پنجابی میوزک سے نوجوانوں کا انرجی لیول بڑھ جاتا ہے سکھبیر
راحت اورعاطف کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں، دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات سے امن ہوگا: ایکسپریس کو انٹر ویو
دونوں ممالک کے کلچر، رسم رواج، لوگوں کی مہمان نوازی، لذیزپکوان اورمیوزک نے بیرون ممالک بسنے والوںکو بہت متاثر کیا ہے۔ فوٹو : فائل
فنون لطیفہ کے دلدادہ لوگوں کی دھرتی پاکستان ہمیشہ سے ہی غیرملکی فنکاروںکی توجہ کامرکز رہی ہے۔
یہاں کا کلچر، رسم رواج، لوگوں کی مہمان نوازی، لذیزپکوان اورمیوزک نے بیرون ممالک بسنے والوںکو بہت متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک وطن میں جب کبھی کسی غیرملکی فنکار کو مدعو کیا گیا ہے تو وہ اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے یہاں آیا اورپھر بہترین پرفارمنس پرملنے والی پذیرائی ان کے یادگار لمحات کا حصہ بن کررہ گئی۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں پرفارم کرنے کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ پاپ سٹارسکھبیرآئے تھے۔ ایک ہفتہ سے زائد قیام کے دوران انہوں نے لاہورسمیت دیگرمقامات پرمنعقدہ میوزک کنسرٹس میں پرفارم کیااوران کی عمدہ پرفارمنس پرنوجوانوں نے خوب انجوائے کیا۔ انہوں نے حسب روایت اپنے مقبول گیت پیش کئے جبکہ کنسرٹ میں موجود نوجوانوں کی فرمائش پرفلمی گیت بھی سناتے رہے۔ لاہورمیں قیام کے دوران سکھبیر نے '' نمائندہ ایکسپریس '' کوخصوصی انٹرویودیا جوقارئین کی نذرہے۔
سکھبیرنے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ 1995ء میںپرفارم کرنے کیلئے آیا تھا۔ پہلی بار یہاں پر فارم کرنے پر اتنا اچھا رسپانس ملا کہ اب تویہاں آتا رہتا ہوں۔ لیکن اس بار بہت لمبادورہ رہا ہے۔ میرے پروموٹر اورشوآرگنائزر حسن ملک نے9 پروگراموں کا معاہدہ کیا تھا۔بڑے عرصے کے بعد پاکستان میں پرفارم کرکے بہت اچھا لگا۔ پنجابی نوجوانوں نے جب پنجابی گیت سنے توان کا انرجی لیول بڑھنے لگا اوران کے رسپانس پرمیرا بھی انرجی لیول بڑھتا رہا۔
بہت اچھا رسپانس ملا لیکن ایک ہفتے میں 9پروگرام کرکے کچھ تھکاوٹ بھی ہوگئی ہے مگریہ تجربہ بہت اچھا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ میں کینیا کا شہری ہوں لیکن لوگ مجھے بھارتی آرٹسٹ سمجھتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا ہوں۔ میں کینا کا شہری ہوں مگرگزشتہ 20 برس سے دبئی میں رہتاہوں۔ میری شہزاد رائے سے اچھی دوستی ہے۔ شہزادرائے کے ساتھ ایک گیت ''جناں کرلوگے پیار''ریکارڈ کیاتھا جس کا بہت اچھا رسپانس سامنے آیا تھا۔ ہمارے گیت میں ہم نے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ دوایسے لوگ جوالگ ملک اورالگ مذہب سے ہوں لیکن وہ اچھے دوست بن سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم نے پیار، محبت اوربھائی چارے کا پیغام دیا تھا۔ یہ بات توسب جانتے ہیں کہ میوزک کا کوئی مذہب، رنگ نسل نہیں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیجنڈ قوال استاد نصرت فتح علی خاں مرحوم کا بہت بڑا پرستارہوں۔ انہوںنے بہترین اندازسے انڈیا میںکام کیااور بالی وڈ میں انہیں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔ میری یہ خواہش تھی کہ میں بھی ان کے ساتھ کام کرسکتا لیکن میری یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ ملکہ ترنم نورجہاں بھی میری پسندیدہ گلوکارہ تھیں۔
