بھارت میں احتجاج کا عمل جاری

مودی جس فاشسٹ ذہنیت کے مالک ہیں اس کی حقیقت اب ساری دنیا پرکھل چکی ہے

مودی جس فاشسٹ ذہنیت کے مالک ہیں اس کی حقیقت اب ساری دنیا پرکھل چکی ہے۔ فوٹو: فائل

بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعدکشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرتے ہوئے ان کے بنیادی حقوق سلب کر لیے تھے۔ بھارتی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 142ویں روز بھی اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ دنیا اپنے تجارتی مفادات کی خاطر خاموش ہے اور اس نے بھارت کی کھل کر مذمت بھی نہیں کی، لیکن مکافات عمل دیکھیے،اس وقت بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

اس قانون کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندوجماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اورکہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے دیگر وزرائے اعلی اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کو ایک خط میں کہا ہے کہ وہ متحد ہوں اورشہریت کا متنازع قانون ماننے سے انکارکر دیں۔ احتجاج کے دوران بھارتی عوام نے کارٹون پر مبنی پوسٹرز اٹھا رکھے تھے، جس پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ہٹلر نے مودی کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا ہوا ہے،کارٹون سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے۔

مودی جس فاشسٹ ذہنیت کے مالک ہیں اس کی حقیقت اب ساری دنیا پرکھل چکی ہے۔ اسی تناظر میں ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مظاہرین کے خلاف غیر ضروری طور پر مہلک طاقت کا استعمال کر رہی ہے جسے بند کرنا چاہیے، تمام اموات حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے زیر اقتدار ریاستوں میں ہوئی ہیں۔

اتر پردیش میں 18 ، آسام میں 5 اورکرناٹک میں 2 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے، جن میں اتر پردیش میں ایک 8 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چنائی کے جرمن طالب علم کو شہریت بل کے خلاف مظاہروں میں شرکت پر بھارت چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا، جس پرکانگریسی رہنما ششی تھرور نے طالب علم کی ملک بدری کو شرمناک کہا ہے۔

ایک طرف بھارت کے اندر متنازع قانون کے تحت تمام اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوچکی ہیں تو دوسری جانب بھارت کی مرکزی کابینہ نے اگلے سال مردم شماری اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر)کے لیے فنڈزکی منظوری دے دی ہے ۔


خبررساںادارے رائٹرزکے مطابق خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ مردم شماری اور سروے سے حاصل کردہ دستاویزات کو مبینہ طور پر شہریوں کی متنازع رجسٹریشن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بھارتی محاصرے سے کشمیریوں کا رابطہ دنیا سے ختم ہوگیا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کا محاصرہ کر رکھا ہے، کشمیریوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، ان کی صحت، عبادت اور ان کے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کشمیر میں پر امن مظاہرے کرنے والوں پر براہ راست گولی چلائی جاتی ہے ، حتیٰ کہ انھیں پیلٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جس سے کئی لوگ اپنی آنکھوں سے محروم ہوگئے۔ عالمی دنیا پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی بند کرے اور بغیر تاخیرکشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ سرینگر سے جاری بیان میں کانگریس کے سینئر رہنما غلام احمد میر نے کہا ہے کہ اب تک بی جے پی حکومت نے جو کچھ کشمیر میں کیا وہ اب بھارت کے دوسرے حصوں میں ہو رہا ہے۔کشمیر میں عوام خاموش ہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا احتجاج ہے۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے بھارت میں شہریت کے نئے قانون سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی حکومت کے اقدام پر تنقید کی اور کہا کہ '' مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ وہ بعض مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدامات کر رہا ہے، اگر ہم ملائیشیا میں ایسا کریں تو مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہوگا۔ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی اور ہرکوئی اس سے متاثر ہوگا'' دراصل مودی اپنی طاقت کے بل بوتے پر سب کچھ کرگزرنا چاہتے ہیں۔

جس سے بھارت میں تقسیم درتقسیم کے عمل سے مزید گہرا ہوتا جائے گا اور بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔ آج پورا بھارت مودی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے، اور یہ احتجاج ضرور رنگ لائے گا۔

بھارت کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے لیے دو قومی نظریے کی اہمیت وافادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے رہبر اور بانی پاکستان قائد اعظم کے وژن کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے ہندوؤں کی تنگ ذہنیت کو سمجھتے ہوئے ہمارے لیے ایک علیحدہ وطن کا قیام ممکن بنایا۔
Load Next Story