کوالالمپور کانفرنس میں نئے اقتصادی نظام کی گونج
ہمیں اسلامی معیشت کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے اور ترکی نے اس پر ابتدائی کام شروع کر دیا ہے۔
ہمیں اسلامی معیشت کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے اور ترکی نے اس پر ابتدائی کام شروع کر دیا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
KARACHI:
ملائیشیا میں ہونے والی کوالالمپورسمٹ میں 20 اسلامی ملکوں نے باہمی تجارت کے لیے ترسیل زر کا نیا نظام بنانے ،ڈالر کے بجائے اپنی متبادل کرنسی لانے کا اعادہ کیاگیا۔ ترک صدرطیب اردوان نے کہا معاشی جنگ اس دور کا بڑا مسئلہ ہے،ہمیں تجارت میں امریکی ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی استعمال کرنے کے لیے ترسیل زر کا نیا نظام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہمیں اسلامی معیشت کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے اور ترکی نے اس پر ابتدائی کام شروع کر دیا ہے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی مسلم ممالک کی اپنی کرنسی بنانے کی تجویز کی حمایت کی ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اپنی کریپٹو کرنسی بنا سکتے ہیں، کریپٹو کرنسی پر بیوروکریسی اور مارکیٹ کا اتار چڑھا اثر انداز نہیں ہو گا۔ اپنی کرنسی کے استعمال سے مسلم ممالک کا امریکا پر انحصار کم ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ ماضی میں ڈاکٹر مہاتیر محمد نے بھی اسلامی دینار بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ یاد رہے کہ کوالالمپور سمٹ میں 52ممالک کے 400نمایندوں سمیت 250 سیاستدان، صدور اور رہنما شریک ہوئے ۔ کوالالمپور سمٹ اعلامیے کے مطابق ترکی اور ملائشیا اب قطرکے ساتھ مل کر چینل بنائیں گے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب کے بعد دورہ ملائیشیا منسوخ کر دیا تھا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ملائیشیا،ایران،قطر سمیت عالمی کانفرنس میں دیگر شریک ممالک سے تعاون جاری رہے گا، جو معاشی، سماجی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ سائنس وٹیکنالوجی کے اہم معاملات پر بھی اپنی مشاورت اور بات چیت کا تسلسل جاری رکھے گا،طیب ا ردوان نے کوالالمپور سے ترکی روانگی کے موقع پر کہا کہ کانفرنس کے شرکا نے علاقائی ترقی، تحقیق، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، دفاع اور معاشی و مالیاتی شعبوں میں وسیع تر تعاون پر تفصیلی مکالمہ کیا ہے اور اہم سفارشات تیارکیں۔
انھوں نے مزید کہاکہ ان ممالک کے مابین اقتصادی ،تکنیکی، اور ترقی کے معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ،ان کا کہنا تھا اس نوعیت کی باتچیت کا سلسل جاری رہے گا، انھوں نے یقین دلایا کہ ملائشیااور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوںگے اور شرکائے کانفرنس سے مکالمہ کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
