افغان صدارتی الیکشن

افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 97لاکھ ہے جن میں 33فیصد خواتین ووٹر بھی شامل ہیں

افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 97لاکھ ہے جن میں 33فیصد خواتین ووٹر بھی شامل ہیں۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اشرف غنی دوسری بار کامیاب ہو گئے۔ افغان الیکشن کمیشن نے 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کر دیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اشرف غنی نے مجموعی ووٹ کے 50.06 فیصد حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل عبداللہ عبداللہ 39.52ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ ہارنے والے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کو فراڈ قرار دیا ہے، انھوں نے الزام لگایا کہ افغان الیکشن کمیشن نے اشرف غنی کو سپورٹ کیا جس کی وجہ سے وہ کامیاب ہوئے۔

افغانستان اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہے' ملک کے ایک بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے جب کہ افغان حکومت کا اختیار اور کنٹرول کابل' قندھار سمیت چند ایک علاقوں تک محدود ہے۔ اس سب کے باوجود وہاں جمہوری عمل کو کامیاب بنانے کے لیے تسلسل سے انتخابات کا انعقاد خوش آئند ہے، اگرچہ ان حالیہ صدارتی انتخابات میں مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ صرف 18فیصد رہا جو گزشتہ صدارتی انتخابات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، پہلے صدارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ 70فیصد تھا۔

افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 97لاکھ ہے جن میں 33فیصد خواتین ووٹر بھی شامل ہیں۔ اتوار کو افغان الیکشن کمیشن کی سربراہ حوا عالم نورستانی نے نیوز کانفرنس میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی دھمکیوں اور سیکیورٹی صورت حال کے باعث مجموعی طور پر صرف18لاکھ 24ہزار ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ خوفزدہ افغان عوام کی بڑی تعداد نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا اور وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق عوام کی بڑی تعداد کا الیکشن میں حصہ نہ لینا لمحہ فکریہ ہے اور اس کا واضح مطلب انتخابی عمل اور حکومت پر عدم اعتماد کا مظہر ہے' یوں معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی اکثریت موجودہ اشرف غنی حکومت سے مطمئن نہیں۔ اگرچہ عوام کی بہت کم تعداد نے انتخابات میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ووٹ کاسٹ کیے لیکن اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں تسلسل کے ساتھ الیکشن کا ہونا اور حکومت کا انتخاب خوش آئند ہے۔

ورنہ پاکستان سمیت دنیا میں ایسے مسلم ممالک بھی ہیں جہاں جمہوریت کی راہ میں آمریت نے بار بار رکاوٹ ڈالی اور اقتدار پر قبضہ جمائے رکھا۔ حقیقتاً افغانستان میں امریکا کا کنٹرول ہے لہٰذا وہاں انتہائی کشیدہ اور مشکل حالات میں بھی آمریت کے بجائے جمہوریت راستے کو ترجیح دی گئی ۔


افغان صدارتی انتخابات میں 18امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم بعدازاں 5امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے یوں صدارتی انتخابات میں 13امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوا جس میں موجودہ افغان صدر محمد اشرف غنی کا پلڑا بھاری رہا اور انھوں نے سب سے زیادہ 9لاکھ 23ہزار ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے 7لاکھ 20ہزار ووٹ حاصل کیے، دوسری جانب گلبدین حکمت یار نے بھی 70242 ووٹ حاصل کیے۔

گلبدین حکمت یار کا تعلق جہادی گروپ سے چلا آ رہا ہے اور وہ طالبان کے ہمراہ امریکا سے امن مذاکرات میں بھی شریک رہے لیکن اس سب کے باوجود افغان عوام کی اکثریت نے انھیں منتخب نہیں کیا اور وہ مقابلتاً بہت کم ووٹ حاصل کرسکے۔

افغان صدارتی انتخابات کے نتائج پر کابل میں تعینات امریکی جان آربیس کے مطابق افغان صدارتی الیکشن کے نتائج ابھی ابتدائی ہیں' حتمی نتائج کی توثیق سے پہلے کئی مراحل باقی ہیں۔ ہارنے والے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ پہلے ہی انتخابی نتائج کی تاخیر پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

اسی طرح دیگر صدارتی امیدواروں نے بھی انتخابی نتائج کے بار بار معطل ہونے پر اشرف غنی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ افغانستان کے گزشتہ صدارتی انتخابات میں بھی اسی طرح دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے اور تب بھی صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے نتائج ماننے سے انکار کر دیا تھاتاہم عالمی قوتوں نے دونوں کے درمیان شراکت اقتدار کا معاہدہ کرا دیا تھا جس کے مطابق اشرف غنی صدر بنے اور عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹوکا عہدہ تفویض کیا گیا تھا۔

افغان الیکشن قوانین کے مطابق کسی بھی امیدوار کو حتمی نتائج سے پہلے کسی بھی قسم کی شکایت یا درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی سربراہ حوا عالم نورستانی نے واضح کر دیا کہ یہ حتمی سرکاری نتائج نہیں اور اشرف غنی کے انتخابی مخالفین ابتدائی نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ انتخابات میں ہر امیدوار اپنی جیت کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے، اسی لیے ہارنے والا امیدوار نتائج کو قبول نہ کرتے ہوئے فوراً دھاندلی کے الزامات عائد کر دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار کیا فارمولہ تیار ہوتا ہے ۔
Load Next Story