قومی بچت اسکیموں پر کٹوتی کیا مطلب
حکومتی اقدامات اگر عوام کو ریلیف فراہم کریں تو پھر ہی ملک میں اقتصادی اور معاشی استحکام آسکتا ہے۔
حکومتی اقدامات اگر عوام کو ریلیف فراہم کریں تو پھر ہی ملک میں اقتصادی اور معاشی استحکام آسکتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
لاہور:
پاکستان معاشی حوالے سے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک جانب مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے تو دوسری جانب حکومتی سطح پر نئے سال میں معیشت کے استحکام کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف سے دوسری قسط وصول ہونے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالرز سے بڑھ گئے ہیں ۔
دوسری جانب حکومت نے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کردی ہے، نئی شرح کا اطلاق ہوچکا ہے ۔ بہبود اور پنشن اسکیموں کا منافع بارہ اعشاریہ 48سے24 پوائنٹس کم ہوکر اعشاریہ چوبیس ہوگیا ہے ، اس کٹوتی کے نتیجے میں ریٹائرڈ پنشنرز بری طرح متاثر ہونگے اور ان کی معاشی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
ہمیں ایک اور چیلنج درپیش ہے وہ ہے ایف اے ٹی ایف کا۔ اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے وفاقی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پوری کرنے کے لیے منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ میں ملوث لوگوں کو سزائیں دینے سے متعلق جاری آرڈیننسز پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس میں ملوث کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے بھی درج کیے جائیں گے۔
اس کی بنیاد پر فروری میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں مزید دو سے تین ماہ کی مہلت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیونکہ پاکستان اجلاس میں براہ راست موقف پیش نہیں کرسکتا، اس لیے دوست ممالک سے لابنگ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ ایک مشکل ٹاسک ہے جس پر پورا اترنے کے لیے پاکستان کو سخت اور دور رس اقدامات کی ضرورت ہے، جو وہ کررہا ہے۔ ایک خوش کن خبر یہ آئی ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا ، جس سے انڈیکس سولہ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس تیزی کے اسباب کے بارے میں ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ فنانشل انسٹیٹیوشنز اور میوچل فنڈز سمیت سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں نے مارکیٹ میں نئے سال کے لیے زیاد ہ مالیت کی انویسمٹنٹ ایلوکیشن کی ہے کیونکہ انھیں معاشی اشاریے مثبت نظر آرہے ہیں ۔
اس لیے وہ نئے سال کی ترجیحات کے مطابق حصص کی خریداری کی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں ۔مارکیٹ میں جاری تیزی میں مقامی سرمایہ کاروں ہی کا اہم کردار ہے جو مارکیٹ کے مورال کو بلند کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ عوامی نقطہ نظر سے ایک بھاری بھر کم خبر بھی آئی ہے کہ نئے سال میں تمام فضائی کمپنیوں نے اندرون ملک پروازوں کے کرائے اچانک بڑھا دیے ہیں۔35سے 38 ہزار روپے یکطرفہ کرائے کی وصولی شروع کردی گئی ہے ۔
مسافروں نے دہائی دی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں کراچی سے لاہور یا لاہور سے کراچی جانا پڑے تو نہیں جاسکتے ۔ حکومت کرایوں میں اضافے کا نوٹس لے کر اسے کم کرے۔ یہاں ہم حکومتی تضاد اور عدم توجہ کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں یہ بات درست سہی کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، اسٹاک ایکس چینج میں بھی تیزی کا رحجان پایا جارہا ہے لیکن قومی بچت کی اسکیموں میں کٹوتی اور فضائی کرایوں میں اضافہ عوام کش اقدامات ہیں۔ جب تک عوام کو بہتر انفرااسٹرکچر، بنیادی سہولیات اورسستی ٹرانسپورٹ حکومتی سطح پر فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک معاشی استحکام کے دعوے نہیں کیے جاسکتے ۔
