جعلسازمینول کلیئرنس نظام کافائدہ اٹھارہے ہیںٹاول مینوفیکچررز

سسٹم نقائص کے باعث ٹیکسٹائل کی آڑمیں پوست یورپ بھیجنے کی سازش ہوئی

خامیاں دورکی جائیں،چیئرمین ایف بی آر معاملے کی خود تحقیقات کریں،افتخار ملک ۔ فوٹو: فائل

محکمہ کسٹمز کراچی ایکسپورٹ کلکٹریٹ میں برآمدی ایل سی ایل کارگو کی ایکسپورٹر کے پورٹل کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس سسٹم کے فقدان کے باعث برآمدی کنسائنمنٹس کی آڑ میں منشیات سمیت دیگر ممنوع اشیا کی اسمگلنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

محکمہ کسٹمز کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پورٹ قاسم کسٹمز کلکٹریٹ کے ''وی بوک کلیرنس سسٹم'' میں برآمدی ایل سی ایل کارگوکی متعلقہ برآمدکنندہ کے ویب پورٹل کے ذریعے گڈز ڈیکلریشن داخل اور کسٹمز کلیئرنس ہوتی ہے جس کے سبب متعلقہ برآمدکنندہ ہی اپنے ایل سی ایل ایکسپورٹ کنسائنمنٹ کا مکمل ذمے دار ہوتا ہے لیکن کراچی ایکسپورٹ کلکٹریٹ کے ای فائلنگ سسٹم میں ایل سی ایل برآمدی کارگو کے مینول کسٹمز کلیئرنس سسٹم کی وجہ سے جعلسازوں کے منظم گروہ نے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹاولزمینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دو پرانے برآمدکنندہ کمپنیوں کے این ٹی این حاصل کرکے گڈز ڈیکلریشن داخل کرائی اور ٹیکسٹائل پراڈکٹس کی آڑ میں پوست کے بیجوں کی ایک بڑی مقدار یورپ برآمد کرنے کی کوشش کی۔

جبکہ محکمہ کسٹمز کی جانب سے ٹی ایم اے کے مذکورہ دونوں برآمدکنندہ کمپنیوں کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج کردی گئی ہے۔ اس ضمن میں ٹاولز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخار ملک نے بتایا کہ مذکورہ جعلسازی کے بعد ٹاولز سمیت دیگر ٹیکسٹائل ویلیوایڈڈ سیکٹر کے برآمدکنندگان میں کھلبلی مچ گئی ہے۔




ایسوسی ایشن محسوس کرتی ہے کہ محکمہ کسٹمز میں رائج کلیئرنس سسٹمز میں تاحال خامیاں موجود ہیں جس کا جعلسازوں کا منظم گروہ بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ ملک کے لیے قیمتی ذرمبادلہ کمانے والے برآمدکنندگان اضطرابی کیفیت سے دوچار ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ واقعے کے بعد ٹاولز انڈسٹری میں یہ تاثر عام ہوگیا ہے کہ کراچی کسٹمز ایکسپورٹ کلکٹریٹ کے ذریعے کسی بھی برآمدکنندہ کے صرف این ٹی این اور جعلی ای فارم کے ذریعے کوئی بھی ممنوع اشیا برآمد ہو سکتی ہے۔ افتخارملک نے بتایا کہ پاکستان سے امریکا اور یورپین ممالک کو سالانہ 1ارب40 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹاولزکی برآمدات ہوتی ہیں جو پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مجموعی برآمدات کا 10 فیصد حصہ ہے، چیئرمین ایف بی آر ڈائریکٹرجنرل کسٹمز انٹیلی جنس اور ممبرکسٹمز ایف بی آر کی جانب سے برآمدی شعبے کے لیے کسٹمز کلیئرنس سسٹم میں موجود خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو برآمدکنندگان نہ صرف مایوسی سے دوچار ہوں گے بلکہ پاکستان سے ٹاولز کے علاوہ دیگرویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کے حجم میں نمایاں کمی کے خطرات پیدا ہوجائیں گے۔

انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹاولزایکسپورٹ کی آڑ میں پوست کے بیجوں کی اسمگلنگ کے واقعے کی خود تحقیقات کریں تاکہ ٹاولز سیکٹر کے برآمدکنندگان میں جاری بے یقینی کی کیفیت ختم ہوسکے۔ ایک سوال کے جواب میں افتخار ملک نے بتایا کہ ٹی ایم اے کے جن دو رکن برآمدکنندہ کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ پاکستان سے فرار نہیں ہوئے بلکہ حکام کو موقف پیش کرچکے ہیں اور ایسوسی ایشن کی سطح پران سے تعاون کررہے ہیں۔
Load Next Story