حکومت نیٹو سپلائی بند اور ڈرون گرانے کا فیصلہ کبھی نہیں کریگی وزیر پٹرولیم
عالمی برادری سے تعلقات کو کسی ایک واقعے سے ختم نہیں کیاجاسکتا،لگتا ہے ٹرانسپیرنسی تیل وگیس کے شعبے کی ریگولیٹر ہے
عوام فیصلہ کریں چولہے جلانے ہیں یاسی این جی پرگاڑیاں،ایرانی گیس ایل این جی سے سستی پڑیگی، ۔وزیرپیٹرولیم۔ فوٹو فائل
KHANPUR:
وفاقی وزیربرائے پٹرولیم وقدرتی وسائل شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت نیٹوسپلائی بند اور ڈرون گرانے کا فیصلہ کبھی نہیں کریگی ۔
کیونکہ حکومت کے عالمی برادری سے تعلقات وابستہ ہیں جن کو ایک واقعے کی وجہ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیرکو پارلیمنٹ ہائوس کے باہرمیڈیا سے گفتگوکے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات وابستہ ہیں جن کوکسی ایک واقعے کی وجہ سے ختم نہیں کیا جاسکتا اس لیے حکومت ڈرون حملے اور نیٹو سپلائی بندکرانے کا فیصلہ کبھی نہیں کریگی۔
علاوہ ازیں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کانفرنس سے خطاب اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 3ارب مربع فٹ گیس پائپ لائن میں موجود ہے جبکہ موسم سرما میں6 ارب مربع فٹ گیس کی ضرورت ہوتی ہے ،عوام خودفیصلہ کریں کہ چولہے جلانے ہیں یا پھرسی این جی کیلیے گیس فراہم کرنی ہے۔ ایرانی گیس ایل این جی سے سستی پڑے گی جبکہ معاہدے میں قیمت پرنظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔
وفاقی وزیربرائے پٹرولیم وقدرتی وسائل شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت نیٹوسپلائی بند اور ڈرون گرانے کا فیصلہ کبھی نہیں کریگی ۔
کیونکہ حکومت کے عالمی برادری سے تعلقات وابستہ ہیں جن کو ایک واقعے کی وجہ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیرکو پارلیمنٹ ہائوس کے باہرمیڈیا سے گفتگوکے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات وابستہ ہیں جن کوکسی ایک واقعے کی وجہ سے ختم نہیں کیا جاسکتا اس لیے حکومت ڈرون حملے اور نیٹو سپلائی بندکرانے کا فیصلہ کبھی نہیں کریگی۔
علاوہ ازیں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کانفرنس سے خطاب اور بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 3ارب مربع فٹ گیس پائپ لائن میں موجود ہے جبکہ موسم سرما میں6 ارب مربع فٹ گیس کی ضرورت ہوتی ہے ،عوام خودفیصلہ کریں کہ چولہے جلانے ہیں یا پھرسی این جی کیلیے گیس فراہم کرنی ہے۔ ایرانی گیس ایل این جی سے سستی پڑے گی جبکہ معاہدے میں قیمت پرنظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