قیام امن کے لیے جو کچھ ممکن ہے‘ کیا جائے
ہماری مسلح افواج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہترین صلاحیت رکھتی ہیں، وزیراعظم نوازشریف
خیرپورٹامیوالی :وزیراعظم نوازشریف مسلح افواج کی جنگی مشقیں عزم نو 4دیکھنے آرہے ہیں، آرمی چیف جنرل کیانی گاڑی ڈرائیوکررہے ہیں ۔ فوٹو : اے ایف پی
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے بہاولپور کے قریب پاک فوج کی فیلڈ مشقوں کے معائنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہترین صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہمارا جمہوری نظام' اقتصادی صلاحیت، ولولہ انگیز قوم، قومی یکجہتی اور پروفیشنل مسلح افواج جنوبی ایشیا میں اسٹرٹیجک استحکام کی ضمانت ہے۔ مسلح افواج نے ہر طرح کے حالات میں پاکستان کے عوام کا ساتھ دیا، قوم کو اس جذبے پر بڑا فخر ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سیاسی جماعتوں، فوج اور سول سوسائٹی کا موقف یکساں ہے تاکہ دہشتگردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے ضروری سازگار فضا قائم کی جاسکے۔
اسی سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس نے غیرمعمولی قومی اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو موقع دینے کی ضرورت کو اجاگرکیا۔ وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ سیاسی جماعتوں، فوج، ایگزیکٹو، عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان مشکل حالات میں ساتھ دینا چاہیے۔ کوئی مزید خونریزی نہیں چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں نے شہادت دیتے ہوئے اعلیٰ ترین قربانیاں دیں، ان کے خون پسینے سے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا۔ وطن کے دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے بہادر فوجیوں کے خاندانوں پر قوم کو فخر ہے۔ حکومت نے ملک سے تشدد اور خونریزی کے خاتمے کا ٹھوس عزم کر رکھا ہے تاہم ایک رات میں ایسا ہوسکتا ہے نہ اپنے شہریوں کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کے ذریعے امن ممکن ہے۔ معاشرے کے گمراہ اور پریشان عناصر کو قومی دھارے میں لائے بغیر یہ ممکن نہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ خطاب اس لیے اہم ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد انھوں نے پہلی بار اظہار خیال کیا ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اظہار خیال نہیں کیا تاہم وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے افسوسناک اور قابل مذمت سلسلے کے جاری رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پائیدار قیام امن اور دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کے نقطہ نظر کو نہیں سمجھا گیا' انھوں نے طالبان کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا تھا' برف پگھل رہی تھی' دونوں طرف سے رابطے قائم ہو چکے تھے' ان حالات میں ڈرون حملے سے قیام امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا' وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں کا احترام کیا جائے گا اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے اور اس عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
حکومت اس وقت یقیناً مشکل حالات سے دوچار ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے جو لائحہ عمل طے کیاہے' اس کی راہ میں کئی کاوٹیں حائل ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اس معاملے میں اندرونی ہی نہیں بلکہ بیرونی اسٹیک ہولڈرز بھی موجود ہیں۔ ان اسٹیک ہولڈرز میں امریکا سرفہرست ہے اور اس کے ساتھ افغانستان بھی شامل ہے۔ بھارت بھی کسی نہ کسی حوالے سے اس معاملے سے جڑا ہوا ہے۔ گو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت اب بھی پر عزم ہے۔ وزیراعظم نے بہاولپور میں جو خطاب کیا اور پھر وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں جو گفتگو کی ، اس سے یہ واضح ہے کہ حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود طالبان سے مذاکرات کی کوشش کرے گی لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ کیا ایسے گروہ' تنظیم یا شخصیت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے حوالے سے جانی جاتی ہوں؟ حکیم اللہ محسود کے ساتھ بھی معاملہ یہی تھا' پاکستان نے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی' حکومت پاکستان نے اس معاملے کو ایک طرف رکھ کر حکیم اللہ کے ساتھ رابطے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ حکومت پاکستان ایسا کر سکتی تھی' لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ تھا کہ جس سے ہم مذاکرات کرنے جا رہے تھے' وہ امریکا کو بھی مطلوب تھا' اس نے بھی حکیم اللہ کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی' امریکا کو روکنا کسی کے اختیار میں نہیں تھا اوروہی ہوا' امریکا کو موقع ملا اور اس نے اپنے ہدف کو کامیابی سے ہٹ کر دیا۔
