کنسائنمنٹس کی اسکیننگ نہ ہونے سے اسمگلنگ کاخطرہ
کسٹم حکام سامان کااندازہ نہیں لگاپاتے،اسلحہ ودیگرممنوع اشیاکی اسمگلنگ ممکن ہے،ذرائع
متعلقہ کسٹمز حکام کی جانب سے ان کنسائمنٹس کی نہ توکسٹمزایگزامینشن کی جاتی ہے اورنہ ہی ان کی اسکیننگ ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل
کراچی پورٹ سے ملک کی مختلف خشک گودیوں پر بھیجے جانیوالے کنسائنمنٹس کی اسکیننگ نہ ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پر اسلحہ سمیت دیگر ممنوع اشیا کی اسمگلنگ کے خطرات ہیں۔
ذرائع کے مطابق کراچی پورٹ اورپورٹ قاسم کلکٹریٹس میں کسٹمزکلیئرنس کیلیے آنے والے کنسائنمنٹس جن کی ''ٹی پی'' فائل کی جاتی ہے متعلقہ کسٹمز حکام کی جانب سے ان کنسائمنٹس کی نہ توکسٹمزایگزامینشن کی جاتی ہے اورنہ ہی ان کی اسکیننگ ہوتی ہے جس کے باعث کسٹمزحکام ان کنسائنمنٹس میں موجود اشیا کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی سے ملک کی مختلف ڈرائی پورٹس پر جانیوالے بیشترکنسائنمنٹس میں موجودہ ممنوع اشیا کے کنٹینرز کی راستے میں سیل توڑے بغیر کنٹینر کے دروازوں کو دونوں اطراف کے نٹ بولٹس انتہائی مہارت سے کھول کر اشیا نکال لی جاتی ہیں۔
جس کے بعد ان کنٹینرزمیں وہ اشیا بھرلی جاتی ہیں جنہیں متعلقہ درآمدکنندہ کی جانب سے داخل کرائی جانیوالے گڈز ڈیکلریشن میں ظاہر کیا گیا ہوتا ہے تاہم کنسائنمنٹس کی جانچ پڑتال نہ کیے جانے سے اسلحہ سمیت مختلف ممنوع اشیاکی اسمگلنگ کو بھی نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق کراچی پورٹ اورپورٹ قاسم کلکٹریٹس میں کسٹمزکلیئرنس کیلیے آنے والے کنسائنمنٹس جن کی ''ٹی پی'' فائل کی جاتی ہے متعلقہ کسٹمز حکام کی جانب سے ان کنسائمنٹس کی نہ توکسٹمزایگزامینشن کی جاتی ہے اورنہ ہی ان کی اسکیننگ ہوتی ہے جس کے باعث کسٹمزحکام ان کنسائنمنٹس میں موجود اشیا کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی سے ملک کی مختلف ڈرائی پورٹس پر جانیوالے بیشترکنسائنمنٹس میں موجودہ ممنوع اشیا کے کنٹینرز کی راستے میں سیل توڑے بغیر کنٹینر کے دروازوں کو دونوں اطراف کے نٹ بولٹس انتہائی مہارت سے کھول کر اشیا نکال لی جاتی ہیں۔
جس کے بعد ان کنٹینرزمیں وہ اشیا بھرلی جاتی ہیں جنہیں متعلقہ درآمدکنندہ کی جانب سے داخل کرائی جانیوالے گڈز ڈیکلریشن میں ظاہر کیا گیا ہوتا ہے تاہم کنسائنمنٹس کی جانچ پڑتال نہ کیے جانے سے اسلحہ سمیت مختلف ممنوع اشیاکی اسمگلنگ کو بھی نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