مودی ایڈونچر سے پہلے سوچ لے

خطے کے وسیع تر سیاق وسباق میں صورتحال تہلکہ خیز ہوتی جا رہی ہے

خطے کے وسیع تر سیاق وسباق میں صورتحال تہلکہ خیز ہوتی جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
بھارت نے کنٹرول لائن کو خطے کا جنگی آتشکدہ بنانے اور امن کو لاحق ہولناک خطرات کو دوچند کرنے کے سارے عزائم ظاہر کردیے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کردیا ہے کہ مودی جنگ کی آگ بھڑکانے کی دیوانگی میں مبتلا ہے۔

وہ بھارت کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بھی وقت آزاد کشمیر سمیت لائن آف کنٹرول پر مجرمانہ واردات کرسکتا ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک انداز میں بھارت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، پوری قوم اور پاک افواج دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر وطن کے چپے چپے کا دفاع کریگی۔

خطے کے وسیع تر سیاق وسباق میں صورتحال تہلکہ خیز ہوتی جا رہی ہے، کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ فائرنگ کے تبادلہ کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید،جوابی کارروائی میں دشمن کے تین فوجی مارے گئے جب کہ ایک چوکی تباہ ہوگئی۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بتایا ہے کہ بھارت گزشتہ 36 گھنٹے سے مسلسل ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے،دیوا سیکٹر میں فائرنگ کے تبادلہ میں پاک فوج کے نائب صوبیدار کنڈیرو اور سپاہی احسان شہید ہوگئے، پاک فوج کی جانب سے حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا۔

جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کے صوبیدار سمیت تین اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ہوئے جب کہ ایک چوکی تباہ ہوگئی۔پاک فوج کے شہید صوبیدار کنڈیرو کا تعلق سکھرجب کہ شہید سپاہی احسان کا تعلق ضلع جہلم تحصیل پنڈدادنخان کے گاؤں لنگر سے ہے ۔محمد احسان شہید کی نماز جنازہ آبائی گاؤں لنگر میں ادا کر دی گئی۔نماز جنازہ میں علاقہ بھر کی سیاسی سماجی اور پاک آرمی کے جوانوں نے شرکت کی۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت سرکار کی شر انگیزیوں کا نوٹس لے ۔

ادھر بھارت میں شہریت سے متعلق نئے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم مودی حکومت نے فسطائیت پر کمربستہ ہونے کا تہیہ کیا ہے اور مظاہرین پر پولیس کے تشدد کو درست قراردیا ہے، کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے حراستی مراکز کی تعمیر سے متعلق مودی کے بیان کو گمراہ کن بتاتے ہوئے کہا کہ مودی نے ملک سے جھوٹ بولا ہے، کانگریس پارٹی نے بھارتی فوج کے سربراہ بپن راؤت کے بیان پر اپنے سخت رد عمل میں کہا کہ فوجی سربراہ کو سیاسی بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

ادھر پولیس نے بزرگ مسلمان تاجر حامد کے گھر میں لوٹ مار کی اورتشدد کیا جب کہ تامل ناڈو میں 3 ہزار دلتوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ شمالی بھارت میں شدید سردی کے باوجود کولکتہ، دہلی میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، بنارس، ہندو یونیورسٹی کے درجنوں پروفیسرز نے اس قانون کی مخالفت میں مہم چلانے کا اعلان کردیا ۔


وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اپنے داخلی مسائل اور صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر میں ضرورکوئی ایڈوینچر کرے گا ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس خدشے سے آگاہ کر دیا ہے، پاک فوج مکمل طور پر تیار ہے۔پنڈدادنخان میں 117 کلومیٹر طویل جلال پور نہر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کنٹرول لائن پر جھڑپیں نریندر مودی کی جارحانہ کشمیر پالیسی کی وجہ سے ہو رہی ہیں،لائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ کے لیے دعاگو ہیں۔

