کورس برانچ پولیس افسران نے رشوت کیلیے اہلکاروں کی تربیت روک دی
ٹریننگ سینٹر میں اے ایس آئی کی پوسٹ پر ترقی کیلیے 100 اہلکار تربیت کیلیے آئے، میز اور دیگر مد میں فی اہلکار۔۔۔
راشی افسران واہلکاروں نے زیر تربیت اہلکاروں کو واپس بھیج دیا، بلاجواز اعتراض لگا کر امتحان میں شرکت سے روکا جارہا ہے، پولیس اہلکار فوٹو : ایکسپریس/فائل
سندھ پولیس میں اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے کورس کرنے والے100 اہلکاروں کو تربیت مکمل ہونے سے چند روز قبل ٹریننگ سینٹر سے واپس بھیج دیا گیا۔
کورس برانچ کے راشی افسران و اہلکار بلاجواز اعتراضات پر انھیں تنگ کررہے ہیں، 21 نومبر کو انھیں امتحان میں شرکت سے روکا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کی مختلف رینج اور زون سے اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے کورس پر سعید آباد ٹریننگ سینٹر آئے ہوئے 100 اہلکاروں کو واپس بھیج دیا گیا ہے، متاثرہ اہلکاروں نے بتایا ہے کہ100 سے زائد ہیڈ کانسٹیبل اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی کے لیے6 ماہ کے کورس پر سعیدآباد ٹریننگ سینٹر آئے تھے، ٹریننگ کے دوران میس کٹنگ اور دیگر مد میں فی اہلکار مجموعی طور پر60 ہزار روپے سے زائد اخراجات بھی برداشت کیے گئے لیکن ایک ہفتہ قبل اچانک تمام اہلکاروں کو تربیت سے روک دیا گیا۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ٹریننگ کے دوران کوئی اعتراضات نہیں کیا گیا لیکن اب بلاجواز اعتراضات لگائے جارہے ہیں وہ اپنی ٹریننگ کے 5 ماہ مکمل کرچکے ہیں اور اب رواں ماہ کی21 تاریخ کو حتمی امتحان ہے لیکن انھیں امتحان میں شرکت سے روکا جارہا ہے۔
اگر ابھی کورس مکمل نہ ہوا تو انھیں کچھ عرصے بعد دوبارہ کورس کے لیے آنا پڑے گا جبکہ دوبارہ 60 ہزار روپے کے اخراجات بھی اٹھانا ہوں گے، کئی اہلکاروں نے کہا کہ کورس کے اخراجات پورے کرتے ہوئے وہ قرضوں تلے دب گئے ہیں، متاثرہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کورس برانچ کے راشی افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت کا نتیجہ انھیں بھگتنا پڑرہا ہے اس سلسلے میں انھوں نے متعلقہ حکام کو کئی مرتبہ آگاہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوسکی، متاثرہ اہلکاروں نے آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی داد رسی کریں ۔
کورس برانچ کے راشی افسران و اہلکار بلاجواز اعتراضات پر انھیں تنگ کررہے ہیں، 21 نومبر کو انھیں امتحان میں شرکت سے روکا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کی مختلف رینج اور زون سے اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے کورس پر سعید آباد ٹریننگ سینٹر آئے ہوئے 100 اہلکاروں کو واپس بھیج دیا گیا ہے، متاثرہ اہلکاروں نے بتایا ہے کہ100 سے زائد ہیڈ کانسٹیبل اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی کے لیے6 ماہ کے کورس پر سعیدآباد ٹریننگ سینٹر آئے تھے، ٹریننگ کے دوران میس کٹنگ اور دیگر مد میں فی اہلکار مجموعی طور پر60 ہزار روپے سے زائد اخراجات بھی برداشت کیے گئے لیکن ایک ہفتہ قبل اچانک تمام اہلکاروں کو تربیت سے روک دیا گیا۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ٹریننگ کے دوران کوئی اعتراضات نہیں کیا گیا لیکن اب بلاجواز اعتراضات لگائے جارہے ہیں وہ اپنی ٹریننگ کے 5 ماہ مکمل کرچکے ہیں اور اب رواں ماہ کی21 تاریخ کو حتمی امتحان ہے لیکن انھیں امتحان میں شرکت سے روکا جارہا ہے۔
اگر ابھی کورس مکمل نہ ہوا تو انھیں کچھ عرصے بعد دوبارہ کورس کے لیے آنا پڑے گا جبکہ دوبارہ 60 ہزار روپے کے اخراجات بھی اٹھانا ہوں گے، کئی اہلکاروں نے کہا کہ کورس کے اخراجات پورے کرتے ہوئے وہ قرضوں تلے دب گئے ہیں، متاثرہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کورس برانچ کے راشی افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت کا نتیجہ انھیں بھگتنا پڑرہا ہے اس سلسلے میں انھوں نے متعلقہ حکام کو کئی مرتبہ آگاہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوسکی، متاثرہ اہلکاروں نے آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی داد رسی کریں ۔