تھر کا کوئلہ 500 سال تک بجلی کی ضرورت پوری کرسکتا ہے رپورٹ
دنیا بھر میں 41 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے، پاکستان میں یہ شرح صرف0.1 فیصد ہے
پاکستان میں بجلی کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.1 فیصد حصہ کوئلے سے پیدا کیا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل
تھر میں کوئلے کے ذخائر 175 ارب ٹن سے زائد ہیں۔ آر ڈبلیو ای جرمنی کی رپورٹ کے مطابق تھر میں کوئلے کے ذخائر کے بلاک نمبر 2 میں کوئلے کے مجموعی ذخائر کے ایک فیصد کے قریب ذخائر موجود ہیں جن میں سے 1.57 ارب ٹن کان کنی کے قابل ہیں جس سے 500 سال تک 5000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 41 فیصد بجلی کوئلے کی مدد سے پیدا کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں بجلی کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.1 فیصد حصہ کوئلے سے پیدا کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں کوئلے کی مدد سے 41فیصد، گیس سے 21 فیصد، پانی سے 16 فیصد، نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے 13 فیصد جبکہ تیل سے 5 فیصد اور متبادل ذرائع سے 3 فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
آر ڈبلیو ای کے مطابق پاکستان میں تیل کی مدد سے 36 فیصد، گیس سے 29 فیصد اور پانی سے 29 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اسی طرح بھارت اور چین میں کوئلے کی مدد سے بالترتیب 68 اور 79 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ شعبہ توانائی کے ماہرین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کا واحد حل کوئلے کی مدد سے سستی بجلی پیدا کرکے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ تیل کے درآمدی بل میں کمی کی جا سکتی ہے جس سے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 41 فیصد بجلی کوئلے کی مدد سے پیدا کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں بجلی کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.1 فیصد حصہ کوئلے سے پیدا کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں کوئلے کی مدد سے 41فیصد، گیس سے 21 فیصد، پانی سے 16 فیصد، نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے 13 فیصد جبکہ تیل سے 5 فیصد اور متبادل ذرائع سے 3 فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
آر ڈبلیو ای کے مطابق پاکستان میں تیل کی مدد سے 36 فیصد، گیس سے 29 فیصد اور پانی سے 29 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اسی طرح بھارت اور چین میں کوئلے کی مدد سے بالترتیب 68 اور 79 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ شعبہ توانائی کے ماہرین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کا واحد حل کوئلے کی مدد سے سستی بجلی پیدا کرکے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ تیل کے درآمدی بل میں کمی کی جا سکتی ہے جس سے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