پاکستانی ٹیم بیٹنگ کا بھولا سبق پھر سے رٹنے لگی
جنوبی افریقہ کیخلاف تیسرے ون ڈے سے قبل بھرپورپریکٹس،آج بھی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش ہوگی،مصباح
ابوظبی :شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم میں پریکٹس سیشن کے دوران پاکستانی کرکٹرز کوچ ڈیو واٹمور کی ہدایات بغور سن رہے ہیں، فوٹو : اے ایف پی
پاکستانی ٹیم بیٹنگ کا بھولا سبق پھر سے رٹنے لگی، جنوبی افریقہ کیخلاف تیسرے ون ڈے سے قبل پیر کو بھرپور نیٹ پریکٹس کی گئی۔
منگل کو بھی بیٹسمین خامیوں پر قابو پانے کی ایک اور کوشش کریں گے، ٹیم مینجمنٹ ایک بار پھر صرف مضبوط بولنگ کے بل پر میدان مارنے کی خواب دیکھ رہی ہے، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ابھی تک ہماری بیٹنگ چل نہیں پائی، بولنگ ہی ٹیم کی اصل طاقت ہے، ابوظبی میں بیٹسمینوں سے بہتر کارکردگی کی توقع ہوگی۔ دوسری جانب پاکستانی بولرز کا خوف پروٹیزکے دل میں بس گیا، ٹیم مینجمنٹ اسپن اٹیک کو ناکام بنانے کے نت نئے طریقوں پر غور کرنے لگی، ہاشم آملا کی آمد سے بیٹنگ لائن کے سنبھلنے کا امکان ہونے لگا، تیسرے ون ڈے سے مہمان ٹیم کو ڈیل اسٹین کا ساتھ بھی حاصل ہوگا، آل راؤنڈر جین پال ڈومنی نے کہاکہ پاکستانی اٹیک اس وقت دنیا میں نمبر ون ہے، اسپن ٹریکس پر حریف سلو بولرز ہمارے لیے کسی بڑی آزمائش سے کم نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں تیسرے ون ڈے کیلیے میزبان وینیو ابوظبی میں ڈیرے ڈال چکی ہیں، دونوں ٹیموں نے پیر کو شیخ زید اسٹیڈیم میں پریکٹس کی اور منگل کو بھی تیاریاں جانچیںگی،مقابلہ بدھ کو ہونا ہے۔ پاکستانی کپتان مصباح الحق بیٹنگ کے معاملے میں تشویش میں مبتلا مگر ساتھ بولنگ پر نازاں بھی ہیں، انھوں نے کہاکہ ہم اب تک اچھی کرکٹ کھیل چکے، دبئی ہمیں بڑی فتح حاصل ہوئی، ہمارے حوصلے بلند اور ابوظبی میں ایک اور فتح کے لیے پُراعتماد ہیں، انھوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ابھی تک ہماری بیٹنگ نہیں چل پائی مگر اچھی بولنگ ہی ہماری طاقت ہے، ہم اسی کی بل بوتے پر فتح کی کوشش کریں گے، اسی کے ساتھ یہ بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ بیٹسمین بھی زیادہ رنز اسکور کریں۔
ہمارے لیے اگلا میچ جیت کر سیریز میں برتری حاصل کرنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کیلیے ہی اس وقت بیٹنگ تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، گرین شرٹس اپنی ناقابل اعتبار فطرت سے اچھی طرح واقف ہونے کی وجہ سے زیادہ پریشان نہیں مگر پروٹیز کی تشویش کے باعث نیندیں حرام ہونے لگی ہیں،اب تک کھیلے گئے دونوں ون ڈے میچز میں اس کی بیٹنگ لائن بُری طرح ناکام رہی، پہلے میچ تو آخر میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خراب ترین کھیل کی وجہ سے وہ شکست سے بال بال بچے تھے مگر دوسرے میچ میں پاکستان نے66 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کردی۔ جنوبی افریقہ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اہم ترین بیٹسمین ہاشم آملا واپس لوٹ آئے ہیں، وہ پہلے ٹیسٹ کے بعد دوسرے بچے کی پیدائش کے سلسلے میں گھر چلے گئے تھے۔
آملا نے ابوظبی کے پہلے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی تھی، ابتدائی 2 ون ڈے میچز میں آرام پانے والے ڈیل اسٹین نے بھی ٹیم کو دوبارہ جوائن کرلیا، جس سے ٹیم میں تھوڑی بہت جان پیدا ہوئی مگر پاکستانی اسپن اٹیک اس کے حواس پر بُری طرح سوار ہے، بیٹسمین پال ڈومنی نے کہاکہ ہاشم آملا کی واپسی ہمارے لیے کسی بونس سے کم نہیں لیکن اس بات کی ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی کہ وہ آتے ہی رنز کا دریا بہا دیں گے، وہ ہمیں اچھا آغاز فراہم کرسکتے ہیں، آملا پر اس حوالے سے کوئی دباؤ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ کافی تجربہ کار ہیں۔ ڈومنی نے تسلیم کیا کہ ٹیم کیلیے سب سے بڑی آزمائش پاکستانی اسپن اٹیک ہی ہے، انھوں نے کہا کہ جب آپ آغاز میں ہی وکٹیں گنوانا شروع کردیں تو پھر سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے، مجھ سمیت ہمارے بیٹسمین 20، 30 رنز بناکر آؤٹ ہوتے رہے ہیں، ہم اس فارمیٹ میں بڑے اسکور کرچکے، ہمیں اب یہاں پر ویسا ہی پرفارم کرنے کی ضرورت ہے، پوری امید ہے کہ تمام پلیئرز مل کر سیریز کو جنوبی افریقہ کے حق میں موڑدیں گے۔