وزیراعظم نے کہا مودی گجرات کے مسلمانوں کا قاتل ہے، آج ویسا ہی ظلم کشمیر میں جاری ہے،پانچ ماہ سے کشمیری مسلمان محصور ہیں۔مودی سرکار نے مسلمانوں کے خلاف ایک امتیازی قانون منظور کیا ہے جس پر پورے ہندوستان کے لوگ جن میں مسلمان ،ہندو ، سکھ، عیسائی سب شامل ہیں اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ ظلم کے نظام کو ختم کریں گے۔انھوں نے کہا اسی طرح کا قانون میانمار حکومت نے بھی مسلمانوں کے خلاف منظورکیا تھا ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مودی کی لگائی ہوئی آگ پورے بھارت میں پھیل گئی ہے، نریندر مودی کی مسلم کش ، ہندوتوا سوچ نے بھارت کو تقسیم کردیا ہے، انھوں نے وزارت خارجہ میں سابقہ سیکریٹریز کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بھارتی جارحیت اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشاورتی اجلاس کا سلسلہ جاری رہے گا، انھوں نے مزید کہا کہ آج مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو 144دن گزر چکے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ذرایع مواصلات کو بند کرکے دنیا کو کشمیر کے حقائق تک رسائی سے محروم کر رکھا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیکولر بھارت کے حامی شہریت قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

وزیر خارجہ کے پیش کردہ حقائق سے دنیا چشم پوشی نہیں کرسکتی ، یہ کشمیر کی مظلومیت کے تناظر میں انسانی ضمیر کا سب سے بڑا سوال ہے۔ بھارت کا المیہ یہ ہے کہ اس کی جمہوریت اور سیکولرازم کی باگ ڈور آج کل ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جس کے ہاتھ بیگناہ کشمیریوں اور گجرات کے مسلمانوں کے خون ناحق سے رنگے ہوئے ہیں، خطرہ تنہا مودی کے اقتدار کو نہیں بلکہ بھارت کے جمہوری، سیکولر، پارلیمانی اور انسانی و تاریخی تشخص کو ہے، بھارت اندر سے پارہ پارہ ہو رہا ہے، اس کی داخلی صورتحال ایک بڑے انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

مودی ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے جس سے انڈین کانگریس سمیت بھارت کی کمیونسٹ، ترقی پسند اور انسان دوست جمہوری قوتیں، دانشور حلقے، انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل انتباہ کررہی ہیں کہ اگر مودی کو نہ روکا گیا تو خطہ آگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔

لیکن دنیا بھر کے جمہوریت پسند بھارت کے ردعمل کو الم ناک قرار دے چکے ہیں، ترقی یافتہ ممالک کی پارلیمنٹس، ان کے فکری حلقے، ٹریڈ یونینز، فلاسفر، فنکار اور سماجی کارکن سیکولرازم کے داعی بھارت کو اس کی منافقت پر لعن طعن کررہے ہیں اور اب تک متعدد بار غیر ملکی میڈیا نے مودی ازم کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے، تاہم مودی اور اس کے حواری ، آر ایس ایس کی ٹولیاں بھارت کے چہرے سے جمہوریت اور سیکولرازم کا نقاب خود ہی نوچ کر زمین پر پھینک رہی ہیں، یہ شرم ناک بات ہے کہ اقتدار اور ظلم پرستی کے اندھیرے میں مودی کو حقیقت کی سمجھ نہیںآتی اور وہ خطے کو آگ کی نذر کر رہا ہے۔

بھارت کی عالمی شہرت یافتہ سیاسی کارکن اور مصنفہ اروندھتی رائے نے انکشاف کیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکار مسلمانوں کے گھروں میں گھسنا شروع ہوگئے ہیں، ان کی چیرہ دستیوں کی بات ایک اروندھتی رائے کی راست گوئی تک محدود نہیں ، دنیا کے کونے کونے میں بھارتی سیکولرازم برہنگی سے دوچار ہے، عالمی برادری کو جموں اور کشمیر سے چشم پوشی سے الزام سے بچنے کے لیے بلاتاخیر کچھ اقدام کرنا چاہیے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ الزام بھارت کے لیے تاریخ کا سنگین فرد جرم بن جائے۔
Load Next Story