آگسٹا آبدوزیں سرکوزی پاکستان سے معاہدے کے حامی تھے نہ کمیشن لیا نئی تفتیش

ٹیکنالوجی کی منتقلی اورآبدوزوں کی تیاری پرمامور افراد کے تحفظ کو نظرانداز کرکے معاہدہ کیا گیا

یکنالوجی کی منتقلی اورآبدوزوں کی تیاری پرمامور افراد کے تحفظ کو نظرانداز کرکے معاہدہ کیا گیا،پیٹریسیا لیپلاڈکاتفتیش کاروں اور ٹیکس حکام کے سامنے بیان. فوٹو

پاکستان کو آگسٹا آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں کمیشن لینے کے معاملے پر فرانس میں ہونے والی تحقیقات کے دوران نیا انکشاف ہوا ہے۔

فرانس کے اس وقت کے وزیرخزانہ نکولس سرکوزی (بعدازاں صدر) سمیت کئی وزرأ نے اس ڈیل کی مخالفت کی تھی اور سرکوزی اس سودے میں ملوث نہیں تھے۔ فرانسیسی اخبار '' لامونڈ'' نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاکہ فرانس کی وزارت بجٹ (خزانہ) میں 30 سال سے زیادہ عرصے تک خدمت انجام دینے والی پالیسی آفیسر اور آگسٹا سودوں میں شامل پیٹریسیا لیپلاڈ نے تفتیش کاروں کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان سے معاہدہ سرکوزی کے دباؤ پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ معاہدہ ان کی مرضی کے خلاف ہوا، محکمہ خزانہ نہیں بلکہ وزارت دفاع اس کے حق میں تھی، ہماری وزارت کے حکام کراچی میں آبدوزوں کی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے خلاف تھے۔


ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آبدوزوں کی تیاری پر مامور افراد کے تحفظ کو نظرانداز کرکے معاہدہ کیا گیا۔ نیشنل ڈویژن آف فنانشل انویسٹی گیشن اور ٹیکس حکام کے سامنے لیپلاڈ کا اصرار تھا کہ فرانسیسی حکومت کے کئی اہم ارکان نے پاکستان سے معاہدے کی مخالفت کی تھی، جن میں وزیر اکانومی الفاندریور، وزیر بجٹ نکولس سرکوزی شامل ہیں جبکہ وزیردفاع فانکوز لیوٹارڈو اس معاہدے کے حق میں تھے۔ تفتیش کاروں کے سامنے اس بیان کو بھی انھوں نے مسترد کردیا کہ اس وقت کے وزیر بجٹ نکولس سرکوزی نے پاکستان کو آبدوزیں فروخت کرنے کی صورت میں کمیشن کیلیے لکسمبرگ میں 'ہائین' نامی کمپنی کی تشکیل کی باضابطہ منظوری دی۔

انھوں نے کہا کہ اس بات میں بھی حقیقت نہیں کہ اہم نوعیت کے معاہدے کے باعث دفتر کھولنے کا صرف وزارت ہی فیصلہ کرسکتی ہے۔ انھوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں اور میں اس بارے میں باخبر نہیں، میں نہیں جانتی کہ وزارت نے ایسا کوئی پلیٹ فارم منظور کیا ہو، ایسا دفتر کھولنا وزارت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکوزی ہائین میں کسی بھی قسم کا دفتر کھولنے کے حق میں نہیں تھے اور انھیں ایسے کسی معاہدے کا علم نہیں۔ لگسمبرگ پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ نکولس سرکوزی نے 1995 میں بطور وزیرِ خزانہ (بجٹ) دو ایسی کمپنیاں قائم کرنے کی منظوری دی جنھوں نے اسلحہ کے سودے سے کمیشن حاصل کیا اور پھر اس رقم کا کچھ حصہ 1995 کی انتخابی مہم پرخرچ کیا گیا۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ 2002 میں کراچی میں آگسٹا آبدوزوں کے منصوبے پر کام کرنے والے11فرانسیسی انجنیئروں کی ہلاکت بھی کمیشن پر اختلافات کے باعث ہوئی تھی۔ اس وقت کے فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ بلادر نے ایسی کمپنیاں کھولنے کے احکامات دیے جہاں اسلحے کے سودوں سے حاصل ہونے والے کمیشن کی رقم جمع ہوئی جس کا کچھ حصہ انتخابی مہم پر خرچ کیا گیا۔کمپنیوں کو کھولنے کے احکامات براہ راست وزیر اعظم بلادر اور وزیر خزانہ نکولس سرکوزی سے آئے تھے۔ ان الزامات کے مالی پہلو پرعدالتی تحقیق پرمامورججوں نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ آگسٹا آبدوزوں اورسعودی عرب کے ساتھ سوارل معاہدوں کی تفتیش کرے۔
Load Next Story