کلیئرنس سسٹم کافقدان ایکسپریس کی خبرپر کسٹمزحکام کا نوٹس
برآمدی کنسائمنٹس کی آڑ میں ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا، اجلاس طلب
ذرائع نے بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ ایکسپورٹ کراچی نے اس مسلے کے حل کے لیے جمعہ کی صبح کسٹم ہائوس کراچی میں اجلاس طلب کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل
محکمہ کسٹمز کراچی ایکسپورٹ کلکٹریٹ میں برآمدی ایل سی ایل کارگو کی ایکسپورٹر کے پورٹل کے ذریعے کسٹمز کلیرنس سسٹم کے فقدان سے متعلق ''ایکسپریس'' میں شائع ہونے والی خبرکا اعلیٰ کسٹمزحکام نے نوٹس لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ کسٹمزایکسپورٹ کلکٹریٹ کراچی کے کلیئرنس سسٹم میں نشاندہی شدہ اس خامی کے باعث برآمدی کنسائمنٹس کی آڑ میں منشیات سمیت دیگر ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا، ذرائع نے بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ ایکسپورٹ کراچی نے اس مسلے کے حل کے لیے جمعہ کی صبح کسٹم ہائوس کراچی میں اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹروی بوک، کلکٹرکسٹمز ایکسپورٹ پورٹ قاسم، کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے علاوہ کے آئی سی ٹی، پی آئی سی ٹی، پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اجلاس میں برآمدی ایل سی ایل کارگو کی کسٹمزکلیرنس سے متعلق مسائل اور نظام کو بہتر بنانے پر غور کیا جائے گا، واضح رہے کہ حال ہی میں جعلسازوں کے ایک منظم گروہ نے اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹاولزمینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دو پرانے برآمدکنندہ کمپنیوں کے این ٹی این حاصل کرکے گڈزڈیکلریشن داخل کرائی اور ٹیکسٹائل پروڈکٹس کی آڑ میں پوست کے بیجوں کی ایک بڑی مقدار یورپ برآمد کرنے کی کوشش کی جس کے بعد ٹی ایم اے نے اپنی سطح پر اس سنگین معاملے کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ محکمہ کسٹمز میں رائج ایکسپورٹ کلیرنس سسٹمز میں تاحال خامیاں موجود ہیں جس کا جعلسازوں کا منظم گروہ بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔
واضح رہے کہ کسٹمزایکسپورٹ کلکٹریٹ کراچی کے کلیئرنس سسٹم میں نشاندہی شدہ اس خامی کے باعث برآمدی کنسائمنٹس کی آڑ میں منشیات سمیت دیگر ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا، ذرائع نے بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ ایکسپورٹ کراچی نے اس مسلے کے حل کے لیے جمعہ کی صبح کسٹم ہائوس کراچی میں اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹروی بوک، کلکٹرکسٹمز ایکسپورٹ پورٹ قاسم، کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے علاوہ کے آئی سی ٹی، پی آئی سی ٹی، پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اجلاس میں برآمدی ایل سی ایل کارگو کی کسٹمزکلیرنس سے متعلق مسائل اور نظام کو بہتر بنانے پر غور کیا جائے گا، واضح رہے کہ حال ہی میں جعلسازوں کے ایک منظم گروہ نے اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹاولزمینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دو پرانے برآمدکنندہ کمپنیوں کے این ٹی این حاصل کرکے گڈزڈیکلریشن داخل کرائی اور ٹیکسٹائل پروڈکٹس کی آڑ میں پوست کے بیجوں کی ایک بڑی مقدار یورپ برآمد کرنے کی کوشش کی جس کے بعد ٹی ایم اے نے اپنی سطح پر اس سنگین معاملے کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ محکمہ کسٹمز میں رائج ایکسپورٹ کلیرنس سسٹمز میں تاحال خامیاں موجود ہیں جس کا جعلسازوں کا منظم گروہ بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