوٹیفکیشن نمبر 413(I)/2012کے تحت جاری کردہ ٹریکنگ اینڈمانیٹرنگ آف کارگورُولز2012میں ترامیم کرناہوں گی اور اگر صرف قراردادمنظورکی جاتی ہے توصوبائی اسمبلی سے قراردادکی منظوری صرف اخلاقی دباؤ ہوگا۔




ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کے راستے افغانستان میں امریکی و نیٹووایساف فورسز کو پٹرولیم مصنوعات و دیگر سامان سے بھرے کنٹینرز کو سیکیورٹی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے دیے جانے والے سیکیورٹی پلان کے تحت نیٹووایساف کے لئے پاکستان کے راستے کنٹینرز کی ترسیل کی حفاظت کیلیے چاروں صوبوں کی پولیس،ایف سی،رینجرز،لیویز اورخاصہ داروں اور ایف آئی اے کو ذمے داری سونپی گئی ہے اور صوبائی حکومت یہ ضرور کرسکتی ہے کہ اپنے صوبے میں سیکیورٹی کیلیے پولیس فراہم نہ کرے یا دوسرے ایسے لا انفورسمنٹ ادارے جو صوبائی حکومت کے ماتحت آتے ہیں ان کی خدمات فراہم نہ کرے مگرایف بی آر حکام کا کہناہے کہ اس کی نوبت نہیں آئے گی اور توقع ہے کہ معاملہ حل ہوجائے گا۔

ایف بی آر کے مذکورہ افسر کا کہنا ہے کہ کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت نیٹو ،ایساف و امریکی افواج کو پاکستان کے راستے نیٹو کنٹینرز کے ذریعے تمام قسم کے اینٹی ٹینک ہتھیار،تمام اقسام کے مارٹرز،خودکار گرینیڈ لانچرز،ٹینک اور آرمرڈ وہیکلز،تمام اقسام کی آرٹلری گن،گائیڈڈودوسرے اقسام کے میزائل و راکٹس، تمام اقسام کے لانچرز،تمام اقسام کی مائنز،تمام اقسام کے بم،تمام اقسام کے پروجیکٹائلزاور آرٹلری میونشن، ڈائریکٹڈ انرجی و نیٹڈ انرجی ویپنزسسٹمز،لیز ویپن سٹم،بشمول ویو اینڈ پلس لیزر سسٹمز،کمبیٹ ائیر کرافٹ،اٹیک ہیلی کاپٹرز،بغیر ڈرائیور چلنے والی ایئریل وہیکلز،گولہ بارود،ملٹری اینڈ کمرشل ایکپلوژو،ڈرونز سمیت دیگرخطر ناک اور مہلک ہتھیاروں کی ترسیل ممنوعہ قرار دی گئی ہے۔

اس ضمن میں پاکستان اور امریکاکے درمیان اتفاق رائے سے نیٹو کنٹینرز کی ترسیل ،کلیئرنس و مانیٹرنگ کیلئے جو کسٹمز جنرل آرڈر جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق کسٹمز جنرل آرڈرمیں نیٹو ،ایساف و امریکی افواج کیلیے پاکستان کے راستے افغانستان کیلیے ممنوعہ قرار دی جانے والی اشیاکی فہرست بھی شامل ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت امریکہ اور نیٹو کو پاکستان کے راستے24 اشیاکی سپلائی کو ممنوعہ قرار دیا گیاہے جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کنٹینرز کی کلیئرنس کے موقع پر باختیار ایجنٹ کو 250 ڈالر فی گُڈزڈکلیئریشن(جی ڈی) کے حساب سے حکومتی خزانے میں جمع کروانا ہوں گے۔
Load Next Story