بس امریکا راضی رہے
ہمارے بزرگ دانشور اپنی حکمت و بصیرت کے ذریعے ہماری زندگی کے راستے آسان کر گئے ہیں لیکن ہم ان کی باتیں نہ مان کر...
Abdulqhasan@hotmail.com
ہمارے بزرگ دانشور اپنی حکمت و بصیرت کے ذریعے ہماری زندگی کے راستے آسان کر گئے ہیں لیکن ہم ان کی باتیں نہ مان کر اپنی زندگی بظاہر آسودہ مگر حقیقت میں سخت دشوار بنا رہے ہیں۔ شیخ سعدی نے ایک آسان سے شعر میں بنیادی بات کہہ دی تھی کہ
خِشت اول چُوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
کہ معمار اگر دیوار کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھ دے گا تو یہ دیوار خواہ آسمان تک بھی اٹھتی جائے ٹیڑھی ہی رہے گی۔ ہم نے دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک بنایا اور ایک نئی تعمیر شروع کی لیکن اس کی بنیادی اینٹ ٹیڑھی رکھ دی چنانچہ یہ اب تک ٹیڑھی ہی اٹھتی جا رہی ہے۔ ہم ہر روز اس دیوار کی کجی کی وجہ سے کسی نہ کسی الجھن میں گرفتار ہو جاتے ہیں مگر اس دیوار پر پھر ایک اور ٹیڑھی اینٹ رکھ دیتے ہیں۔ تعمیر پاکستان کی یہ ٹیڑھی اینٹ ہمارا اشرافیہ تھا جو اب تک کسی نہ کسی روپ بہروپ میں ملک پر مسلط چلا آ رہا ہے اور جو اس کا نتیجہ نکل رہا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ ہر اینٹ ٹیڑھی۔
پاکستان بظاہر بڑے خطے ہندوستان کا ایک ٹکڑا تھا لیکن اس میں بے پناہ طاقت پوشیدہ تھی، یہ سب سے بڑا مسلمان ملک تھا اور نہ جانے کیوں مسلمان ممالک اسے خود بخود ہی اپنا قائد سمجھنے لگے تھے، اس ملک کے اندر قدرت نے بے پناہ قیمتی معدنیات رکھ دی تھیں، اسے ایک بہت ہی زرخیز زمین دی تھی اور اس کو سیرابی کے وسیلے دیے تھے اور پھر سب سے بڑی نعمت اس پر آباد انسان تھے جو ایک نظرئیے کو ماننے والے تھے اسے زندہ کر رہے تھے، اس کے لیے موت کو شہادت سمجھتے تھے اور اس کی حفاظت میں زندہ رہتے تو غازی کا لقب پاتے تھے۔ اس پاکستانی قوم کے نظریات اس پر کسی سوویت یونین کی طرح ٹھونسے نہیں گئے تھے بلکہ اس کے جماندرو تھے، اس کو نسل در نسل ورثے میں ملے تھے ایک ایسا ورثہ جس میں اس کی دنیا و آخرت کی نجات مضمر تھی، اس میں اس کی زندگی کا ایک مقصد تھا جو اس کے قائد نے اسے اچھی طرح ذہن نشین کرا دیا تھا کہ تم دنیا اور اس خطے کی ایک علیحدہ اور منفرد قوم ہو تم سب سے مختلف ہو اور سب سے جدا بھی۔ تمہارا معنوی وجود تو کوئی چودہ سو برس سر زمین عرب میں وجود میں آیا تھا لیکن جغرافیائی وجود اس دن جب تمہارے قائد کے الفاظ میں پہلا ہندوستانی یہاں مسلمان ہوا تھا تو وہ ایک پاکستانی تھا پہلا پاکستانی۔ ہمارے ایک شاعر قتیلؔ شفائی نے اسی پاکستان کا یوں ذکر کیا ہے
ایک ہی پہچان تھی میری اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
