ڈرون حملوں پر سخت موقف حصص مارکیٹ سے غیر ملکی سرمائے کا انخلا3 حدیں گر گئیں
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 27 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر9 کروڑ 14 لاکھ 19 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے
مندی کے باعث72.35 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے71 ارب48 کروڑ55 لاکھ15 ہزار393 روپے ڈوب گئے۔ فوٹو: آن لائن
KARACHI:
حکومت کا امریکی ڈرون حملوں پر سخت ردعمل اور خیبرپختونخوا حکومت کی نیٹوسپلائی روکنے کی دھمکی سے امریکا ودیگر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات ممکنہ طور پرخراب ہونے کے خدشات کے منفی اثرات کراچی اسٹاک ایکس چینج کے کاروبار پر بھی مرتب ہوئے جس کی وجہ سے پیر کو نئے مالی ہفتے کے آغاز پر کیپٹل مارکیٹ بدترین مندی کی زد میں رہی اور انڈیکس کی 22600 ،22500 اور22400 کی تین حدیں بیک وقت گر گئیں۔
مندی کے باعث72.35 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے71 ارب48 کروڑ55 لاکھ15 ہزار393 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں نیٹو سپلائی بند کرنے کی دھمکی سے امریکا ودیگربیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے خدشات پرٹریڈرز خصوصاً بیرونی سرمایہ کاروں نے پیر کو مارکیٹ میں تازہ سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جس سے مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی، یہی وجہ ہے کہ کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر مندی کی شدت450 پوائنٹس تک جا پہنچی تھی لیکن اختتامی لمحات پر بعض شعبوں کی نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری سرگرمیوں نے مندی کی شدت کو کم کیا۔
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر27 لاکھ8 ہزار845 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ7 ہزار214 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے 1لاکھ ایک ہزار 245 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ87 ہزار 727 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے3 لاکھ 64 ہزار 354 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے48 ہزار306 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، مندی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 271.26 پوائنٹس کی کمی سے 22377.83 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 216.10 پوائنٹس کی کمی سے 17022.16 اور کے ایم آئی30 انڈیکس465.86 پوائنٹس کی کمی سے 37924.70 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 27 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر9 کروڑ 14 لاکھ 19 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 293 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں63 کے بھائو میں اضافہ، 212 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں باٹا پاکستان کے بھائو 65 روپے بڑھ کر1800 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھائو58.05 روپے بڑھ کر 4550 روپے ہو گئے جبکہ یونی لیور فوڈز کے بھائو 211 روپے کم ہو کر 5301 روپے اور سنوفی ایونٹیز کے بھائو 22.50 روپے کم ہوکر450 روپے ہو گئے۔
حکومت کا امریکی ڈرون حملوں پر سخت ردعمل اور خیبرپختونخوا حکومت کی نیٹوسپلائی روکنے کی دھمکی سے امریکا ودیگر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات ممکنہ طور پرخراب ہونے کے خدشات کے منفی اثرات کراچی اسٹاک ایکس چینج کے کاروبار پر بھی مرتب ہوئے جس کی وجہ سے پیر کو نئے مالی ہفتے کے آغاز پر کیپٹل مارکیٹ بدترین مندی کی زد میں رہی اور انڈیکس کی 22600 ،22500 اور22400 کی تین حدیں بیک وقت گر گئیں۔
مندی کے باعث72.35 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے71 ارب48 کروڑ55 لاکھ15 ہزار393 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں نیٹو سپلائی بند کرنے کی دھمکی سے امریکا ودیگربیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے خدشات پرٹریڈرز خصوصاً بیرونی سرمایہ کاروں نے پیر کو مارکیٹ میں تازہ سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جس سے مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی، یہی وجہ ہے کہ کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر مندی کی شدت450 پوائنٹس تک جا پہنچی تھی لیکن اختتامی لمحات پر بعض شعبوں کی نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری سرگرمیوں نے مندی کی شدت کو کم کیا۔
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر27 لاکھ8 ہزار845 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ7 ہزار214 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے 1لاکھ ایک ہزار 245 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ87 ہزار 727 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے3 لاکھ 64 ہزار 354 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے48 ہزار306 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، مندی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 271.26 پوائنٹس کی کمی سے 22377.83 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 216.10 پوائنٹس کی کمی سے 17022.16 اور کے ایم آئی30 انڈیکس465.86 پوائنٹس کی کمی سے 37924.70 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 27 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر9 کروڑ 14 لاکھ 19 ہزار730 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 293 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں63 کے بھائو میں اضافہ، 212 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں باٹا پاکستان کے بھائو 65 روپے بڑھ کر1800 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھائو58.05 روپے بڑھ کر 4550 روپے ہو گئے جبکہ یونی لیور فوڈز کے بھائو 211 روپے کم ہو کر 5301 روپے اور سنوفی ایونٹیز کے بھائو 22.50 روپے کم ہوکر450 روپے ہو گئے۔