قیدیوں کے بارے میں چیف جسٹس کا اظہار خیال
عدلیہ ریاست کے تیسرے ستون کی حیثیت سے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر رہی ہے، چیف جسٹس
عدلیہ ریاست کے تیسرے ستون کی حیثیت سے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،چیف جسٹس پاکستان۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اگلے روز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں قیدیوں کی زبوں حالی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ ریاست کے تیسرے ستون کی حیثیت سے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر رہی ہے۔ نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کے بعد کی عدلیہ بحالی تحریک پاکستان میں ماورائے آئین حکومتوں کے خلاف قانون کی حکمرانی کے ادراک کی وجہ بنی۔ وکلاء اور معاشرے کے دیگر طبقات کی حمایت سے عدلیہ نے آمرانہ حکومت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کیا۔ یہ ہمارے ملک کی آئینی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا اور پارلیمنٹ کی جانب سے غیرآئینی اقدامات کی توثیق نہ کر کے ایک مضبوط جمہوری ڈھانچہ تعمیر کرنے کی بنیاد رکھی گئی۔ محترم چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ بنیادی حقوق نافذ کرنے کے لیے مکمل طور پر باصلاحیت ہے۔ جرم کی نوعیت کوئی بھی ہے' انسانی حق و قار و عزت ناگزیر ہے۔
پاکستان کو ورثے میں ایک ایسا جیل کا نظام ملا جس کی بنیاد بدلے اور مقابلہ کے اصول پر ہے۔ جیل کی اصلاح کبھی بھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی۔ آبادی میں اضافہ اور جرائم کی شرح میں تیزی آنے سے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جیلوں میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ قیدیوں کی اصلاح کے لیے کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ عدلیہ قیدیوں کے حقوق کے لیے اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہے اور یہ فرض فیصلوں کے ذریعے ادا کر رہی ہے۔ محترم چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ زیرسماعت یا سزا یافتہ قیدیوں کی آزادی کا حق سلب ہو جاتا ہے مگر انھیں دیگر انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ موجودہ عدلیہ نے آئین کی سربلندی کا قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔جہاں تک جیل میں بند قیدیوں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ہمیں سمجھنا چاہیے کہ قیدی بھی انسان ہیں اور وہ انسانی حقوق رکھتے ہیں چاہے وہ جیل میں ہی کیوں نہ ہوں۔بے شک زیر سماعت یا سزا یا فتہ قیدیوں کی آزادی کا حق سلب ہو جاتا ہے لیکن ان کو دیگر انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کو اس بناء پر تشدد' ظلم اور غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا جانا چاہیے۔
اسلام قید اور نظام قید خانہ کے متعلق اپنا ایک فلسفہ پیش کرتا ہے۔ اسلام قید کو ایک آخری حل کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم بہت سے ایسے جرائم بھی ہیں جن کے لیے قید کی سزا مقرر کی گئی ہے لیکن قیدیوں پر تشدد اور ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک ہمارے مذہبی احکامات کے خلاف ہے۔ اسلام میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ قیدی کے ساتھ ایک آزاد فرد کی طرح سلوک کیا جائے ماسوائے اس کے کہ وہ قید خانے تک محدود رہے گا۔ انھیں پڑھنے اور پڑھانے کا مواد فراہم کیا جائے اور انھیں اپنے خاندانوں تک رسائی دی جائے۔ انھیں تفریحی سہولیات کی اجازت بھی دی جائے۔ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان نے قیدیوں کے مسئلہ پر بات کر کے ایک انتہائی اہم معاملے کی نشاندہی کی ہے۔ یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ قیدیوں میں بہت سے لوگ بے گناہ ہوتے ہیںجنھیں بااثر افراد کی خوشنودی کے لیے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے لواحقین کے پاس اتنی استطاعت ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں ان کی قانونی مدد کر سکیں۔ جیل جانے والا خواہ کتنا ہی بے گناہ کیوں نہ ہو اس پر جیل کا جو دھبہ لگ جاتا ہے اس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے بلکہ اس کا سارا خاندان اس کا خمیازہ بھگتتا ہے۔ بے شمار قیدی ایسے بھی ہیں جن کی عدالتوں سے رہائی عمل میں آ جاتی ہے بلکہ معمولی سے جرمانے کی رقم نہ ہونے پر وہ بدستور جیل میں پڑے رہتے ہیں۔ مزیدبرآں جیل کا ماحول معصوم قسم کے شخص کو بھی ایک پختہ کار مجرم میں بدل دیتا ہے۔
پاکستان کو ورثے میں ایک ایسا جیل کا نظام ملا جس کی بنیاد بدلے اور مقابلہ کے اصول پر ہے۔ جیل کی اصلاح کبھی بھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی۔ آبادی میں اضافہ اور جرائم کی شرح میں تیزی آنے سے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جیلوں میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ قیدیوں کی اصلاح کے لیے کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ عدلیہ قیدیوں کے حقوق کے لیے اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہے اور یہ فرض فیصلوں کے ذریعے ادا کر رہی ہے۔ محترم چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ زیرسماعت یا سزا یافتہ قیدیوں کی آزادی کا حق سلب ہو جاتا ہے مگر انھیں دیگر انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ موجودہ عدلیہ نے آئین کی سربلندی کا قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔جہاں تک جیل میں بند قیدیوں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ہمیں سمجھنا چاہیے کہ قیدی بھی انسان ہیں اور وہ انسانی حقوق رکھتے ہیں چاہے وہ جیل میں ہی کیوں نہ ہوں۔بے شک زیر سماعت یا سزا یا فتہ قیدیوں کی آزادی کا حق سلب ہو جاتا ہے لیکن ان کو دیگر انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کو اس بناء پر تشدد' ظلم اور غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا جانا چاہیے۔
اسلام قید اور نظام قید خانہ کے متعلق اپنا ایک فلسفہ پیش کرتا ہے۔ اسلام قید کو ایک آخری حل کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم بہت سے ایسے جرائم بھی ہیں جن کے لیے قید کی سزا مقرر کی گئی ہے لیکن قیدیوں پر تشدد اور ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک ہمارے مذہبی احکامات کے خلاف ہے۔ اسلام میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ قیدی کے ساتھ ایک آزاد فرد کی طرح سلوک کیا جائے ماسوائے اس کے کہ وہ قید خانے تک محدود رہے گا۔ انھیں پڑھنے اور پڑھانے کا مواد فراہم کیا جائے اور انھیں اپنے خاندانوں تک رسائی دی جائے۔ انھیں تفریحی سہولیات کی اجازت بھی دی جائے۔ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان نے قیدیوں کے مسئلہ پر بات کر کے ایک انتہائی اہم معاملے کی نشاندہی کی ہے۔ یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ قیدیوں میں بہت سے لوگ بے گناہ ہوتے ہیںجنھیں بااثر افراد کی خوشنودی کے لیے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے لواحقین کے پاس اتنی استطاعت ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں ان کی قانونی مدد کر سکیں۔ جیل جانے والا خواہ کتنا ہی بے گناہ کیوں نہ ہو اس پر جیل کا جو دھبہ لگ جاتا ہے اس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے بلکہ اس کا سارا خاندان اس کا خمیازہ بھگتتا ہے۔ بے شمار قیدی ایسے بھی ہیں جن کی عدالتوں سے رہائی عمل میں آ جاتی ہے بلکہ معمولی سے جرمانے کی رقم نہ ہونے پر وہ بدستور جیل میں پڑے رہتے ہیں۔ مزیدبرآں جیل کا ماحول معصوم قسم کے شخص کو بھی ایک پختہ کار مجرم میں بدل دیتا ہے۔