طویل حکائت کو مختصر کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کا بانی تو یہ کہتا ہوا رخصت ہو گیا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں اور قوم کو اپنے ساتھیوں کا حال بتا گیا اور جو اس نے بتایا تھا وہ سچ تھا کہ یہ کھوٹے سکے ہمارے بازار سیاست میں کھرے بن کر چلتے گئے اور انھوں نے سب سے پہلے اپنے مفادات کی خاطر باہر کی غالب دنیا کی اطاعت قبول کر لی کیونکہ وہ ذہنی طور پر کھوکھلے لوگ تھے پہلے تو برطانیہ تھا ہی جس کی غلامی ہماری اشرافیہ کی جڑوں میں اتری ہوئی تھی پھر برطانیہ ہمیں امریکا کے ہاتھوں بیچ گیا اور ہماری اشرافیہ پل بھر میں امریکا کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ ثقہ اور پرانی تہذیب و روایات کے حامل برطانیہ نے ہمیں نو دولتوں اور نو طاقتوں کے سپرد کر دیا۔ جس نے ہماری درگت بنانی شروع کر دی۔ آج کا دن اگر ہم اپنے اخبارات پر ایک نظر ڈالیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں کیا نہ کریں۔ ہم بیس کروڑ مسلمان اور جدید دنیا کے باسی یوں کہیں کہ مٹھی بھر طالبان نام کے چند گروہوں کے قبضے میں ہیں۔ اس پر ہم اپنے حکمرانوں اور قائدین سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ہمارے سابق والی برطانیہ نے اپنی رعایا کو جس نئی طاقت کے سپرد کیا سب سے پہلے ہم بذات خود فرداً فرداً اس کے پاس بک گئے۔ ہم میں کئی بڑے اس ملک کے شہری ہیں لیکن پاکستان کے بھی ہیں۔ یعنی ہم اسلام اور عیسائیت کو بیک وقت مانتے ہیں کیونکہ دونوں مذہبوں کے ماننے والے ملکوں کے شہری ہیں اور ان کے آئین کو اپنا آئین تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارے ہر بڑے لیڈر کا سرمایہ امریکا یا اس کے حواری کسی ملک میں جمع ہے، یہ سرمایہ ہماری اشرافیہ کے ان ارکان نے اپنی سیاسی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر پاکستان سے لوٹا ہے یعنی اس کی ناجائز کمائی کا ہے اور صرف سرمایہ ہی نہیں ہمارے کئی بڑوں کی اولادیں بھی امریکا یا کسی دوسرے عیسائی ملک کے شہری ہیں اور ان کا مستقبل ظاہر ہے کہ پاکستان کے ساتھ نہیں اس ملک سے وابستہ ہے جس کے وہ نئے شہری ہیں۔ اب یہاں ایک آئت کا حوالہ دیتا ہوں کہ تمہاری مال و دولت اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔
ہماری اولاد اور ہمارا مال دونوں غیر ملکوں میں ہیں اور پاکستانی نقطہ نظر سے ایک فتنہ ہیں یعنی فتنے کا باعث بن سکتے ہیں اور ہم سب کو معلوم ہے اور ہر مالدار اور صاحب اولاد اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لیے کیا کچھ نہیں کر سکتے اور کسی بھی فتنے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ آج ہم اسی فتنے میں مبتلا ہیں اور امریکا کی خوشنودی پر اپنی آزادی اور بقا تک قربان کر رہے ہیں۔ ہم اتنے بے وقوف ہیں اور قوم کو بھی بنا رہے ہیں کہ ہم امریکا سے ٹکر لینے والے ہیں اور اس کے افغانستان سے واپسی کے راستے بند کر رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران طبقے کی جرات نہیں کہ وہ امریکا کی ذرا برابر بھی حکم عدولی کر سکے۔ ہمارے جو لیڈر امریکا سے بات کر رہے ہیں یا اس کو دھمکیاں دے رہے ہیں اگر میں ان کی پاکستانیت بیان کرنا شروع کر دوں تو آپ ان کو نہ جانے کیا کیا کہیں۔ فی الوقت یہی عرض ہے کہ کچھ نہیں ہو گا سب کچھ ایسا ہی چلتا رہے گا۔ یہ اونچ نیچ اس ڈرامے کے مختلف مناظر ہیں جو اسٹوری کو آگے چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان دشمنوں کو چیلنج کرنے والے اصل پاکستانی جب آئیں گے تو ہمارے جیسے کالم نویس اور آپ سب ان کو دم بخود قلم منہ میں دبا کر دیکھا کریں گے۔
