اقتصادی اشاریے اور دعوے
پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے 45کروڑ چالیس لاکھ قرض کی دوسری قسط موصول ہوگئی ہے
پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے 45کروڑ چالیس لاکھ قرض کی دوسری قسط موصول ہوگئی ہے (فوٹو: فائل)
حکومت اقتصادی ومعاشی معاملات میں اصلاحات کے دعوے تو خوب کر رہی ہے، معاشی اشاریوں میں بہتری کی نوید بھی سنائی جارہی ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا نے بجلی ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دی۔ تسلسل سے بجلی اورگیس کی قیمتوںمیں اضافہ عوام کی معاشی مشکلات کو بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے 45کروڑ چالیس لاکھ قرض کی دوسری قسط موصول ہوگئی ہے، جوآیندہ ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل ہوجائے گی۔
رواں ماہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا پہلا جائزہ مکمل کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا اقتصادی اصلاحات کا پروگرام درست سمت پر ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اس اضافے سے صارفین پرچودہ ارب پچاس کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ نیپرا کے اجلاس کے دوران ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ کمپنیوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح صارفین کا گلا ہی دبا دیں۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے 89ادویات کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کرکے قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹروں کی نمایندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ 6 ماہ پرانا فیصلہ تھا جس کا اعلان وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد دوبارہ کیا گیا۔ پی ایم اے نے مزیدکہا کہ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ کئی ضروری ادویات یا تو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں یا ان کی فراہمی میں کمی ہے۔
ادویات خاص طور پر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے، جس پر حکومت کو حقیقت پسندانہ انداز میں غور کرنا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت پبلک ڈیٹ مینجمنٹ رسک سے متعلق ایک اہم رپورٹ کے اجرا میں خلاف ضابطہ تاخیر سے کام لے رہی ہے، جب کہ پچھلے ایک سال کے دوران مالیاتی زوال اور ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال کے باعث قرضوں کے بوجھ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ نے ڈیٹ مینجمنٹ رسک انڈیکیٹرز پر آخری رپورٹ جون 2018 میں جاری کی تھی۔
اب دسمبر 2018 سے جون 2019 تک کی رپورٹس جاری ہونی ہیں۔ تاہم پچھلے ڈیڑھ سال سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ ڈیٹ اسسمنٹ رپورٹ فارن کرنسی ڈیٹ، ڈیٹ فنانسنگ رسک، انٹرسٹ ریٹ رسک اور مشروط قرضے جیسے اشاریوں سے متعلق ہوتی ہے۔ آخری رپورٹ کی اشاعت کے بعد ان میں سے کچھ اشاریے بے حد خراب ہوچکے ہیں،کچھ اشاریوں میں بہتری بھی آئی ہے۔
اس کی وجہ حکومت کا مرکزی بینک سے حاصل کردہ مختصر مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 41000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔ تیزی کے سبب 76 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں94ارب 55کروڑکا اضافہ ہوگیا۔ بلاشبہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہارکر رہے ہیں۔ اب یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے اور انھیں مطمئن کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔
رواں ماہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا پہلا جائزہ مکمل کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا اقتصادی اصلاحات کا پروگرام درست سمت پر ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اس اضافے سے صارفین پرچودہ ارب پچاس کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ نیپرا کے اجلاس کے دوران ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ کمپنیوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح صارفین کا گلا ہی دبا دیں۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے 89ادویات کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کرکے قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹروں کی نمایندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ 6 ماہ پرانا فیصلہ تھا جس کا اعلان وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد دوبارہ کیا گیا۔ پی ایم اے نے مزیدکہا کہ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ کئی ضروری ادویات یا تو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں یا ان کی فراہمی میں کمی ہے۔
ادویات خاص طور پر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے، جس پر حکومت کو حقیقت پسندانہ انداز میں غور کرنا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت پبلک ڈیٹ مینجمنٹ رسک سے متعلق ایک اہم رپورٹ کے اجرا میں خلاف ضابطہ تاخیر سے کام لے رہی ہے، جب کہ پچھلے ایک سال کے دوران مالیاتی زوال اور ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال کے باعث قرضوں کے بوجھ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ نے ڈیٹ مینجمنٹ رسک انڈیکیٹرز پر آخری رپورٹ جون 2018 میں جاری کی تھی۔
اب دسمبر 2018 سے جون 2019 تک کی رپورٹس جاری ہونی ہیں۔ تاہم پچھلے ڈیڑھ سال سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ ڈیٹ اسسمنٹ رپورٹ فارن کرنسی ڈیٹ، ڈیٹ فنانسنگ رسک، انٹرسٹ ریٹ رسک اور مشروط قرضے جیسے اشاریوں سے متعلق ہوتی ہے۔ آخری رپورٹ کی اشاعت کے بعد ان میں سے کچھ اشاریے بے حد خراب ہوچکے ہیں،کچھ اشاریوں میں بہتری بھی آئی ہے۔
اس کی وجہ حکومت کا مرکزی بینک سے حاصل کردہ مختصر مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 41000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔ تیزی کے سبب 76 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں94ارب 55کروڑکا اضافہ ہوگیا۔ بلاشبہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہارکر رہے ہیں۔ اب یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے اور انھیں مطمئن کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