منگل کو بھی بیٹسمین خامیوں پر قابو پانے کی ایک اور کوشش کریں گے، ٹیم مینجمنٹ ایک بار پھر صرف مضبوط بولنگ کے بل پر میدان مارنے کی خواب دیکھ رہی ہے، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ابھی تک ہماری بیٹنگ چل نہیں پائی، بولنگ ہی ٹیم کی اصل طاقت ہے، ابوظبی میں بیٹسمینوں سے بہتر کارکردگی کی توقع ہوگی۔ دوسری جانب پاکستانی بولرز کا خوف پروٹیزکے دل میں بس گیا، ٹیم مینجمنٹ اسپن اٹیک کو ناکام بنانے کے نت نئے طریقوں پر غور کرنے لگی، ہاشم آملا کی آمد سے بیٹنگ لائن کے سنبھلنے کا امکان ہونے لگا، تیسرے ون ڈے سے مہمان ٹیم کو ڈیل اسٹین کا ساتھ بھی حاصل ہوگا، آل راؤنڈر جین پال ڈومنی نے کہاکہ پاکستانی اٹیک اس وقت دنیا میں نمبر ون ہے، اسپن ٹریکس پر حریف سلو بولرز ہمارے لیے کسی بڑی آزمائش سے کم نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں تیسرے ون ڈے کیلیے میزبان وینیو ابوظبی میں ڈیرے ڈال چکی ہیں، دونوں ٹیموں نے پیر کو شیخ زید اسٹیڈیم میں پریکٹس کی اور منگل کو بھی تیاریاں جانچیںگی،مقابلہ بدھ کو ہونا ہے۔ پاکستانی کپتان مصباح الحق بیٹنگ کے معاملے میں تشویش میں مبتلا مگر ساتھ بولنگ پر نازاں بھی ہیں، انھوں نے کہاکہ ہم اب تک اچھی کرکٹ کھیل چکے، دبئی ہمیں بڑی فتح حاصل ہوئی، ہمارے حوصلے بلند اور ابوظبی میں ایک اور فتح کے لیے پُراعتماد ہیں، انھوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ابھی تک ہماری بیٹنگ نہیں چل پائی مگر اچھی بولنگ ہی ہماری طاقت ہے، ہم اسی کی بل بوتے پر فتح کی کوشش کریں گے، اسی کے ساتھ یہ بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ بیٹسمین بھی زیادہ رنز اسکور کریں۔
ہمارے لیے اگلا میچ جیت کر سیریز میں برتری حاصل کرنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کیلیے ہی اس وقت بیٹنگ تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، گرین شرٹس اپنی ناقابل اعتبار فطرت سے اچھی طرح واقف ہونے کی وجہ سے زیادہ پریشان نہیں مگر پروٹیز کی تشویش کے باعث نیندیں حرام ہونے لگی ہیں،اب تک کھیلے گئے دونوں ون ڈے میچز میں اس کی بیٹنگ لائن بُری طرح ناکام رہی، پہلے میچ تو آخر میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خراب ترین کھیل کی وجہ سے وہ شکست سے بال بال بچے تھے مگر دوسرے میچ میں پاکستان نے66 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کردی۔ جنوبی افریقہ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اہم ترین بیٹسمین ہاشم آملا واپس لوٹ آئے ہیں، وہ پہلے ٹیسٹ کے بعد دوسرے بچے کی پیدائش کے سلسلے میں گھر چلے گئے تھے۔
آملا نے ابوظبی کے پہلے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی تھی، ابتدائی 2 ون ڈے میچز میں آرام پانے والے ڈیل اسٹین نے بھی ٹیم کو دوبارہ جوائن کرلیا، جس سے ٹیم میں تھوڑی بہت جان پیدا ہوئی مگر پاکستانی اسپن اٹیک اس کے حواس پر بُری طرح سوار ہے، بیٹسمین پال ڈومنی نے کہاکہ ہاشم آملا کی واپسی ہمارے لیے کسی بونس سے کم نہیں لیکن اس بات کی ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی کہ وہ آتے ہی رنز کا دریا بہا دیں گے، وہ ہمیں اچھا آغاز فراہم کرسکتے ہیں، آملا پر اس حوالے سے کوئی دباؤ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ کافی تجربہ کار ہیں۔ ڈومنی نے تسلیم کیا کہ ٹیم کیلیے سب سے بڑی آزمائش پاکستانی اسپن اٹیک ہی ہے، انھوں نے کہا کہ جب آپ آغاز میں ہی وکٹیں گنوانا شروع کردیں تو پھر سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے، مجھ سمیت ہمارے بیٹسمین 20، 30 رنز بناکر آؤٹ ہوتے رہے ہیں، ہم اس فارمیٹ میں بڑے اسکور کرچکے، ہمیں اب یہاں پر ویسا ہی پرفارم کرنے کی ضرورت ہے، پوری امید ہے کہ تمام پلیئرز مل کر سیریز کو جنوبی افریقہ کے حق میں موڑدیں گے۔