پاکستان کے لیے ایک مشکل یہ ہے کہ طالبان کے نظریات اور شرائط براہ راست آئین پاکستان سے متصادم ہیں' وہ القاعدہ کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کرتے ہیں' افغان طالبان کے ردعمل کے بعد اب یہ واضح ہو گیا کہ کالعدم تحریک طالبان اور افغان طالبان ایک دوسرے سے منسلک ہیں' طالبان اپنی شرائط اور مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر بھی تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں وفاقی حکومت مذاکرات کوکیسے کامیاب بنائے گی' اس کی سمجھ نہیں آ رہی' بہر حال حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ ملک میں امن کے قیام کے لیے جو مناسب سمجھے کرے۔ یقیناً حکومت کے علم میں سارے معاملات ہوں گے' وہ اس حوالے سے بھی کوئی کام کر رہی ہو گی' اس لیے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں' حکومت ، پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اور سول سوسائٹی کو متحد ہوکرکام کرنا چاہیے' ممکن ہے کہ مذاکرات کا آپشن کامیاب ہو جائے اور ملک میں امن کی ہوائیں چل پڑیں۔
اسی سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس نے غیرمعمولی قومی اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو موقع دینے کی ضرورت کو اجاگرکیا۔ وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ سیاسی جماعتوں، فوج، ایگزیکٹو، عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان مشکل حالات میں ساتھ دینا چاہیے۔ کوئی مزید خونریزی نہیں چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے فوجیوں نے شہادت دیتے ہوئے اعلیٰ ترین قربانیاں دیں، ان کے خون پسینے سے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا۔ وطن کے دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے بہادر فوجیوں کے خاندانوں پر قوم کو فخر ہے۔ حکومت نے ملک سے تشدد اور خونریزی کے خاتمے کا ٹھوس عزم کر رکھا ہے تاہم ایک رات میں ایسا ہوسکتا ہے نہ اپنے شہریوں کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کے ذریعے امن ممکن ہے۔ معاشرے کے گمراہ اور پریشان عناصر کو قومی دھارے میں لائے بغیر یہ ممکن نہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ خطاب اس لیے اہم ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد انھوں نے پہلی بار اظہار خیال کیا ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اظہار خیال نہیں کیا تاہم وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے افسوسناک اور قابل مذمت سلسلے کے جاری رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پائیدار قیام امن اور دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کے نقطہ نظر کو نہیں سمجھا گیا' انھوں نے طالبان کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا تھا' برف پگھل رہی تھی' دونوں طرف سے رابطے قائم ہو چکے تھے' ان حالات میں ڈرون حملے سے قیام امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا' وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں کا احترام کیا جائے گا اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے اور اس عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
حکومت اس وقت یقیناً مشکل حالات سے دوچار ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے جو لائحہ عمل طے کیاہے' اس کی راہ میں کئی کاوٹیں حائل ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اس معاملے میں اندرونی ہی نہیں بلکہ بیرونی اسٹیک ہولڈرز بھی موجود ہیں۔ ان اسٹیک ہولڈرز میں امریکا سرفہرست ہے اور اس کے ساتھ افغانستان بھی شامل ہے۔ بھارت بھی کسی نہ کسی حوالے سے اس معاملے سے جڑا ہوا ہے۔ گو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت اب بھی پر عزم ہے۔ وزیراعظم نے بہاولپور میں جو خطاب کیا اور پھر وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں جو گفتگو کی ، اس سے یہ واضح ہے کہ حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود طالبان سے مذاکرات کی کوشش کرے گی لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ کیا ایسے گروہ' تنظیم یا شخصیت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے حوالے سے جانی جاتی ہوں؟ حکیم اللہ محسود کے ساتھ بھی معاملہ یہی تھا' پاکستان نے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی' حکومت پاکستان نے اس معاملے کو ایک طرف رکھ کر حکیم اللہ کے ساتھ رابطے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ حکومت پاکستان ایسا کر سکتی تھی' لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ تھا کہ جس سے ہم مذاکرات کرنے جا رہے تھے' وہ امریکا کو بھی مطلوب تھا' اس نے بھی حکیم اللہ کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی' امریکا کو روکنا کسی کے اختیار میں نہیں تھا اوروہی ہوا' امریکا کو موقع ملا اور اس نے اپنے ہدف کو کامیابی سے ہٹ کر دیا۔
پاکستان کے لیے ایک مشکل یہ ہے کہ طالبان کے نظریات اور شرائط براہ راست آئین پاکستان سے متصادم ہیں' وہ القاعدہ کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کرتے ہیں' افغان طالبان کے ردعمل کے بعد اب یہ واضح ہو گیا کہ کالعدم تحریک طالبان اور افغان طالبان ایک دوسرے سے منسلک ہیں' طالبان اپنی شرائط اور مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر بھی تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں وفاقی حکومت مذاکرات کوکیسے کامیاب بنائے گی' اس کی سمجھ نہیں آ رہی' بہر حال حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ ملک میں امن کے قیام کے لیے جو مناسب سمجھے کرے۔ یقیناً حکومت کے علم میں سارے معاملات ہوں گے' وہ اس حوالے سے بھی کوئی کام کر رہی ہو گی' اس لیے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں' حکومت ، پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اور سول سوسائٹی کو متحد ہوکرکام کرنا چاہیے' ممکن ہے کہ مذاکرات کا آپشن کامیاب ہو جائے اور ملک میں امن کی ہوائیں چل پڑیں۔