ان کا گیت ''سانوں نہر کے پل تے بلا کے'' کو ریمکس کرکے انہیں ٹریبیوٹ پیش کیا۔گلوکارعارف لوہارکی گئی'' جگنی '' مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں نے وہ یوٹیوب کے ذریعے ایک ملین سے زائد بار سنی اوردیکھی ہے۔پاکستان کے موجودہ گلوکاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سکھبیر نے کہا کہ گلوکارعاطف اسلم کی آواز بہت یونیک ہے۔ جبکہ راحت فتح علی خاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کے دبئی میں منعقدہ میوزک کنسرٹ میں شریک ہوتا ہوں اورایک بارہم نے پرفارم بھی کیا تھا۔مستقبل میں راحت فتح علی خاں اورعاطف اسلم کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہتا ہوں۔
پہلے گلوکارکی آمدن کا ذریعہ سی ڈی ، کیسٹ کی فروخت سے تھا۔ جس گلوکارکا البم ہوتا وہی دنیا بھر میں شوکرتادکھائی دیتاتھا۔ مگراب ٹیکنالوجی کا دورہے۔ بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب ایک سنگرکوخود سرمایہ لگانا پڑتاہے۔
ایک سوال کے جواب میں سکھبیر نے کہا کہ انٹرنیٹ پر گیت ڈاؤن لوڈکرنے سے ہرکسی کویہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنا گیت لوگوں تک آسانی کے ساتھ پہنچا سکتا۔ اس کا فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی ہے۔ اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بہت سی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ لوگ اب میوزک کا البم تیارکرنے کی بجائے ایک گیت ریکارڈ کرتے ہیں اوراس کا مہنگاویڈیو بنا کراسے سوشل ویب سائٹس پرڈال دیتے ہیں۔ جوراتوں رات پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ پہلے توالبم ریلیز ہونے کے بعدگلوکارکی مقبولیت کااندازہ لگایاجاتاتھا اورشومیں پرفارم کرنے کا موقع ملتا تھا لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ ہرکوئی انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا کام سامنے لارہا ہے۔ جہاں تک بات پائریسی اوررائلٹی کی ہے توپاکستانی گلوکاروں کو''پی آر ایس '' کا ممبر بننا چاہئے۔ اس کی فیس صرف پچاس پاؤنڈ ہے لیکن اس کے بعد جب بھی ان کا گیت مغربی ممالک میں چلایا جائے گا اس کی رائلٹی ملے گی۔
مجھے اس مد میں رائلٹی ملتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں بننے والی ایک نئی فلم میں گیت ریکارڈ کرنے کیساتھ ساتھ اداکاری بھی کرونگا۔ مجھے بطورہیروکاسٹ کیا گیاہے اب دیکھئے اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ؟ ویسے میں کئی برس قبل ایک فلم میں بطورمہمان اداکار پرفارم کرچکاہوں۔ اس لئے اچھا رسپانس ملنے کی امید ہے۔ دیکھاجائے تواس وقت بھارتی پنجاب میں بننے والی فلمیں زبردست بزنس کررہی ہیں۔ بہت سے پنجابی گلوکار فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھارہے ہیں۔
جبکہ بالی وڈ کے بہت سے معروف فلمساز ادارے بھی اب ریجنل فلمیں بنانے پرکام کررہے ہیں۔ایک طرف توفلم کا بجٹ کم ہوتا ہے لیکن اس کا منافع کروڑوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آخرمیں اپنے پیغام میں سکھبیر نے کہا کہ ہماری زبان، کلچر، رہن سہن، رسمیں ایک سی ہیں۔اس لئے ہمیں خطے میں امن اوردوستی کے فروغ کیلئے مل کرکام کرنا چاہئے۔ پاکستان اوربھارت میں بسنے والے لوگ بھی امن، دوستی اوربھائی چارہ چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تواس کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے اور دونوں ملک دوستی اورترقی کی نئی مثال قائم کریں گے۔
