ایشیا کپ میں ناقص کارکردگی 4 بنگلہ دیشی ہاکی پلیئرز معطل کوچ کی چھٹی

محبوب ہارون سینئر کھلاڑیوں کیساتھ مے نوشی بھی کرتے رہے، پاکستانی آفیشل نوید عالم سے تعاون نہیں کیا، تحقیقاتی رپورٹ

کوچ محبوب ہارون کو غیرمعینہ مدت کیلیے تمام قومی ذمہ داریوں سے الگ کردیاگیا۔۔فوٹو:فائل

ISLAMABAD:
بنگلہ دیش ہاکی فیڈریشن نے ایشیا کپ میں ٹیم کی بدترین کارکردگی پر 4پلیئرز کو معطل کرتے ہوئے کوچ محبوب ہارون کی چھٹی کردی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں مورد الزام قرار پانے والے امپائر سلیم سزا سے بچ نکلے۔

تفصیلات کے مطابق رواں برس اگست ، ستمبر میں ملائیشیا میں منعقدہ ایشیا کپ میں ٹیم کی ناقص پرفارمنس پر بی ایچ ایف نے تحقیقات کرائیں، اب اس رپورٹ کی روشنی میں سخت ایکشن لیتے ہوئے چار کھلاڑیوں کو معطل جبکہ کوچ محبوب ہارون کو تمام ذمہ داریوں سے الگ کردیاگیا ہے، 8 ٹیموں کے ایونٹ کا بنگلہ دیش نے ساتویں پوزیشن کیساتھ اختتام کیا جبکہ روانگی سے قبل ٹیم سے بلند توقعات وابستہ کی گئی تھیں، مڈفیلڈر روسل محمد جمی ، گول کیپر زاہد حسین اور دفاعی کھلاڑی عمران حسن پنٹو کو تین برس نیشنل ٹیم اور 2 سال کیلیے ڈومیسٹک ہاکی سے معطل کی سزا دی گئی، فارورڈ خرم زمان رانا کو نیشنل ٹیم سے 2 برس اور ڈومیسٹک ایونٹس سے ایک برس کیلیے دور رکھنے کا فیصلہ کیاگیا، کوچ محبوب ہارون کو غیرمعینہ مدت کیلیے تمام قومی ذمہ داریوں سے الگ کردیاگیا۔




ایونٹ کے دوران ان تمام افراد پر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوئے، یہ فیصلے بی ایچ ایف کی گورننگ باڈی اجلاس میں کیے گئے، جس میں ایونٹ کے حوالے سے بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پر تفصیلی غوروخوض ہوا، بی ایچ ایف کے صدر ایئرمارشل انعام الباری نے میڈیا کو بتایا کہ مجھے ذاتی طور پر اس سخت ایکشن سے دکھ ہے لیکن ملکی ہاکی کی بہتری اور ٹیم میں ڈسپلن قائم رکھنے کیلیے ایسا کرنا ضروری تھا، انھوں نے کہا کہ سزا پانے والے پلیئرز کی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں لیکن ہمارے لیے ڈسپلن سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے، فیڈریشن نے ٹیم کے پاکستانی کوچ نوید عالم اور منیجر عبدالرشید شیکدار کی رپورٹس پر بھی غور کیا،جس میں دونوں آفیشلز نے بھی ان چاروں پلیئرز پر انگلیاں اٹھائی تھیں، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے کوچ اور امپائر سمیت 6 افراد کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

بی ایچ ایف نے اس سے قبل تمام افراد کو اپنے دفاع کیلیے شوکاز نوٹسز جاری کیے تھے، چاروں پلیئرز پر ڈسپلن کی خلاف ورزی اور کمٹمنٹ کی کمی جبکہ آفیشلز پر ٹیم کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کا الزام تھا، محبوب ہارون پر الزام لگاکہ انھوں نے کوچ نوید عالم کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور دوران ایونٹ چند سینئرز کے ساتھ مے نوشی بھی کرتے رہے، اس حوالے سے کھلاڑی روسل محمد جمی نے کہاکہ فیصلہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے، انھوں نے الٹا الزام عائد کیا کہ بی ایچ ایف آفیشلز نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ سے قبل ہی مجھے سبق سکھانے کی دھمکی دی تھی، اس کا تعلق ایشیا کپ میںٹیم کی ناکامی سے نہیں بلکہ میرے محمڈن کلب میں جانے سے ہے جس سے اعلیٰ آفیشلز کے اختلافات ہیں، میں سزا کے اس فیصلے کیخلاف لڑوں گا،کوچ محبوب ہارون نے کہاکہ میرا بی ایچ ایف سے کوئی رسمی معاہدہ نہیں تھا لہذا ذمہ داری سے الگ کرنے کا معاملہ نہیں بنتا۔
Load Next Story