اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کیلیے ٹاسک فورس قائم کرنیکا فیصلہ

فورس قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مشاورت سے آپریشن کریگی، 10خصوصی آپریشنل ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی.

کراچی میں قانونی اسلحہ لائسنسوں کی جانچ پڑتال کیلیے ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں5کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ،لائسنس رکھنے والوں میں تصدیق نامہ تقسیم کیا جائیگا فوٹو:فائل

وفاقی حکومت نے کراچی میں غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل ،ایرانی پٹرول اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے آپریشنل پلان کو حتمی شکل دیدی، تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط کیلیے آپریشنل ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس ٹاسک فورس میں وفاقی اور سندھ حکومتوں،ایف بی آر ،کسٹم ،کوسٹ گارڈ ،میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ،سندھ پولیس ،انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے،یہ آپریشنل ٹاسک فورس وفاق کی وزارت داخلہ کی نگرانی میں کام کرے گی، ادھر محکمہ داخلہ حکومت سندھ نے کراچی میں قانونی اسلحہ لائسنسوں کی جانچ پڑتال کیلیے ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں پانچ کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسلحہ لائسنس رکھنے والے شہریوں میں تصدیق نامہ بھی تقسیم کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ ترین ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت سے طویل مشاورت کے بعد وفاقی حکومت نے کراچی میں غیر قانونی اسلحے کی ترسیل کی روک تھام ،منشیات اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ کو روکنے کیلیے آپریشنل پلان تشکیل دیدیا ہے، اس آپریشنل پلان کے تحت کراچی کے اہم ترین علاقوں سہراب گوٹھ ،منگھوپیر ،یوسف گوٹھ اور دیگر میں جرائم پیشہ عناصر خصوصاً اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بنائی جانے والی ٹاسک فورس قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشاورت سے کراچی کے مختلف علاقوں میں ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گرینڈ آپریشن کرے گی اور اس گرینڈ آپریشن کیلیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل 10خصوصی آپریشنل ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی ۔




جو اعلیٰ حکام کی منظوری کے بعدکارروائی کریں گی، آپریشنل ٹیموں کوسندھ حکومت کی مکمل معاونت حاصل ہوگی اور یہ ٹیمیں شہر میں ان عناصر کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی کے داخلی اور خارجی راستوں سپرہائی وے،نیشنل ہائی وے اور حب ریور روڈپر قائم چیک پوسٹوں میں نفری میں مزید اضافے کے ساتھ انھیں جدید آلات سے آراستہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، دریں اثنا حکومت سندھ کراچی میں گھر گھر جاکر قانونی اسلحہ لائسنسوں کی تصدیق کے لیے پالیسی کو مرتب کررہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تصدیق نامہ تیار کیا جارہا ہے یہ تصدیق نامہ تھانوں کی سطح پر اسلحہ لائسنس رکھنے والے شہریوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

اس تصدیق نامے میں لائسنس حاصل کرنے والے شخص کے مکمل کوائف ،اسلحہ خریدنے کی وجوہات اور کتنی گولیاں خریدی گئیں ،کب خریدی گئیں اور انھیں کہاں استعمال کیا گیاہے یہ تفصیلات اس تصدیق نامے میں درج کرنا ہوں گی اور تصدیق نامے کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی اور لائسنس کی فوٹو کاپی بھی منسلک کرنا ہوگی، اگر اس پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی جاتی ہے تو پھر اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں متعلقہ تھانوں میں پولیس افسران لائسنس رکھنے والے شہریوں کے گھر جاکر یہ تصدیق نامہ تقسیم کریں گے ، تصدیق نامہ جمع کرانے کے بعد اس تصدیق نامے کا ریکارڈ مرتب کرکے ڈپٹی کمشنرز کی توسط سے حکومت کو بھیجا جائے گا اور لائسنس رکھنے والے شہری کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حواے سے غلط معلومات دینے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کے اسلحہ لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔
Load Next Story