ریاست عوام کو ریلیف دیتی ہے تو عوام سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اگر عوام کو ریلیف فراہم کریں تو پھر ہی ملک میں اقتصادی اور معاشی استحکام آسکتا ہے، ورنہ یہ اعدادوشمارکی خبریں عوام کو ریلیف اور خوشی فراہم کرنے سے قاصر رہیں گی۔
پاکستان معاشی حوالے سے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک جانب مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے تو دوسری جانب حکومتی سطح پر نئے سال میں معیشت کے استحکام کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف سے دوسری قسط وصول ہونے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالرز سے بڑھ گئے ہیں ۔
دوسری جانب حکومت نے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کردی ہے، نئی شرح کا اطلاق ہوچکا ہے ۔ بہبود اور پنشن اسکیموں کا منافع بارہ اعشاریہ 48سے24 پوائنٹس کم ہوکر اعشاریہ چوبیس ہوگیا ہے ، اس کٹوتی کے نتیجے میں ریٹائرڈ پنشنرز بری طرح متاثر ہونگے اور ان کی معاشی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
ہمیں ایک اور چیلنج درپیش ہے وہ ہے ایف اے ٹی ایف کا۔ اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے وفاقی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پوری کرنے کے لیے منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ میں ملوث لوگوں کو سزائیں دینے سے متعلق جاری آرڈیننسز پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس میں ملوث کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے بھی درج کیے جائیں گے۔
اس کی بنیاد پر فروری میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں مزید دو سے تین ماہ کی مہلت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیونکہ پاکستان اجلاس میں براہ راست موقف پیش نہیں کرسکتا، اس لیے دوست ممالک سے لابنگ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ ایک مشکل ٹاسک ہے جس پر پورا اترنے کے لیے پاکستان کو سخت اور دور رس اقدامات کی ضرورت ہے، جو وہ کررہا ہے۔ ایک خوش کن خبر یہ آئی ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا ، جس سے انڈیکس سولہ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس تیزی کے اسباب کے بارے میں ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ فنانشل انسٹیٹیوشنز اور میوچل فنڈز سمیت سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں نے مارکیٹ میں نئے سال کے لیے زیاد ہ مالیت کی انویسمٹنٹ ایلوکیشن کی ہے کیونکہ انھیں معاشی اشاریے مثبت نظر آرہے ہیں ۔
اس لیے وہ نئے سال کی ترجیحات کے مطابق حصص کی خریداری کی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں ۔مارکیٹ میں جاری تیزی میں مقامی سرمایہ کاروں ہی کا اہم کردار ہے جو مارکیٹ کے مورال کو بلند کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ عوامی نقطہ نظر سے ایک بھاری بھر کم خبر بھی آئی ہے کہ نئے سال میں تمام فضائی کمپنیوں نے اندرون ملک پروازوں کے کرائے اچانک بڑھا دیے ہیں۔35سے 38 ہزار روپے یکطرفہ کرائے کی وصولی شروع کردی گئی ہے ۔
مسافروں نے دہائی دی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں کراچی سے لاہور یا لاہور سے کراچی جانا پڑے تو نہیں جاسکتے ۔ حکومت کرایوں میں اضافے کا نوٹس لے کر اسے کم کرے۔ یہاں ہم حکومتی تضاد اور عدم توجہ کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں یہ بات درست سہی کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، اسٹاک ایکس چینج میں بھی تیزی کا رحجان پایا جارہا ہے لیکن قومی بچت کی اسکیموں میں کٹوتی اور فضائی کرایوں میں اضافہ عوام کش اقدامات ہیں۔ جب تک عوام کو بہتر انفرااسٹرکچر، بنیادی سہولیات اورسستی ٹرانسپورٹ حکومتی سطح پر فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک معاشی استحکام کے دعوے نہیں کیے جاسکتے ۔
ریاست عوام کو ریلیف دیتی ہے تو عوام سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اگر عوام کو ریلیف فراہم کریں تو پھر ہی ملک میں اقتصادی اور معاشی استحکام آسکتا ہے، ورنہ یہ اعدادوشمارکی خبریں عوام کو ریلیف اور خوشی فراہم کرنے سے قاصر رہیں گی۔