خِشت اول چُوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
کہ معمار اگر دیوار کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھ دے گا تو یہ دیوار خواہ آسمان تک بھی اٹھتی جائے ٹیڑھی ہی رہے گی۔ ہم نے دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک بنایا اور ایک نئی تعمیر شروع کی لیکن اس کی بنیادی اینٹ ٹیڑھی رکھ دی چنانچہ یہ اب تک ٹیڑھی ہی اٹھتی جا رہی ہے۔ ہم ہر روز اس دیوار کی کجی کی وجہ سے کسی نہ کسی الجھن میں گرفتار ہو جاتے ہیں مگر اس دیوار پر پھر ایک اور ٹیڑھی اینٹ رکھ دیتے ہیں۔ تعمیر پاکستان کی یہ ٹیڑھی اینٹ ہمارا اشرافیہ تھا جو اب تک کسی نہ کسی روپ بہروپ میں ملک پر مسلط چلا آ رہا ہے اور جو اس کا نتیجہ نکل رہا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ ہر اینٹ ٹیڑھی۔
پاکستان بظاہر بڑے خطے ہندوستان کا ایک ٹکڑا تھا لیکن اس میں بے پناہ طاقت پوشیدہ تھی، یہ سب سے بڑا مسلمان ملک تھا اور نہ جانے کیوں مسلمان ممالک اسے خود بخود ہی اپنا قائد سمجھنے لگے تھے، اس ملک کے اندر قدرت نے بے پناہ قیمتی معدنیات رکھ دی تھیں، اسے ایک بہت ہی زرخیز زمین دی تھی اور اس کو سیرابی کے وسیلے دیے تھے اور پھر سب سے بڑی نعمت اس پر آباد انسان تھے جو ایک نظرئیے کو ماننے والے تھے اسے زندہ کر رہے تھے، اس کے لیے موت کو شہادت سمجھتے تھے اور اس کی حفاظت میں زندہ رہتے تو غازی کا لقب پاتے تھے۔ اس پاکستانی قوم کے نظریات اس پر کسی سوویت یونین کی طرح ٹھونسے نہیں گئے تھے بلکہ اس کے جماندرو تھے، اس کو نسل در نسل ورثے میں ملے تھے ایک ایسا ورثہ جس میں اس کی دنیا و آخرت کی نجات مضمر تھی، اس میں اس کی زندگی کا ایک مقصد تھا جو اس کے قائد نے اسے اچھی طرح ذہن نشین کرا دیا تھا کہ تم دنیا اور اس خطے کی ایک علیحدہ اور منفرد قوم ہو تم سب سے مختلف ہو اور سب سے جدا بھی۔ تمہارا معنوی وجود تو کوئی چودہ سو برس سر زمین عرب میں وجود میں آیا تھا لیکن جغرافیائی وجود اس دن جب تمہارے قائد کے الفاظ میں پہلا ہندوستانی یہاں مسلمان ہوا تھا تو وہ ایک پاکستانی تھا پہلا پاکستانی۔ ہمارے ایک شاعر قتیلؔ شفائی نے اسی پاکستان کا یوں ذکر کیا ہے
ایک ہی پہچان تھی میری اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
طویل حکائت کو مختصر کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کا بانی تو یہ کہتا ہوا رخصت ہو گیا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں اور قوم کو اپنے ساتھیوں کا حال بتا گیا اور جو اس نے بتایا تھا وہ سچ تھا کہ یہ کھوٹے سکے ہمارے بازار سیاست میں کھرے بن کر چلتے گئے اور انھوں نے سب سے پہلے اپنے مفادات کی خاطر باہر کی غالب دنیا کی اطاعت قبول کر لی کیونکہ وہ ذہنی طور پر کھوکھلے لوگ تھے پہلے تو برطانیہ تھا ہی جس کی غلامی ہماری اشرافیہ کی جڑوں میں اتری ہوئی تھی پھر برطانیہ ہمیں امریکا کے ہاتھوں بیچ گیا اور ہماری اشرافیہ پل بھر میں امریکا کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ ثقہ اور پرانی تہذیب و روایات کے حامل برطانیہ نے ہمیں نو دولتوں اور نو طاقتوں کے سپرد کر دیا۔ جس نے ہماری درگت بنانی شروع کر دی۔ آج کا دن اگر ہم اپنے اخبارات پر ایک نظر ڈالیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں کیا نہ کریں۔ ہم بیس کروڑ مسلمان اور جدید دنیا کے باسی یوں کہیں کہ مٹھی بھر طالبان نام کے چند گروہوں کے قبضے میں ہیں۔ اس پر ہم اپنے حکمرانوں اور قائدین سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ہمارے سابق والی برطانیہ نے اپنی رعایا کو جس نئی طاقت کے سپرد کیا سب سے پہلے ہم بذات خود فرداً فرداً اس کے پاس بک گئے۔ ہم میں کئی بڑے اس ملک کے شہری ہیں لیکن پاکستان کے بھی ہیں۔ یعنی ہم اسلام اور عیسائیت کو بیک وقت مانتے ہیں کیونکہ دونوں مذہبوں کے ماننے والے ملکوں کے شہری ہیں اور ان کے آئین کو اپنا آئین تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارے ہر بڑے لیڈر کا سرمایہ امریکا یا اس کے حواری کسی ملک میں جمع ہے، یہ سرمایہ ہماری اشرافیہ کے ان ارکان نے اپنی سیاسی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر پاکستان سے لوٹا ہے یعنی اس کی ناجائز کمائی کا ہے اور صرف سرمایہ ہی نہیں ہمارے کئی بڑوں کی اولادیں بھی امریکا یا کسی دوسرے عیسائی ملک کے شہری ہیں اور ان کا مستقبل ظاہر ہے کہ پاکستان کے ساتھ نہیں اس ملک سے وابستہ ہے جس کے وہ نئے شہری ہیں۔ اب یہاں ایک آئت کا حوالہ دیتا ہوں کہ تمہاری مال و دولت اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔
ہماری اولاد اور ہمارا مال دونوں غیر ملکوں میں ہیں اور پاکستانی نقطہ نظر سے ایک فتنہ ہیں یعنی فتنے کا باعث بن سکتے ہیں اور ہم سب کو معلوم ہے اور ہر مالدار اور صاحب اولاد اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لیے کیا کچھ نہیں کر سکتے اور کسی بھی فتنے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ آج ہم اسی فتنے میں مبتلا ہیں اور امریکا کی خوشنودی پر اپنی آزادی اور بقا تک قربان کر رہے ہیں۔ ہم اتنے بے وقوف ہیں اور قوم کو بھی بنا رہے ہیں کہ ہم امریکا سے ٹکر لینے والے ہیں اور اس کے افغانستان سے واپسی کے راستے بند کر رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران طبقے کی جرات نہیں کہ وہ امریکا کی ذرا برابر بھی حکم عدولی کر سکے۔ ہمارے جو لیڈر امریکا سے بات کر رہے ہیں یا اس کو دھمکیاں دے رہے ہیں اگر میں ان کی پاکستانیت بیان کرنا شروع کر دوں تو آپ ان کو نہ جانے کیا کیا کہیں۔ فی الوقت یہی عرض ہے کہ کچھ نہیں ہو گا سب کچھ ایسا ہی چلتا رہے گا۔ یہ اونچ نیچ اس ڈرامے کے مختلف مناظر ہیں جو اسٹوری کو آگے چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان دشمنوں کو چیلنج کرنے والے اصل پاکستانی جب آئیں گے تو ہمارے جیسے کالم نویس اور آپ سب ان کو دم بخود قلم منہ میں دبا کر دیکھا کریں گے۔