اسلحہ لائسنس کے پیچیدہ تصدیقی عمل سے شہری مشکلات کا شکار
شہریوں کو قطار میں کھڑے رکھنے کے بعد ریکارڈ کی غیر موجودگی کا بتایا جانے لگا ،لائسنس برانچ میں تصدیق کرانیوالے پریشان
اسلحہ لائسنس برانچ میں1987 سے 2013 تک کے اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ موجود ہے ۔ فوٹو: فائل
TRIPOLI:
حکومت کی جانب سے اسلحہ لائسنس کی تصدیق اور نادرا کے ریکارڈ پر لانے کے اعلان پر ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں قائم اسلحہ لائسنس برانچوں میں شہریوں کا رش لگ گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر آفس ضلع وسطی کے اسلحہ لائسنس برانچ میں تصدیق کرانے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے،ذرائع کے مطابق اسلحہ لائسنس برانچ میں1987 سے 2013 تک کے اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ موجود ہے، شہریوں کو ابتدائی طور پر اصل لائسنس دکھانے اور اس کے ساتھ لائسنس اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی جمع کرانے کے بعد ایک ہزار روپے فیس چالان کے ساتھ ایک فارم دیا جا رہا ہے جس میں تمام تفصیلات ، تصاویر اور دیگر دستاویزات طلب کی گئی ہیں ،2001 سے2011 تک اسلحہ لائسنس حاصل کرنے والوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے جس کے بعد ریکارڈ کی تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا،اسلحہ لائسنس برانچ میں تصدیق کے لیے آنے والے شہریوں کو مشکل طریقہ کار سے شدید مشکلات کا سامنا ہے،جب شہری گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے بعد کھڑکی پر پہنچتے ہیں تو انھیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے لائسنس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے اور وہ کچھ روز کے بعد دوبارہ آکر معلوم کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف کراچی سے جاری ہونے والے اسلحہ لائسنسوں کی تصدیق کی جارہی ہے کراچی سے باہر کے اسلحہ لائسنس کے حامل شہریوں کو واپس کیا جارہا ہے ،عملے کا کہنا ہے کہ ابھی شہر سے باہر کے لائسنسوں کی تصدیق کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،لائسنس برانچ کا عملہ صرف لائسنس چیک کرتا ہے جبکہ وہاں پر موجود نادرا کا عملہ درست ریکارڈ کے حامل افراد کا اسلحہ لائسنس نمبر ، شناختی کارڈ نمبر اور فراہم کیے جانے والے فارم کا نمبر کمپیوٹر میں درج کرتا ہے، فارم بھرنے کے بعد جمع کراتے وقت ایک تصویر فارم پر چسپاں اور پاسپورٹ سائز کی 2تصاویر،اسلحہ لائسنس کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی اور شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی منسلک کی جاتی ہے ،سرکاری ادارے کے ملازمین کو محکمے کا لیٹر بھی جمع کرانا ہوتا ہے،ایسے افراد جنھوں نے 1998 سے2001 تک جاری اسلحہ لائسنس کی تصدیق نہیں کرائی انھیں یہ بول کر واپس کردیا جاتا ہے کہ ابھی ایسے اسلحہ لائسنسوں کے لیے ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اسلحہ لائسنس کی تصدیق اور نادرا کے ریکارڈ پر لانے کے اعلان پر ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں قائم اسلحہ لائسنس برانچوں میں شہریوں کا رش لگ گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر آفس ضلع وسطی کے اسلحہ لائسنس برانچ میں تصدیق کرانے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے،ذرائع کے مطابق اسلحہ لائسنس برانچ میں1987 سے 2013 تک کے اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ موجود ہے، شہریوں کو ابتدائی طور پر اصل لائسنس دکھانے اور اس کے ساتھ لائسنس اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی جمع کرانے کے بعد ایک ہزار روپے فیس چالان کے ساتھ ایک فارم دیا جا رہا ہے جس میں تمام تفصیلات ، تصاویر اور دیگر دستاویزات طلب کی گئی ہیں ،2001 سے2011 تک اسلحہ لائسنس حاصل کرنے والوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے جس کے بعد ریکارڈ کی تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا،اسلحہ لائسنس برانچ میں تصدیق کے لیے آنے والے شہریوں کو مشکل طریقہ کار سے شدید مشکلات کا سامنا ہے،جب شہری گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے بعد کھڑکی پر پہنچتے ہیں تو انھیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے لائسنس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے اور وہ کچھ روز کے بعد دوبارہ آکر معلوم کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف کراچی سے جاری ہونے والے اسلحہ لائسنسوں کی تصدیق کی جارہی ہے کراچی سے باہر کے اسلحہ لائسنس کے حامل شہریوں کو واپس کیا جارہا ہے ،عملے کا کہنا ہے کہ ابھی شہر سے باہر کے لائسنسوں کی تصدیق کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،لائسنس برانچ کا عملہ صرف لائسنس چیک کرتا ہے جبکہ وہاں پر موجود نادرا کا عملہ درست ریکارڈ کے حامل افراد کا اسلحہ لائسنس نمبر ، شناختی کارڈ نمبر اور فراہم کیے جانے والے فارم کا نمبر کمپیوٹر میں درج کرتا ہے، فارم بھرنے کے بعد جمع کراتے وقت ایک تصویر فارم پر چسپاں اور پاسپورٹ سائز کی 2تصاویر،اسلحہ لائسنس کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی اور شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی منسلک کی جاتی ہے ،سرکاری ادارے کے ملازمین کو محکمے کا لیٹر بھی جمع کرانا ہوتا ہے،ایسے افراد جنھوں نے 1998 سے2001 تک جاری اسلحہ لائسنس کی تصدیق نہیں کرائی انھیں یہ بول کر واپس کردیا جاتا ہے کہ ابھی ایسے اسلحہ لائسنسوں کے لیے ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