جنیوا مذاکرات میں عالمی برادری سے جوہری معاہدہ طے پا جائیگا ایرانی وزیر خارجہ
تمام فریقین میں آگے بڑھنے کے لیے خواہش ہو تو ہم معاہدے کے فریم ورک پر پہنچ سکتے ہیں، فرانسیسی ٹی وی سے گفتگو
تمام فریقین میں آگے بڑھنے کے لیے خواہش ہو تو ہم معاہدے کے فریم ورک پر پہنچ سکتے ہیں، فرانسیسی ٹی وی سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
ایران کے وزیرخارجہ جاوید ظریف نے کہا ہے کہ عالمی برادری کے ساتھ جوہری تنازع کے خاتمے کے لیے معاہدہ رواں ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ہونیوالے مذاکرات میں طے پاسکتا ہے۔
بدھ کو اپنے فرانسیسی ہم منصب لاؤرنٹ فیبیوس کے ساتھ مذاکرات سے قبل فرانس 24 ٹیلی ویژن کو ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ میرے خیال میں رواں ہفتے معاہدے پر پہنچنے کا امکان موجود ہے تاہم میں صرف اپنی طرف سے یہ بات کرسکتا ہوں دوسرے فریق کیلیے بات نہیں کرسکتا، اگرچہ کہ ظریف نے یہ کہتے ہوئے کہ ابھی تک بہت سا کام کرنا باقی ہے اپنا بیان بدلنے کی کوشش کی ان کابیان ایرانی صدر حسن روحانی اورسپریم رہنماآیت علی خامنائی کے زیادہ واضح بیانات کے برعکس سامنے آیاہے۔
دونوں جینیوامیں کسی معاہدے کے امکانات کومستردکرچکے ہیں۔ ظریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کارجوخودساختہP5+1 گروپ کے ساتھ جمعرات اورجمعے کومذاکرات کرنے جارہے ہیں انھیں یقین ہےP5+1 امریکا، برطانیہ، چین، فرانس،روس اور جرمنی پرمشتمل ہے۔ ظریف کا کہا تھا کہ ہم نے کچھ پیش رفت حاصل کی ہے لیکن ایران میں P5+1 کے کچھ ارکان کے رویے سے متعلق بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ ایرانی عوام کو دوبارہ اعتماد دلایا جائیگا، اگر تمام فریقین میں اگے بڑھنے کیلیے سیاسی خواہش ہوتو پھر ہم معاہدے کے فریم ورک پرپہنچ سکتے ہیں۔
بدھ کو اپنے فرانسیسی ہم منصب لاؤرنٹ فیبیوس کے ساتھ مذاکرات سے قبل فرانس 24 ٹیلی ویژن کو ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ میرے خیال میں رواں ہفتے معاہدے پر پہنچنے کا امکان موجود ہے تاہم میں صرف اپنی طرف سے یہ بات کرسکتا ہوں دوسرے فریق کیلیے بات نہیں کرسکتا، اگرچہ کہ ظریف نے یہ کہتے ہوئے کہ ابھی تک بہت سا کام کرنا باقی ہے اپنا بیان بدلنے کی کوشش کی ان کابیان ایرانی صدر حسن روحانی اورسپریم رہنماآیت علی خامنائی کے زیادہ واضح بیانات کے برعکس سامنے آیاہے۔
دونوں جینیوامیں کسی معاہدے کے امکانات کومستردکرچکے ہیں۔ ظریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کارجوخودساختہP5+1 گروپ کے ساتھ جمعرات اورجمعے کومذاکرات کرنے جارہے ہیں انھیں یقین ہےP5+1 امریکا، برطانیہ، چین، فرانس،روس اور جرمنی پرمشتمل ہے۔ ظریف کا کہا تھا کہ ہم نے کچھ پیش رفت حاصل کی ہے لیکن ایران میں P5+1 کے کچھ ارکان کے رویے سے متعلق بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ ایرانی عوام کو دوبارہ اعتماد دلایا جائیگا، اگر تمام فریقین میں اگے بڑھنے کیلیے سیاسی خواہش ہوتو پھر ہم معاہدے کے فریم ورک پرپہنچ سکتے ہیں۔