معاشی ریلیف دہلیز پر ملنا چاہیے

پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں 400 کارکنوں کی چھانٹی کا امکان ہے

پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں 400 کارکنوں کی چھانٹی کا امکان ہے۔ فوٹو: فائل

سبسڈی کے باوجود بجلی، گیس مہنگی ہونے پرکابینہ ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح حکومت کو حاصل ہونے والی کامیابیاں سبوتاژ ہو رہی ہیں جب کہ وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ 216ارب روپے کی سبسڈی بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے بجلی کی قیمتیں یکساں رکھنے کے لیے ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس)کے طور پر استعمال ہوتی ہے، تاہم فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ فیول کی عالمی قیمتوں سے منسلک ہے جس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

ایک انگریزی معاصر نے بھی ملک میں بجلی اور گیس کی فراہمی،کھپت اور صارفین کو درپیش مشکلات پر ہولناک تجزیے پیش کیے ہیں جب کہ دوسری طرف یہ انکشاف رواں ماہ کے شروع میں وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے جاری ہونے والے منسٹس آف میٹنگ میں کیاگیا ہے۔

اطلاع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافہ پر ڈسکشن کے دوران بعض اراکین کابینہ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا کہ ایک خطیر سبسڈی کے باوجود بجلی وگیس کی قیمتوں میںمسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ سبسڈی کا فائدہ صارفین کو منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح گیس کے حوالے سے بھی سلیبز پر نظر ثانی کرتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی مگر اس بارے میں بھی کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔ ذرایع نے بتایا کہ ریلیف پیکیج کے باوجود یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالیں اور چاول مہنگے دستیاب ہیں۔

بادی النظر میں معیشت کے استحکام اور حکومتی ترقیاتی کاموں کے درمیان مثبت پیشرفت دکھانے کی مستعدی کا تاثر میڈیا میں تو موجود ہے لیکن جب عوام کے معیار زندگی، مہنگائی میں کمی، توانائی بحران کے سدباب اور بجلی وگیس کی سپلائی میں تعطل، لوڈشیڈنگ اور ہوشربا بلنگ پر نگاہ ڈالی جاتی ہے تو تمام حکومتی اقدامات اور استحکام کے اشاریے حقائق سے ہم آہنگ نظر نہیں آتے، عوام ، تاجر و صنعت کار برادری اس جوش وخروش، امید اور صائب اقتصادی استقامت سے بوجوہ متفق نظر نہیں آتی۔

اس کی وجوہ گنوائی جاسکتی ہیں مگر عوام کا جو بنیادی ردعمل اور مارکیٹ میں نظرآنے حکومتی پالیسیوں، اور معاشی پیش قدمی کے اثرات ہیں ان میں ثبات اور پائیداری کے فقدان کی شکایات عام ہیں، لوگ معیشت کو اور حکومتی کارکردگی کو ایک ''جِِگساپزل'' سمجھتے ہیں، لاکھوں بیروزگار اور مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کا کہنا ہے کہ حکومت اب تک قوم کے اقتصادی دکھ اور معاشی کرب کا ادراک نہیں کرسکی ہے اور ان کے معاشی مسیحا ایسی کوئی ٹھوس پالیسیاں دینے میں بریک تھرو کی پوزیشن نہیں لے رہے۔

جہاں عوام کو دو وقت کی روٹی، روزمرہ کے اخراجات، اشیائے ضرورت کی ارزانی، روزگار کے تسلسل اور مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کا یقین آ جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اقتصادی اور معاشی فلسفے محض اعلانات کی شکل میں لائے جاتے ہیں لیکن حکومت عوام کو کس قسم کے جمہوری ثمرات دینا چاہتی ہے اس کھل جا سم سم کا دروازہ آج بھی نہیں کھل سکا۔ اس حقیقت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ آج عام آدمی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شدید دباؤ میں ہے۔

ذرایع کے مطابق پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں 400 کارکنوں کی چھانٹی کا امکان ہے، کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ کابینہ کو صورت حال کی تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے،ادھر صدر ایمپلائز یونین کا موقف ہے کہ این آئی آر سی سے امتناع لے لیا ہے جب کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو بہت ہی کم ملتا ہے۔