یہاں کا کلچر، رسم رواج، لوگوں کی مہمان نوازی، لذیزپکوان اورمیوزک نے بیرون ممالک بسنے والوںکو بہت متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک وطن میں جب کبھی کسی غیرملکی فنکار کو مدعو کیا گیا ہے تو وہ اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے یہاں آیا اورپھر بہترین پرفارمنس پرملنے والی پذیرائی ان کے یادگار لمحات کا حصہ بن کررہ گئی۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں پرفارم کرنے کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ پاپ سٹارسکھبیرآئے تھے۔ ایک ہفتہ سے زائد قیام کے دوران انہوں نے لاہورسمیت دیگرمقامات پرمنعقدہ میوزک کنسرٹس میں پرفارم کیااوران کی عمدہ پرفارمنس پرنوجوانوں نے خوب انجوائے کیا۔ انہوں نے حسب روایت اپنے مقبول گیت پیش کئے جبکہ کنسرٹ میں موجود نوجوانوں کی فرمائش پرفلمی گیت بھی سناتے رہے۔ لاہورمیں قیام کے دوران سکھبیر نے '' نمائندہ ایکسپریس '' کوخصوصی انٹرویودیا جوقارئین کی نذرہے۔
سکھبیرنے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ 1995ء میںپرفارم کرنے کیلئے آیا تھا۔ پہلی بار یہاں پر فارم کرنے پر اتنا اچھا رسپانس ملا کہ اب تویہاں آتا رہتا ہوں۔ لیکن اس بار بہت لمبادورہ رہا ہے۔ میرے پروموٹر اورشوآرگنائزر حسن ملک نے9 پروگراموں کا معاہدہ کیا تھا۔بڑے عرصے کے بعد پاکستان میں پرفارم کرکے بہت اچھا لگا۔ پنجابی نوجوانوں نے جب پنجابی گیت سنے توان کا انرجی لیول بڑھنے لگا اوران کے رسپانس پرمیرا بھی انرجی لیول بڑھتا رہا۔
بہت اچھا رسپانس ملا لیکن ایک ہفتے میں 9پروگرام کرکے کچھ تھکاوٹ بھی ہوگئی ہے مگریہ تجربہ بہت اچھا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ میں کینیا کا شہری ہوں لیکن لوگ مجھے بھارتی آرٹسٹ سمجھتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا ہوں۔ میں کینا کا شہری ہوں مگرگزشتہ 20 برس سے دبئی میں رہتاہوں۔ میری شہزاد رائے سے اچھی دوستی ہے۔ شہزادرائے کے ساتھ ایک گیت ''جناں کرلوگے پیار''ریکارڈ کیاتھا جس کا بہت اچھا رسپانس سامنے آیا تھا۔ ہمارے گیت میں ہم نے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ دوایسے لوگ جوالگ ملک اورالگ مذہب سے ہوں لیکن وہ اچھے دوست بن سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم نے پیار، محبت اوربھائی چارے کا پیغام دیا تھا۔ یہ بات توسب جانتے ہیں کہ میوزک کا کوئی مذہب، رنگ نسل نہیں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیجنڈ قوال استاد نصرت فتح علی خاں مرحوم کا بہت بڑا پرستارہوں۔ انہوںنے بہترین اندازسے انڈیا میںکام کیااور بالی وڈ میں انہیں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔ میری یہ خواہش تھی کہ میں بھی ان کے ساتھ کام کرسکتا لیکن میری یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ ملکہ ترنم نورجہاں بھی میری پسندیدہ گلوکارہ تھیں۔
