شام ویٹی کن سفارتخانے پر مارٹر حملہ 93 لاکھ افراد امداد کے منتظر ہیں اقوام متحدہ

بشارالاسدکاآئندہ کوئی کردارنہیں ہوناچاہیے،امریکا،سعودی عرب،صدرکوہٹانامقصدہےتوجنیوامذاکرات میں نہیں جائینگے،شامی حکومت

شام کے مسئلے پر جنیوا امن کانفرنس کا انعقاد دسمبر سے پہلے ممکن نہیں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

شام کے دارالحکومت میں ویٹیکن سٹی کے سفارتخانے پرمارٹر حملہ کیا گیا۔

سفارتکاروں نے بتایا کہ ویٹیکن سٹی کے سفارتخانے پر صبح 6 بجکر 30 منٹ پر مارٹر سے حملہ کیا گیا تاہم عمارت کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی جانی ومالی نقصان ہوا۔ دمشق کے نواح میں لڑائی کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر محمد جمالی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں جاں بحق ہوگئے جنھیں ایران کے شہر کرمان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ امریکااور سعودی عرب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے بشارالاسد کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوناچاہیے۔




عرب ٹی وی کے مطابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ سعودالفیصل کے ساتھ ریاض میں مشترکہ نیوزکانفرنس کے دوران کہاکہ شام میںمقاصد کے حوالے سے ہمارے سعودی عرب کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ بشارالاسد اب حکمرانی کا ہرجواز کھوچکے ہیں۔ انھیں جانا ہوگا۔ ادھرشام کی حکومت نے مجوزہ جنیواامن کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔ وزیراطلاعات اومران الزوہبی نے کہا ہے کہ اگر جنیوا امن کانفرنس کا مقصد صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ہے تو شامی حکومت اس امن کانفرنس میں شرکت نہیں کریگی۔ ہم جنیوا انتظام حکومت کسی اور کو دینے کے لیے نہیں جائیں گے۔

روسی خبر رساں ادارے ایتارتاس کے مطابق شام کے مسئلے پر جنیوا امن کانفرنس کا انعقاد دسمبر سے پہلے ممکن نہیں ہے۔ ترکی میں ایک کرد میئر نے شام کی سرحد کے ساتھ بیریئر تعمیر کرنے پر انقرہ حکومت کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ کردوںکی جماعت بی ڈی پی کے رہنما عیسیٰ گوکان نے اس دیوار کو ''دیوار شرمندگی'' کا نام دیتے ہوئے7 دن کے لیے بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا اور کہاکہ ترک سرحدی قصبہ نصیبہ میں یہ دیوار کردوں کو تقسیم کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ دریںاثنا اقوام متحدہ میں فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس نے کہا ہے کہ شام میں 93لاکھ افراد امداد کے منتظر ہیں، ستمبر میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے یہ تعداد 25 لاکھ زیادہ ہے جو ملک کی کل آبادی کا 40فیصد ہے۔ ویلری آموس نے سیکیورٹی کونسل کو بتایا کہ شام میں بحران تیزی سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔
Load Next Story