سی این جی شعبے کو بند نہیں ہونے دینگے وزیرپٹرولیم
سی این جی مالکان کا ایل این جی درآمد کرنے میں مدد دینے کا فیصلہ بروقت اقدام ہے، شاہد خاقان عباسی
سی این جی ایسوسی ایشن کا ایل این جی درآمد کرنے کے حکومتی منصوبے میں مدد کا فیصلہ لائق تحسین ہے، وزیر پیٹرولیم فوٹو فائل
وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی ترقی میں سی این جی شعبے کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔
لاکھوں افراد کو روزگار دینے، غریب عوام کی گاڑی کا پہیہ چلانے، ماحولیات، آئل امپورٹ بل اورٹیکسوں کی مد میں حکومت کو بھاری فائدہ پہنچانے والے450 ارب روپے کے اس اہم شعبے کو ترقی دینے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، سی این جی ایسوسی ایشن کا ایل این جی درآمد کرنے کے حکومتی منصوبے میں مدد کا فیصلہ لائق تحسین ہے جس سے توانائی بحران حل ہو جائے گا، اے پی سی این جی اے کے تمام مطالبات کا عمیق مطالعہ کر کے جلد فیصلہ کر دیا جائے گا، قلیل مدت میں ایل این جی کی درآمد توانائی بحران کا واحد حل جبکہ ایرانی گیس توانائی کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔
دو سال میں دو ارب مکعب فٹ گیس سسٹم میں شامل کر دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مائی فیول سی این جی 2013 کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں گیس کم جبکہ استعمال بڑھتا جا رہا ہے، نئے ذخائر گیس کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر پا رہے، ان حالات میں سی این جی مالکان کا ایل این جی درآمد کرنے میں مدد دینے کا فیصلہ بروقت اقدام ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن ایک فعال ادارہ ہے۔
جس کی وجہ سے آج پاکستان سی این جی کے استعمال میں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں گاڑیوں کی نصف تعداد سستا اور ماحول دوست ایندھن استعمال کر رہی ہے، ہم اس شعبے کے مسائل حل کریں گے اورکسی بھی سیکٹر کو بند نہیں ہونے دینگے، حکومت غلطی تو کر سکتی ہے مگر بد نیت ہرگز نہیں ہے۔ قبل ازیں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چئیرمین سپریم کونسل غیاث عبداللہ پراچہ اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سی این جی کی حیثیت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، اس لیے حکومت اسے پروان چڑھانے میں ہر ممکن تعاون کرے۔
لاکھوں افراد کو روزگار دینے، غریب عوام کی گاڑی کا پہیہ چلانے، ماحولیات، آئل امپورٹ بل اورٹیکسوں کی مد میں حکومت کو بھاری فائدہ پہنچانے والے450 ارب روپے کے اس اہم شعبے کو ترقی دینے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، سی این جی ایسوسی ایشن کا ایل این جی درآمد کرنے کے حکومتی منصوبے میں مدد کا فیصلہ لائق تحسین ہے جس سے توانائی بحران حل ہو جائے گا، اے پی سی این جی اے کے تمام مطالبات کا عمیق مطالعہ کر کے جلد فیصلہ کر دیا جائے گا، قلیل مدت میں ایل این جی کی درآمد توانائی بحران کا واحد حل جبکہ ایرانی گیس توانائی کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔
دو سال میں دو ارب مکعب فٹ گیس سسٹم میں شامل کر دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مائی فیول سی این جی 2013 کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں گیس کم جبکہ استعمال بڑھتا جا رہا ہے، نئے ذخائر گیس کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر پا رہے، ان حالات میں سی این جی مالکان کا ایل این جی درآمد کرنے میں مدد دینے کا فیصلہ بروقت اقدام ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن ایک فعال ادارہ ہے۔
جس کی وجہ سے آج پاکستان سی این جی کے استعمال میں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں گاڑیوں کی نصف تعداد سستا اور ماحول دوست ایندھن استعمال کر رہی ہے، ہم اس شعبے کے مسائل حل کریں گے اورکسی بھی سیکٹر کو بند نہیں ہونے دینگے، حکومت غلطی تو کر سکتی ہے مگر بد نیت ہرگز نہیں ہے۔ قبل ازیں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چئیرمین سپریم کونسل غیاث عبداللہ پراچہ اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سی این جی کی حیثیت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، اس لیے حکومت اسے پروان چڑھانے میں ہر ممکن تعاون کرے۔