اطلاع کے مطابق 2019ء کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں23 روپے2 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 16 روپے42 پیسے، لائٹ ڈیزل 7روپے5 پیسے اور مٹی کا تیل13 روپے 37 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا، جنوری میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 54 ڈالر فی بیرل تھی، جب کہ دسمبر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 65 ڈالر فی بیرل ہو گئی، رواں سال میں پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد برقرار رہی۔ دریں اثناء بجلی کی لوڈ شیڈنگ،گیس کی اور سی این جی کی بندش نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں، گھریلو خواتین کے لیے کھانا پکانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔

سی این جی ڈیلرز ایسو سی ایشن سراپا احتجاج ہے کہ کمٹمنٹ کے باوجود ان کے گیس اسٹیشنزکوگیس کی فراہمی نہیں ہو رہی ہے۔ کراچی سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں صارفین بجلی، گیس، سی این جی کے تعطل سے سخت پریشان ہیں اورکوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایکسپریس کے نامہ نگار نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 70 فیصد ریونیو دینے والا شہر کراچی آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اور کمزور بلدیاتی نظام کے باعث شہر نشان عبرت بنا ہوا ہے، ملک کے کئی علاقے ٹریکل ڈاؤن ثمرات کے منتظر ہیں۔

ادھر آئی ایم ایف کی نئی پیش گوئی کے مطابق 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ توقع سے کم رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر ڈالر 160.64 روپے کا ہو گا۔ قبل ازیں امریکی کرنسی کی قدر172.53روپے رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ مذکورہ دستاویز میں بتایا گیا کہ اراکین کابینہ کے مطابق یوٹیلیٹی کی قیمتوں میں اضافہ کے رجحان کی وجہ سے حکومتی اقدامات کے نتیجے میںموجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والی تباہ حال معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیاں سبوتاژ ہو رہی ہیں۔

دستاویزکے مطابق اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے کابینہ اراکین کو بتایا گیاکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ براہ راست عالمی منڈی میں رائج فیول پرائس سے منسلک ہے، یہ حکومت کے کنٹرول میںنہیں، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے پچھلے تین ماہ کے بقایاجات ایڈجسٹ کرکے صارفین کو منتقل نہیںکیے گئے تھے۔ موسم گرما میں عالمی منڈی میںتیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے اثرات اب موسم سرما میں ظاہر ہو رہے ہیںکیونکہ گرمیوں میں عالمی منڈی میں ہونے والی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ جو فیول منگواکر بجلی پیداکی گئی، اس کی ایڈجسٹمنٹ اب کی جا رہی ہے۔

جہاں تک 216 ارب روپے کی سبسڈی کا تعلق ہے تو یہ سبسڈی ملک میں تمام بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی طرف سے بجلی یونیفارم قیمتوںکو یقینی بنانے کے لیے بطور ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) استعمال ہوتی ہے۔

دستاویزکے مطابق وزارت توانائی کاکہنا ہے کہ صارفین کو اوور بلنگ، بجلی چوری اورکرپشن روکنے کے لیے بڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جب کہ کپیسٹی پے منٹ میں کمی لانے کے لیے بھی 11.97 فی یونٹ کے فلیٹ ریٹ پر بجلی کی فراہمی کے مراعاتی پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا، یہ پیکیج نومبرتا فروری تک کے لیے سردیوں میں لاگو رہے گا۔ مزید بتایا گیاکہ صارفین کو بھجوائے جانے والے اضافہ شدہ زائد بلوںکے معاملے کا فرانزک آڈٹ کرایا گیا ہے اوراس آڈٹ کے نتیجے میںصارفین کواضافی رقوم واپس کرنا ہیں مگر یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور عدالت میں چیلنج ہونے کی وجہ سے عارضی طور پرصارفین کو اضافی رقوم کی واپسی رکی ہوئی ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ حکومت معاشی افق پرنظر ڈالتے ہوئے عوام کے لیے ریلیف کو یقینی بنائے اورمعیشت کے استحکام کے دعوؤں کو حقیقت پسندی سے قریب لائے تاکہ قوم کو آسودگی اس کے کروڑوں عوام کی دہلیز پر ملے۔
Load Next Story