کراچی اسٹاک مارکیٹ میں محدود تیزی 23200 کی حد بحال

حصص کی مالیت میں صرف7 کروڑ12 لاکھ56 ہزار899 روپے کا اضافہ ہوا

انڈیکس کی23200 کی حد بحال ہوگئی، تیزی کے سبب45 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ فوٹو: آن لائن / فائل

سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں کی جانب سے منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو اتار چڑھاؤ کے بعد محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی۔

جس سے انڈیکس کی23200 کی حد بحال ہوگئی، تیزی کے سبب45 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں صرف7 کروڑ12 لاکھ56 ہزار899 روپے کا اضافہ ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر51 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی جسکے بعد ایک موقع پرمارکیٹ 185 پوائنٹس کی تیزی تک جاپہنچی تھی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے حصص کی آف لوڈنگ اور مجموعی طور پر45 لاکھ76 ہزار348 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے تیزی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ۔




تاہم ایم سی بی بینک کے حصص کی حوصلہ افزاکارکردگی اور غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ52 ہزار973 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے11 لاکھ83 ہزار280 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے13لاکھ40 ہزار94 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری نے مارکیٹ کو استحکام بخشا جسکے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس55 پوائنٹس کے اضافے سے 233220.21 اورکے ایس ای30 انڈیکس55.15 پوائنٹس کے اضافے سے17750.33 ہوگیا جبکہ اسکے برعکس کے ایم آئی30 انڈیکس60.56 پوائنٹس کی کمی سے 39212.91 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 11.09 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ72 لاکھ70 ہزار900 حصص کے سودے ہوئے۔

جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار321 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں144 کے بھاؤ میں اضافہ 152 کے داموں میں کمی اور25 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیورفوڈز کے بھاؤ202.50 روپے بڑھ کر5790 روپے اور ملت ٹریکٹرز کے بھاؤ21.64 روپے بڑھ کر475.28 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ100 روپے کم ہوکر7300 روپے اور فلپس موریس کے بھاؤ18.75 روپے کم ہوکر356.25 روپے ہوگئے۔
Load Next Story