کوالالمپور عالمی کانفرنس کو سیاسی اور اقتصادی مبصرین مغربی حلقوں کے لیے ایک طبل جنگ قرار دے رہے ہیں، ان کا کہا ہے کہ دنیا ایک نئے اقتصادی ،سماجی، دفاعی اور مشترکہ مفادات پر مبنی زمینی حقائق اور تعلقات کے محور پر جمع ہو رہی ہے، 18 دسمبر سے 21دسمبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کا ایجنڈا اسلامی ملکوں کے اقتصادی اور مالیاتی مسائل کا ایک ایسا حل تلاش کرنا ہے جو ان ملکوں کے امریکی مالیاتی،اقتصادی اور تجارتی بندھنوں سے نجات دلاسکے۔
ٹیرف کی پابندیوں ، ڈیوٹیز ،ٹیکسز اور دیگر سیاسی دباؤ الگ رہتے ہوئے ان مکلکوں کی املیات اور تجارتی میکنزم کو آزادانہ بنیادوں پر اپنا تشخص مل سکے اور تمام ملک ایک اتحاد اور مالیاتی یونین کے طور پر بالادست اور اجارہ دار مغرب کے چنگل سے نکل جائیں۔ ظاہر ہے عالمی منڈیوں پرچھائی ہوئے سپر طاقتوں کے لیے ترکی،ایران ، ملائیشیا اور قطر سمیت دیگر ملکوں کی مشترکہ اقتصادی سوچ کسی تھرتھلی سے کم نہیں، اس پیداشدہ صورت حال کی ایک جھلک الجزیرہ انگلش چینل ''فلیگ شپ'' نے اپنے حالیہ اداریہ میں دکھائی ہے جس میں ترکی اور قطر کے سابقہ تعلقات اور حالیہ اتحاد کو بلڈوز کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم چینل نے ترکی کی شام کی صورت حال میں ملوث ہونے اور کردوں کے حوالے سے جارحانہ جنگی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
ادھر بعض ذرایع ابلاغ ترکی اور قطر کے درمیان اتحاد میں دراڑ کی پیش گوئی کررہے ہیں، یہ کہا جارہا ہے کہ ترکی اور قطر اتحاد خطرہ میں ہے، کوشش یہ کی جارہی کہ قطرکو 2022 فیفا عالمی فٹبال کب کے انعقاد اور سٹیڈیمز کی تیاریوں کے بڑے منصوبے سے پسپاکردیا جائے، قطر اور ترکی کے درمیان کشمکش کو ہوا دینے میں امریکی اور دیگر ترکی و قطر مخالف ریاستوں کی سرگرمیاں بھی میڈیا میں ڈسکس ہورہی ہیں۔
ذرایع نے کوالالمپور کانفرنس کے ساتھ ہی ترکی اور قطر کو نکتہ چینیوں کا نشانہ بنانے کے ذمے دار بعض عناصر یہ موقف اختیار کررہے ہیں کہ الجزیرہ کو مالی فنڈز قطر کی حکومت دیتی ہے تاہم قطر ہی کے خلاف مہم میں یہی ابلاغی ذرایع استعمال ہورہے ہیں، ترکی میں اس وقت 35 لاکھ مہاجرین موجود ہیں، ادھر شام کی صورت حال تشویشناک ہے، ترکی معیشت زیر بار بھی ہے تاہم کوالالمپور کانفرنس کے شرکا اس میں اقتصادی، مالیاتی، کارنسی،اور معاشی بریک تھرو کی سلور لائننگ دیکھ رہے ہیں، ایک طرف تیسری دنیا کے غریب ملک ہیں۔
دوسری طرف جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک ہیں جنھیں شدید معاشی مسائل، غربت، سماجی انتشار، داخلی اضطراب اور بدامنی و جرائم کی سنگینی کا سامنا ہے، ان کے بجٹ تلپٹ ہورہے ہیں، عوام کو کہیں بھی ریلیف نہیں مل رہا، مستحکم معیشتوں میں بحران سر اٹھا رہے ہیں فرانس میں پیلی جیکٹوں کی تحریک تاحال چل رہی ہے، پولینڈ سمیت دیگر مغربی ملک بھی دہشت گردی اور معاشی دباؤ سے سخت مشکلات میں ہیں، جن ملکوں میں علاقائی اتحاد اور ،معاشی مشترکہ اقتصادی فورمز بنے ہیں ، یا نئے اقتصادی بلاک بن رہے ہیں انھیں بھی امریکا،چین،روس، فرانس،جرمنی،برطانیہ ، یونان، اٹلی کی داخلی معاشی صورتحال کو ملنے والے دھچکوں کے اشارے مل رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ پر اگرچہ امریکی معیشت و صنعت کی تباہی کا کھلا الزام نہیں لگا مگرمواخذہ کی بنیاد ان کے '' امریکا پہلے '' کے نعرہ کا کھوکلا