حکومت نے متعلقہ ٹیکس دفاترمیں رجسٹریشن کا فیصلہ واپس لے لیا

ترمیمی ایس آراوجاری،کمپنیوں،اداروں وٹیکس دہندگان کی بجٹ سے پہلے کی پوزیشن بحال

آرٹی اوزوایل ٹی یوزسے ریکارڈکی منتقلی کامسئلہ فیصلہ واپس لینے کی وجہ بنا،ایف بی آرحکام فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے طاقتور لابی کے دباؤ پر کمپنیوں، اداروں اور ٹیکس دہندگان کی متعلقہ ایل ٹی یوز اور آر ٹی اوز میں رجسٹریشن کا فیصلہ بھی واپس لے لیا ہے، یہ اقدام رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کیا گیا تھا۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے گزشتہ روز ترمیمی ایس آر او نمبر 945(I)/2013 جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترامیم کردی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمپنیوں، اداروں اور ٹیکس دہندگان کی متعلقہ لارج ٹیکس پیئرز یونٹس اور ریجنل ٹیکس آفسز میں رجسٹریشن کے حوالے سے سیلز ٹیکس رولز میں متعارف کرائی جانے والی شقوں میں ترامیم کردی گئی ہیں اور جن شقوں میں ترامیم کی گئی تھیں انہیں واپس پرانی پوزیشن پر بحال کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوںنے بتایا کہ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز2006 میں ترامیم متعارف کرائی تھیں جن میں ٹیکس دہندگان، اداروں اور کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا کہ ٹیکس دہندگان، ادارے اور کمپنیاں جس ایل ٹی یو اور آر ٹی او کی حدود میں واقع ہوں گی اور کاروبار یا مینوفیکچرنگ کر رہی ہوں گی انکی رجسٹریشن بھی ان ہی آر ٹی اوز اور ایل ٹی یوز میں ہوگی اور بجٹ میں اٹھائے جانے والے اس اقدام پر عملدرآمد کرتے ہوئے اداروں ،کمپنیوں اور ٹیکس دہندگان کی جوریزڈکشن بھی تبدیل کردی گئی تھیں۔




لیکن جوریزڈکشن کی تبدیلی سے صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے اور آر ٹی اوز سمیت ایل ٹی یوز سے کمپنیوں، اداروں اور ٹیکس دہندگان کے ریکارڈ کی منتقلی ایک بہٹ بڑا مسئلہ بن گئی ہے جس کے باعث اب ایف بی آر نے کمپنیوں، اداروں اور ٹیکس دہندگان کی ایل ٹی یوز اور آر ٹی اوز میں رجسٹریشن و جوریزڈکشن کی رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ سے پہلے والی پوزیشن بحال کی ہے۔

جس کے تحت اب کمپنیاں، ادارے اور ٹیکس دہندگان وہیں رجسٹرڈ رہیں گے جہاں وہ بجٹ سے قبل رجسٹرڈ تھے کیونکہ بہت سی کمپنیاں ایسی ہیں جن کے مینوفیکچرنگ یونٹس و پلانٹس ملک کے مختلف شروں اور اضلاع میں لگے ہوئے ہیں لیکن ان کے ہیڈ آفسز کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہیں اس لیے ان کی رجسٹریشن مختلف شہروں اور اضلاع میں واقع ایل ٹی یوز یا ریجنل ٹیکس آفسز میں ہونے کے بجائے جہاں ان کمپنیوں کے ہیڈ آفسز ہوں گے وہاں واقع ایل ٹی یوز و آر ٹی اوز میں ان کی رجسٹریشن ہو گی۔
Load Next Story