یو اے ای کی اقتصادی خیرسگالی
اتصالات 80 کروڑ میں سے 26 کروڑ70 لاکھ ڈالر دینے پر آمادہ ہوگیا ہے اور یہ صائب پیش رفت ہے۔
اتصالات 80 کروڑ میں سے 26 کروڑ70 لاکھ ڈالر دینے پر آمادہ ہوگیا ہے اور یہ صائب پیش رفت ہے۔فوٹو:فائل
ابوظہبی کے ولی عہد اور یو اے ای کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زایدالنہیان نے جمعرات کو پاکستان کا ایک روزہ مختصر دورہ کیا۔ دورہ کے اختتام پر پاکستان کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا، یہ رقم پاکستان کی اقتصادی ترقی اور چھوٹی صنعتوں اور کاروبار و روزگار کی فراہمی کی مد میں خرچ کی جائے گی۔ یہ یو اے ای کی طرف سے وزیراعظم کے لیے خیرسگالی اور جنوب ایشیائی تنازعات پر پاکستان کی حمایت ، دوطرفہ اشتراک عمل اور معاشی معاونت کا کلیدی اظہار ہے۔
اعلامیہ کے مطابق ولی عہد نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے متحدہ عرب امارات کی جانب سے حمایت کی جو یقین دہانی کرائی ہے ، اسے پاکستان نے سراہا ہے جب کہ ولی عہد نے او آئی سی میں پاکستان کے اہم کردار کو بھی سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو بلندیوں کی نئی سطح تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ولی عہد کے ہمراہ کابینہ ارکان اور سینئر حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی تھا۔
شیخ محمد بن زید النہیان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات زیر بحث لائے گئے۔وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر اور وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور یو اے ای کے وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔جمعرات کی شام شیخ محمد بن زاید النیہان دورہ پاکستان مکمل کرکے واپس روانہ ہوگئے۔
خطے کے وسیع تر سیاسی و اقتصادی تناظر میں ولی عہد ابوظہبی کا ایک روزہ دورہ اس اعتبار سے بھی نمایاں اہمیت کا حامل ہے کہ خطے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور پاکستان علاقے میں ابھرنے والی اہم معیشتوں میں اپنے جائز مقام کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم عمران خان کو ایک ڈائنامک اقتصادی روڈ میپ کی ضرورت ہے جو پاکستان میں غربت، پسماندگی،تنگ دستی اور بیروزگاری کے خاتمہ میں غیر معمولی پیش رفت کرکے عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرسکے۔
اقتصادی ذرایع کے مطابق اس دورے نے پاکستان کی معاشی فعالیت کی طرف موثر سمت سازی کا عندیہ دیا ہے اور یو اے ای کی بروقت معاونت سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید پائیدار،مستحکم اور نتیجہ خیز ہونگے۔ ذرایع کے مطابق اتصالات 80 کروڑ میں سے 26 کروڑ70 لاکھ ڈالر دینے پر آمادہ ہوگیا ہے اور یہ صائب پیش رفت ہے۔
وزارت خزانہ اور وزارت نجکاری کے ذرایع کا کہناہے کہ اتصالات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے ذمے 53 کروڑ30 لاکھ کی کٹوتی اس لیے کررہی ہے کہ حکومت پاکستان نے مختلف وجوہات پر پی ٹی سی ایل کی پراپرٹیز اس کے نام منتقل نہیں کیں۔
جمعرات کو مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت بین الوزارتی کمیٹی کے ایک اجلاس میں اتصالات کی پیشکش اور اس کے ذمے زیر التوا واجبات کا جائزہ لیا گیا۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے حتمی فیصلے کے فوائد پاکستان ہی کو حاصل ہونگے۔
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطح کے رابطوں اور دو برادر ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بتدریج پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پاک، یو اے ای خصوصی تعلقات کی اسٹرٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے گہرے اقتصادی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے پاکستان میں اقتصادی پیشرفت، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع اور اہم شراکت داری کے ساتھ مفید تجارتی اور کمرشل روابط کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے دیگر سیکٹرز کے علاوہ توانائی اور ٹورازم سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں میں قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اب لازم ہے کہ ان کاروباری طبقات کو جو ملکی معیشت کے بحرانی ادوار میں شدید متاثر رہے ان کے خسارے کم ، پیداواری طاقت کو سہارا ملے، مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کا ماحول بڑے اور صنعتی ترقی کے ہم قدم چلنے کے قابل بنائے۔ اس وقت ضرورت ہمہ جہتی ترقی و خوشحالی کے کے لیے ٹھوس عملی منصوبوں کی ہے، ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت میں کمی لائی جائے اور سرمایہ کاری کے لیے مطلوبہ ماحول کے سازگار ہونے تک داخلی سیاسی اور معاشی ٹالرنس کو قومی مفاد میں جمہوری رویے میں ڈھالا جائے۔