پن بھی ہے، دنیا خطرناک حد تک سیاسی و معاشی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اب ہر ملک اس بات کی کوشش میں ہے کہ کسی بڑی طاقت کا طفیلی بن کر نہ رہے بلکہ مختلف الخیال ممالک ریجنل لائن پر ایسے اقتصادی اتحاد تشکیل دیں جن کی بنیاد مساوات، غیر اجارہ دارانہ اقتصادی پالیسیوں پر ہو اور وہ اور آزاد منڈیوں تک رسائی، ممکنہ طور پر ایک کرنسی اور گلوبلائزیشن کی یلغار اور غیر ضروری دباؤ اور شدت سے محفوظ رہ سکے،اس کی معاشی ضروریات کی تکمیل کسی منہ زور طاقت کے انحصار یا معاشی غلامی پر نہ ہو۔
اسی لیے بلاک تشکیل پارہے ہیں، چین اور امریکا کے درمیان زبردست تجارتی جنگ جاری ہے،برطانیہ نئے وزیراعظم بورس جانسن کی قیادت میں یورپی یونین سے الگ ہونے کی تیاری کررہاہے چونکہ عہد جدید اقتصادی طاقت پر انحصادر کی صدی ہے، کوئی ملک سیاسی طور پر اس وقت تک طاقتور نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی معیشت مستحکم اور پائیدار بنیادوںپر قائم نہ ہو، اور اس کے عوام خوشحال اورآسودہ بھی ہوں۔ یہ پیغام دنیا کے ہر تقری پذیر ملک کی خواہش اور عملی کوشش ہے۔
اب جہاں تک کوالالمپورکانفرنس سے پاکستان کی عدم شرکت کا سوال ہے تویہ بھی عالمی اقتصادی دباؤہی کاشاخسانہ ہے، پاکستان کی حکمرانوں کو صائب راستہ منتخب کرنا ہوگا،ملائیشیا کے مرد ہنر مند مہاتیر محمد نے کیا خرد افروز بات کی ہے کہ بھارتی شہریت قانون امتیازی ہے، لوگ 70 سال سے اکھٹے رہ رہے ہیں، تو اس کی کیا ضرورت ہے۔ وجہ کرسٹل کلیئر یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے، معاشی ترجیحات ہر ملک کی اسے اپنے عوام کو محفوظ معیشت کے محور پر جمع کرہی ہے،اب یہ ہمارے ارباب اختیارات کی دور اندیشی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
ملائیشیا میں ہونے والی کوالالمپورسمٹ میں 20 اسلامی ملکوں نے باہمی تجارت کے لیے ترسیل زر کا نیا نظام بنانے ،ڈالر کے بجائے اپنی متبادل کرنسی لانے کا اعادہ کیاگیا۔ ترک صدرطیب اردوان نے کہا معاشی جنگ اس دور کا بڑا مسئلہ ہے،ہمیں تجارت میں امریکی ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی استعمال کرنے کے لیے ترسیل زر کا نیا نظام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہمیں اسلامی معیشت کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے اور ترکی نے اس پر ابتدائی کام شروع کر دیا ہے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی مسلم ممالک کی اپنی کرنسی بنانے کی تجویز کی حمایت کی ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اپنی کریپٹو کرنسی بنا سکتے ہیں، کریپٹو کرنسی پر بیوروکریسی اور مارکیٹ کا اتار چڑھا اثر انداز نہیں ہو گا۔ اپنی کرنسی کے استعمال سے مسلم ممالک کا امریکا پر انحصار کم ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ ماضی میں ڈاکٹر مہاتیر محمد نے بھی اسلامی دینار بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ یاد رہے کہ کوالالمپور سمٹ میں 52ممالک کے 400نمایندوں سمیت 250 سیاستدان، صدور اور رہنما شریک ہوئے ۔ کوالالمپور سمٹ اعلامیے کے مطابق ترکی اور ملائشیا اب قطرکے ساتھ مل کر چینل بنائیں گے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب کے بعد دورہ ملائیشیا منسوخ کر دیا تھا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ملائیشیا،ایران،قطر سمیت عالمی کانفرنس میں دیگر شریک ممالک سے تعاون جاری رہے گا، جو معاشی، سماجی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ سائنس وٹیکنالوجی کے اہم معاملات پر بھی اپنی مشاورت اور بات چیت کا تسلسل جاری رکھے گا،طیب ا ردوان نے کوالالمپور سے ترکی روانگی کے موقع پر کہا کہ کانفرنس کے شرکا نے علاقائی ترقی، تحقیق، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، دفاع اور معاشی و مالیاتی شعبوں میں وسیع تر تعاون پر تفصیلی مکالمہ کیا ہے اور اہم سفارشات تیارکیں۔
انھوں نے مزید کہاکہ ان ممالک کے مابین اقتصادی ،تکنیکی، اور ترقی کے معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ،ان کا کہنا تھا اس نوعیت کی باتچیت کا سلسل جاری رہے گا، انھوں نے یقین دلایا کہ ملائشیااور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوںگے اور شرکائے کانفرنس سے مکالمہ کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
کوالالمپور عالمی کانفرنس کو سیاسی اور اقتصادی مبصرین مغربی حلقوں کے لیے ایک طبل جنگ قرار دے رہے ہیں، ان کا کہا ہے کہ دنیا ایک نئے اقتصادی ،سماجی، دفاعی اور مشترکہ مفادات پر مبنی زمینی حقائق اور تعلقات کے محور پر جمع ہو رہی ہے، 18 دسمبر سے 21دسمبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کا ایجنڈا اسلامی ملکوں کے اقتصادی اور مالیاتی مسائل کا ایک ایسا حل تلاش کرنا ہے جو ان ملکوں کے امریکی مالیاتی،اقتصادی اور تجارتی بندھنوں سے نجات دلاسکے۔
ٹیرف کی پابندیوں ، ڈیوٹیز ،ٹیکسز اور دیگر سیاسی دباؤ الگ رہتے ہوئے ان مکلکوں کی املیات اور تجارتی میکنزم کو آزادانہ بنیادوں پر اپنا تشخص مل سکے اور تمام ملک ایک اتحاد اور مالیاتی یونین کے طور پر بالادست اور اجارہ دار مغرب کے چنگل سے نکل جائیں۔ ظاہر ہے عالمی منڈیوں پرچھائی ہوئے سپر طاقتوں کے لیے ترکی،ایران ، ملائیشیا اور قطر سمیت دیگر ملکوں کی مشترکہ اقتصادی سوچ کسی تھرتھلی سے کم نہیں، اس پیداشدہ صورت حال کی ایک جھلک الجزیرہ انگلش چینل ''فلیگ شپ'' نے اپنے حالیہ اداریہ میں دکھائی ہے جس میں ترکی اور قطر کے سابقہ تعلقات اور حالیہ اتحاد کو بلڈوز کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم چینل نے ترکی کی شام کی صورت حال میں ملوث ہونے اور کردوں کے حوالے سے جارحانہ جنگی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
ادھر بعض ذرایع ابلاغ ترکی اور قطر کے درمیان اتحاد میں دراڑ کی پیش گوئی کررہے ہیں، یہ کہا جارہا ہے کہ ترکی اور قطر اتحاد خطرہ میں ہے، کوشش یہ کی جارہی کہ قطرکو 2022 فیفا عالمی فٹبال کب کے انعقاد اور سٹیڈیمز کی تیاریوں کے بڑے منصوبے سے پسپاکردیا جائے، قطر اور ترکی کے درمیان کشمکش کو ہوا دینے میں امریکی اور دیگر ترکی و قطر مخالف ریاستوں کی سرگرمیاں بھی میڈیا میں ڈسکس ہورہی ہیں۔
