بغداد میں مظاہرین کا امریکی سفارتخانے پر دھاوا
ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہزاروں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین میں امریکا مخالف ملیشیا کے جنگجو بھی شریک تھے جنہوں نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا۔ انھوں نے سفارت خانے کی بیرونی دیوار عبور کی تو اندر تعینات امریکی فوجیوں نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ مظاہرین نے ایک گارڈ ٹاور کو نذرِ آتش کر دیا۔
امریکی سفیر اور سفارتی عملے کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ حالیہ واقعہ اتوار کو عراق اور شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کے خلاف ردعمل ہے۔ چند روز پہلے ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا، جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر بھی ہلاک ہوا تھا۔
امریکا نے ردعمل میں ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا، اس حملے میں 25 جنگجوؤں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی خبر دی گئی تھی۔ امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے کی کوشش امریکی حملے میںمارے جانے والے ملیشیا جنگجوؤں کے جنازوں کے بعد ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس حملے میں ایران کا ہاتھ ہے اور اسے پوری طرح ذمے دار ٹھہرایا جائے گا۔
ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے کہا ایران نے ایک امریکی کانٹریکٹر کو ہلاک کیا اور کئی کو زخمی۔ عراق میں مقتدیٰ الصدر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بھڑکنے اور عراق کے خطرات سے خبردار کیا۔آج عراق جس تباہی سے دوچار ہے، اس کا ذمے دار امریکا ہی ہے۔امریکا اور ایران کی آویزیش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
امریکا کسی نہ کسی بہانے ایران کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بغداد میں ہونے والے واقعہ کی ذمے داری ایران پر ڈالا رہا ہے حالانکہ امریکا کے پالیسی سازوں کو بخوبی معلوم ہے کہ عراق کے عوام ان سے نفرت کرتے ہیں اور یہ کہ امریکا کا عراق میں فوجیں رکھنا بلاجواز ہے۔ اگر امریکا عراق سے نکل جائے تو صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ایران کی حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکا کے عزائم کو سمجھے اور اسے کوئی ایسا موقع نہ دے جو اس خطے کو کسی نئی جنگ میں دھکیل دے۔
امریکی سفیر اور سفارتی عملے کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ حالیہ واقعہ اتوار کو عراق اور شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کے خلاف ردعمل ہے۔ چند روز پہلے ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا، جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر بھی ہلاک ہوا تھا۔
امریکا نے ردعمل میں ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا، اس حملے میں 25 جنگجوؤں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی خبر دی گئی تھی۔ امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے کی کوشش امریکی حملے میںمارے جانے والے ملیشیا جنگجوؤں کے جنازوں کے بعد ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس حملے میں ایران کا ہاتھ ہے اور اسے پوری طرح ذمے دار ٹھہرایا جائے گا۔
ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے کہا ایران نے ایک امریکی کانٹریکٹر کو ہلاک کیا اور کئی کو زخمی۔ عراق میں مقتدیٰ الصدر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بھڑکنے اور عراق کے خطرات سے خبردار کیا۔آج عراق جس تباہی سے دوچار ہے، اس کا ذمے دار امریکا ہی ہے۔امریکا اور ایران کی آویزیش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
امریکا کسی نہ کسی بہانے ایران کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بغداد میں ہونے والے واقعہ کی ذمے داری ایران پر ڈالا رہا ہے حالانکہ امریکا کے پالیسی سازوں کو بخوبی معلوم ہے کہ عراق کے عوام ان سے نفرت کرتے ہیں اور یہ کہ امریکا کا عراق میں فوجیں رکھنا بلاجواز ہے۔ اگر امریکا عراق سے نکل جائے تو صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ایران کی حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکا کے عزائم کو سمجھے اور اسے کوئی ایسا موقع نہ دے جو اس خطے کو کسی نئی جنگ میں دھکیل دے۔