دریں اثنا وزیراعظم نے یو اے ای میں 16 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین وطن کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کیا جو یو اے ای کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی اقتصادی، سماجی ترقی اور بالخصوص صحت، تعلیم اور یوتھ سیکٹر کے لیے کمٹمنٹ پر یو اے ای کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو 150 دن سے محصور کر رکھا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کشمیریوں کے خلاف مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے۔ وزیراعظم نے بھارت کے امتیازی شہری ترمیمی ایکٹ اور این آر سی اور اس کے منفی نتائج کو بھی اجاگر کیا۔ ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس دورہ میں پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے فروغ کے لیے 20کروڑ ڈالر دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کے لیے 20کروڑ ڈالر امداد کے اعلان پر ولی عہد ابوظہبی شہزادہ محمد بن زاید النہیان سے اظہار تشکر کیا ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم نے گزشتہ روز سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کا مشکل فیصلہ تھا جوکاروبار میں آسانی اور بیورو کریسی کو ضابطہ کی غلطیوں پر نیب کی پکڑ سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیورو کریسی کا کردار محدود ہو گیا تھا، بیوروکریٹس ڈرے ہوئے تھے اور کام نہیں چل رہا تھا۔معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں ارکان قومی اسمبلی کے تجویزکردہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے ۔
انھوں نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے کراچی میں 10 موبائل میڈیکل یونٹس بنائے جائیں گے اور 100 نئے آر او پلانٹس کے منصوبوں پر کام مکمل کیا جائے گا۔اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہناہے کہ یو اے ای کے اقتصادی تعاون سے پاکستان کو بڑی مدد ملی ہے، اس سے ثابت ہوا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام کی جو امیدیں باندھی جارہی تھیں ان کا عملی نتیجہ سامنے آرہا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت کی درست سمت سازی پر مکمل توجہ دی جائے اور اقتصادی پالیسیوں کے ثمرات کا رخ عوام کی طرف ہو۔ ایک مستحکم معاشی نظام کی صداقت تب ہی ظاہر ہوسکے گی۔
اعلامیہ کے مطابق ولی عہد نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے متحدہ عرب امارات کی جانب سے حمایت کی جو یقین دہانی کرائی ہے ، اسے پاکستان نے سراہا ہے جب کہ ولی عہد نے او آئی سی میں پاکستان کے اہم کردار کو بھی سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو بلندیوں کی نئی سطح تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ولی عہد کے ہمراہ کابینہ ارکان اور سینئر حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی تھا۔
شیخ محمد بن زید النہیان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات زیر بحث لائے گئے۔وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر اور وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور یو اے ای کے وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔جمعرات کی شام شیخ محمد بن زاید النیہان دورہ پاکستان مکمل کرکے واپس روانہ ہوگئے۔
خطے کے وسیع تر سیاسی و اقتصادی تناظر میں ولی عہد ابوظہبی کا ایک روزہ دورہ اس اعتبار سے بھی نمایاں اہمیت کا حامل ہے کہ خطے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور پاکستان علاقے میں ابھرنے والی اہم معیشتوں میں اپنے جائز مقام کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم عمران خان کو ایک ڈائنامک اقتصادی روڈ میپ کی ضرورت ہے جو پاکستان میں غربت، پسماندگی،تنگ دستی اور بیروزگاری کے خاتمہ میں غیر معمولی پیش رفت کرکے عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرسکے۔
اقتصادی ذرایع کے مطابق اس دورے نے پاکستان کی معاشی فعالیت کی طرف موثر سمت سازی کا عندیہ دیا ہے اور یو اے ای کی بروقت معاونت سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید پائیدار،مستحکم اور نتیجہ خیز ہونگے۔ ذرایع کے مطابق اتصالات 80 کروڑ میں سے 26 کروڑ70 لاکھ ڈالر دینے پر آمادہ ہوگیا ہے اور یہ صائب پیش رفت ہے۔
