عالمی سطح پر خوراک کی قلت کے خطرات
بار بار کی کاشتکاری کے ساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے بھی زمین کی زرخیزی میں کمی آ ہے۔
بار بار کی کاشتکاری کے ساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے بھی زمین کی زرخیزی میں کمی آ ہے۔ فوٹو: فائل
اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت سے متعلقہ ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج نے خوراک کی پیداوار میں کمی کر دی ہے جب کہ دنیا بھر کے بیشتر ممالک اس بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ چنانچہ ماہرین کی زیادہ توجہ زمین کی زرخیزی میں اضافے پر مبذول ہو چکی ہے۔
سالہا سال سے کاشتکار پیداوار میں اضافے کے لیے اپنی توجہ کھادوں اور ٹیکنالوجی پر مرکوز کر رہے ہیں جب کہ بیج کی نئی اقسام کا بھی تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن اب وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انھیں اپنے پاؤں کے نیچے دیکھنا پڑے گا کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کی اسی حکمت عملی کی وجہ سے دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار میں کمی واقع ہو گئی ہے جس سے خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کی طرف سے اکٹھے کیے جانے والے اعداد و شمار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم نے کرۂ ارض کی صحت پر توجہ نہ دی تو آیندہ دس سال میں زمین کے بنجر ہو جانے کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں افراد خوراک کی نایابی سے دوچار ہو جائیں گے۔
برطانوی ماہر ارضیات جان کرافورڈ نے کے مطابق جس صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے اس سے سماجی بے چینی پیدا ہو گئی، لوگ بھاری تعداد میں اپنے علاقوں سے نکلنے لگیں گے جس سے تشدد کو ہوا ملے گی۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے ماہرین کی رائے ہے۔
رپورٹ کے مطابق کاشتکاری کے مسلسل عمل سے زمین کی اوپر والی تہہ اپنی پیداواری قوت کھو چکی ہے۔ چنانچہ فصل کی بارآوری اتنی نہیں رہی جتنی پہلے ہوا کرتی تھی۔ اس زرخیز اوپر والی سطح کا حجم مسلسل کمی کا شکار ہو رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔ بار بار کی کاشتکاری کے ساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے بھی زمین کی زرخیزی میں کمی آ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیلابوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ ہواہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی قابل کاشت اراضی کا کم از کم تیسرا حصہ اپنی زرخیزی سے محروم ہوچکا ہے، اس پر مستزاد ماحولیات آلودگی سے کام اور خراب ہورہا ہے۔
سالہا سال سے کاشتکار پیداوار میں اضافے کے لیے اپنی توجہ کھادوں اور ٹیکنالوجی پر مرکوز کر رہے ہیں جب کہ بیج کی نئی اقسام کا بھی تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن اب وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انھیں اپنے پاؤں کے نیچے دیکھنا پڑے گا کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کی اسی حکمت عملی کی وجہ سے دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار میں کمی واقع ہو گئی ہے جس سے خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کی طرف سے اکٹھے کیے جانے والے اعداد و شمار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم نے کرۂ ارض کی صحت پر توجہ نہ دی تو آیندہ دس سال میں زمین کے بنجر ہو جانے کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں افراد خوراک کی نایابی سے دوچار ہو جائیں گے۔
برطانوی ماہر ارضیات جان کرافورڈ نے کے مطابق جس صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے اس سے سماجی بے چینی پیدا ہو گئی، لوگ بھاری تعداد میں اپنے علاقوں سے نکلنے لگیں گے جس سے تشدد کو ہوا ملے گی۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے ماہرین کی رائے ہے۔
رپورٹ کے مطابق کاشتکاری کے مسلسل عمل سے زمین کی اوپر والی تہہ اپنی پیداواری قوت کھو چکی ہے۔ چنانچہ فصل کی بارآوری اتنی نہیں رہی جتنی پہلے ہوا کرتی تھی۔ اس زرخیز اوپر والی سطح کا حجم مسلسل کمی کا شکار ہو رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔ بار بار کی کاشتکاری کے ساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے بھی زمین کی زرخیزی میں کمی آ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیلابوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ ہواہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی قابل کاشت اراضی کا کم از کم تیسرا حصہ اپنی زرخیزی سے محروم ہوچکا ہے، اس پر مستزاد ماحولیات آلودگی سے کام اور خراب ہورہا ہے۔