ان کا گیت ''سانوں نہر کے پل تے بلا کے'' کو ریمکس کرکے انہیں ٹریبیوٹ پیش کیا۔گلوکارعارف لوہارکی گئی'' جگنی '' مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں نے وہ یوٹیوب کے ذریعے ایک ملین سے زائد بار سنی اوردیکھی ہے۔پاکستان کے موجودہ گلوکاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سکھبیر نے کہا کہ گلوکارعاطف اسلم کی آواز بہت یونیک ہے۔ جبکہ راحت فتح علی خاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کے دبئی میں منعقدہ میوزک کنسرٹ میں شریک ہوتا ہوں اورایک بارہم نے پرفارم بھی کیا تھا۔مستقبل میں راحت فتح علی خاں اورعاطف اسلم کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہتا ہوں۔
پہلے گلوکارکی آمدن کا ذریعہ سی ڈی ، کیسٹ کی فروخت سے تھا۔ جس گلوکارکا البم ہوتا وہی دنیا بھر میں شوکرتادکھائی دیتاتھا۔ مگراب ٹیکنالوجی کا دورہے۔ بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب ایک سنگرکوخود سرمایہ لگانا پڑتاہے۔
ایک سوال کے جواب میں سکھبیر نے کہا کہ انٹرنیٹ پر گیت ڈاؤن لوڈکرنے سے ہرکسی کویہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنا گیت لوگوں تک آسانی کے ساتھ پہنچا سکتا۔ اس کا فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی ہے۔ اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بہت سی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ لوگ اب میوزک کا البم تیارکرنے کی بجائے ایک گیت ریکارڈ کرتے ہیں اوراس کا مہنگاویڈیو بنا کراسے سوشل ویب سائٹس پرڈال دیتے ہیں۔ جوراتوں رات پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ پہلے توالبم ریلیز ہونے کے بعدگلوکارکی مقبولیت کااندازہ لگایاجاتاتھا اورشومیں پرفارم کرنے کا موقع ملتا تھا لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ ہرکوئی انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا کام سامنے لارہا ہے۔ جہاں تک بات پائریسی اوررائلٹی کی ہے توپاکستانی گلوکاروں کو''پی آر ایس '' کا ممبر بننا چاہئے۔ اس کی فیس صرف پچاس پاؤنڈ ہے لیکن اس کے بعد جب بھی ان کا گیت مغربی ممالک میں چلایا جائے گا اس کی رائلٹی ملے گی۔
مجھے اس مد میں رائلٹی ملتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں بننے والی ایک نئی فلم میں گیت ریکارڈ کرنے کیساتھ ساتھ اداکاری بھی کرونگا۔ مجھے بطورہیروکاسٹ کیا گیاہے اب دیکھئے اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ؟ ویسے میں کئی برس قبل ایک فلم میں بطورمہمان اداکار پرفارم کرچکاہوں۔ اس لئے اچھا رسپانس ملنے کی امید ہے۔ دیکھاجائے تواس وقت بھارتی پنجاب میں بننے والی فلمیں زبردست بزنس کررہی ہیں۔ بہت سے پنجابی گلوکار فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھارہے ہیں۔
جبکہ بالی وڈ کے بہت سے معروف فلمساز ادارے بھی اب ریجنل فلمیں بنانے پرکام کررہے ہیں۔ایک طرف توفلم کا بجٹ کم ہوتا ہے لیکن اس کا منافع کروڑوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آخرمیں اپنے پیغام میں سکھبیر نے کہا کہ ہماری زبان، کلچر، رہن سہن، رسمیں ایک سی ہیں۔اس لئے ہمیں خطے میں امن اوردوستی کے فروغ کیلئے مل کرکام کرنا چاہئے۔ پاکستان اوربھارت میں بسنے والے لوگ بھی امن، دوستی اوربھائی چارہ چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تواس کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے اور دونوں ملک دوستی اورترقی کی نئی مثال قائم کریں گے۔