وزارت خزانہ اور وزارت نجکاری کے ذرایع کا کہناہے کہ اتصالات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے ذمے 53 کروڑ30 لاکھ کی کٹوتی اس لیے کررہی ہے کہ حکومت پاکستان نے مختلف وجوہات پر پی ٹی سی ایل کی پراپرٹیز اس کے نام منتقل نہیں کیں۔
جمعرات کو مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت بین الوزارتی کمیٹی کے ایک اجلاس میں اتصالات کی پیشکش اور اس کے ذمے زیر التوا واجبات کا جائزہ لیا گیا۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے حتمی فیصلے کے فوائد پاکستان ہی کو حاصل ہونگے۔
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطح کے رابطوں اور دو برادر ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بتدریج پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پاک، یو اے ای خصوصی تعلقات کی اسٹرٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے گہرے اقتصادی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے پاکستان میں اقتصادی پیشرفت، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع اور اہم شراکت داری کے ساتھ مفید تجارتی اور کمرشل روابط کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے دیگر سیکٹرز کے علاوہ توانائی اور ٹورازم سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں میں قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اب لازم ہے کہ ان کاروباری طبقات کو جو ملکی معیشت کے بحرانی ادوار میں شدید متاثر رہے ان کے خسارے کم ، پیداواری طاقت کو سہارا ملے، مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کا ماحول بڑے اور صنعتی ترقی کے ہم قدم چلنے کے قابل بنائے۔ اس وقت ضرورت ہمہ جہتی ترقی و خوشحالی کے کے لیے ٹھوس عملی منصوبوں کی ہے، ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت میں کمی لائی جائے اور سرمایہ کاری کے لیے مطلوبہ ماحول کے سازگار ہونے تک داخلی سیاسی اور معاشی ٹالرنس کو قومی مفاد میں جمہوری رویے میں ڈھالا جائے۔
دریں اثنا وزیراعظم نے یو اے ای میں 16 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین وطن کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کیا جو یو اے ای کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی اقتصادی، سماجی ترقی اور بالخصوص صحت، تعلیم اور یوتھ سیکٹر کے لیے کمٹمنٹ پر یو اے ای کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو 150 دن سے محصور کر رکھا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کشمیریوں کے خلاف مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے۔ وزیراعظم نے بھارت کے امتیازی شہری ترمیمی ایکٹ اور این آر سی اور اس کے منفی نتائج کو بھی اجاگر کیا۔ ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس دورہ میں پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے فروغ کے لیے 20کروڑ ڈالر دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کے لیے 20کروڑ ڈالر امداد کے اعلان پر ولی عہد ابوظہبی شہزادہ محمد بن زاید النہیان سے اظہار تشکر کیا ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم نے گزشتہ روز سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کا مشکل فیصلہ تھا جوکاروبار میں آسانی اور بیورو کریسی کو ضابطہ کی غلطیوں پر نیب کی پکڑ سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیورو کریسی کا کردار محدود ہو گیا تھا، بیوروکریٹس ڈرے ہوئے تھے اور کام نہیں چل رہا تھا۔معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں ارکان قومی اسمبلی کے تجویزکردہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے ۔
انھوں نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے کراچی میں 10 موبائل میڈیکل یونٹس بنائے جائیں گے اور 100 نئے آر او پلانٹس کے منصوبوں پر کام مکمل کیا جائے گا۔اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہناہے کہ یو اے ای کے اقتصادی تعاون سے پاکستان کو بڑی مدد ملی ہے، اس سے ثابت ہوا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام کی جو امیدیں باندھی جارہی تھیں ان کا عملی نتیجہ سامنے آرہا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت کی درست سمت سازی پر مکمل توجہ دی جائے اور اقتصادی پالیسیوں کے ثمرات کا رخ عوام کی طرف ہو۔ ایک مستحکم معاشی نظام کی صداقت تب ہی ظاہر ہوسکے گی۔