ذرایع نے کوالالمپور کانفرنس کے ساتھ ہی ترکی اور قطر کو نکتہ چینیوں کا نشانہ بنانے کے ذمے دار بعض عناصر یہ موقف اختیار کررہے ہیں کہ الجزیرہ کو مالی فنڈز قطر کی حکومت دیتی ہے تاہم قطر ہی کے خلاف مہم میں یہی ابلاغی ذرایع استعمال ہورہے ہیں، ترکی میں اس وقت 35 لاکھ مہاجرین موجود ہیں، ادھر شام کی صورت حال تشویشناک ہے، ترکی معیشت زیر بار بھی ہے تاہم کوالالمپور کانفرنس کے شرکا اس میں اقتصادی، مالیاتی، کارنسی،اور معاشی بریک تھرو کی سلور لائننگ دیکھ رہے ہیں، ایک طرف تیسری دنیا کے غریب ملک ہیں۔
دوسری طرف جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک ہیں جنھیں شدید معاشی مسائل، غربت، سماجی انتشار، داخلی اضطراب اور بدامنی و جرائم کی سنگینی کا سامنا ہے، ان کے بجٹ تلپٹ ہورہے ہیں، عوام کو کہیں بھی ریلیف نہیں مل رہا، مستحکم معیشتوں میں بحران سر اٹھا رہے ہیں فرانس میں پیلی جیکٹوں کی تحریک تاحال چل رہی ہے، پولینڈ سمیت دیگر مغربی ملک بھی دہشت گردی اور معاشی دباؤ سے سخت مشکلات میں ہیں، جن ملکوں میں علاقائی اتحاد اور ،معاشی مشترکہ اقتصادی فورمز بنے ہیں ، یا نئے اقتصادی بلاک بن رہے ہیں انھیں بھی امریکا،چین،روس، فرانس،جرمنی،برطانیہ ، یونان، اٹلی کی داخلی معاشی صورتحال کو ملنے والے دھچکوں کے اشارے مل رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ پر اگرچہ امریکی معیشت و صنعت کی تباہی کا کھلا الزام نہیں لگا مگرمواخذہ کی بنیاد ان کے '' امریکا پہلے '' کے نعرہ کا کھوکلا پن بھی ہے، دنیا خطرناک حد تک سیاسی و معاشی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اب ہر ملک اس بات کی کوشش میں ہے کہ کسی بڑی طاقت کا طفیلی بن کر نہ رہے بلکہ مختلف الخیال ممالک ریجنل لائن پر ایسے اقتصادی اتحاد تشکیل دیں جن کی بنیاد مساوات، غیر اجارہ دارانہ اقتصادی پالیسیوں پر ہو اور وہ اور آزاد منڈیوں تک رسائی، ممکنہ طور پر ایک کرنسی اور گلوبلائزیشن کی یلغار اور غیر ضروری دباؤ اور شدت سے محفوظ رہ سکے،اس کی معاشی ضروریات کی تکمیل کسی منہ زور طاقت کے انحصار یا معاشی غلامی پر نہ ہو۔
اسی لیے بلاک تشکیل پارہے ہیں، چین اور امریکا کے درمیان زبردست تجارتی جنگ جاری ہے،برطانیہ نئے وزیراعظم بورس جانسن کی قیادت میں یورپی یونین سے الگ ہونے کی تیاری کررہاہے چونکہ عہد جدید اقتصادی طاقت پر انحصادر کی صدی ہے، کوئی ملک سیاسی طور پر اس وقت تک طاقتور نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی معیشت مستحکم اور پائیدار بنیادوںپر قائم نہ ہو، اور اس کے عوام خوشحال اورآسودہ بھی ہوں۔ یہ پیغام دنیا کے ہر تقری پذیر ملک کی خواہش اور عملی کوشش ہے۔
اب جہاں تک کوالالمپورکانفرنس سے پاکستان کی عدم شرکت کا سوال ہے تویہ بھی عالمی اقتصادی دباؤہی کاشاخسانہ ہے، پاکستان کی حکمرانوں کو صائب راستہ منتخب کرنا ہوگا،ملائیشیا کے مرد ہنر مند مہاتیر محمد نے کیا خرد افروز بات کی ہے کہ بھارتی شہریت قانون امتیازی ہے، لوگ 70 سال سے اکھٹے رہ رہے ہیں، تو اس کی کیا ضرورت ہے۔ وجہ کرسٹل کلیئر یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے، معاشی ترجیحات ہر ملک کی اسے اپنے عوام کو محفوظ معیشت کے محور پر جمع کرہی ہے،اب یہ ہمارے ارباب اختیارات کی دور اندیشی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