وزیراعظم کیخلاف درخواست کاجائزہ لینا ضروری ہےجسٹس باقر
بینچ پہلےوزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی آئینی وقانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرے۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ
وزیراعظم نے عدلیہ سے متعلق ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔درخواست میں موقف۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقرنے قراردیاہے کہ ججزسے متعلق بیان دینے پر وزیراعظم نوازشریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پرلارجربینچ کی تشکیل سے قبل درخواست کے قابل سماعت ہونے کاجائزہ لیاجانا ضروری ہے۔
اس لیے سنگل بینچ پہلے وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر توہین عدالت کامقدمہ چلانے اور قومی اسمبلی کی رکنیت کیلیے نااہل قراردینے کیلیے دائردرخواست کی آئینی وقانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرے۔ واضح رہے کہ جسٹس فاروق شاہ پرمشتمل سنگل بینچ نے درخواست گزارکی استدعا پر درخواست کی سماعت کیلیے لارجربینچ کی تشکیل کیلیے چیف جسٹس کو سفارش بھیج دی تھی، سماجی کارکن سید محمود نقوی نے وزیراعظم نوازشریف کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاہے کہ وزیراعظم نے 10اکتوبر2013کوصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے عدلیہ سے متعلق ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔
اس لیے سنگل بینچ پہلے وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر توہین عدالت کامقدمہ چلانے اور قومی اسمبلی کی رکنیت کیلیے نااہل قراردینے کیلیے دائردرخواست کی آئینی وقانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرے۔ واضح رہے کہ جسٹس فاروق شاہ پرمشتمل سنگل بینچ نے درخواست گزارکی استدعا پر درخواست کی سماعت کیلیے لارجربینچ کی تشکیل کیلیے چیف جسٹس کو سفارش بھیج دی تھی، سماجی کارکن سید محمود نقوی نے وزیراعظم نوازشریف کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاہے کہ وزیراعظم نے 10اکتوبر2013کوصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے عدلیہ سے متعلق ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