خاتون پاکستان اسکول این جی او کو دینے کی تیاریاں مکمل

سرکاری اسکول کی این جی اوکو حوالگی پراحتجاج کرنیوالی7 اساتذہ کا تبادلہ کردیاگیا۔

اسکول میں550 طالبات زیرتعلیم ہیں،حوالگی کی کوششیں ایک سال سے جاری ہیں فوٹو: ایکسپریس/ فائل

کراچی کے پوش علاقے میں قائم خاتون پاکستان گورنمنٹ اسکول کواین جی کے حوالے کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں اسکول کے 7 اساتذہ کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔

جبکہ زبانی احکامات پر ڈی اوسیکنڈری فیمیل نیلوفر نے گریڈ 16کی سینئر ٹیچر رعنا تنویرکوبھی ہٹادیا ہے اسکول میں ساڑھے 500 سے زائد طالبات زیرتعلیم ہیں،اسکول کواین جی اوکے حوالے کرنے کی کوششیں گزشتہ ایک سال سے کی جارہی ہیں تاہم اساتذہ اورطالبات کے احتجاج کے سبب یہ سلسلہ کچھ عرصے سے رکا ہوا تھا اس سلسلے میں احتجاج کرنے والے تمام اساتذہ کا بدھ کو تبادلہ کردیا گیا ، اساتذہ کو بتدریج ہٹایا جارہا ہے۔




اسکول ہیڈمسٹریس کے بغیر ہی کام کررہا ہے اور ڈپٹی ڈی اوشگفتہ بی بی کے پاس اسکول کی ہیڈ مسٹریس کا چارج ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسکول کی طالبات سے ٹی سی کی مد میں 100روپے ،داخلوں کی مد میں 100 روپے ،ششماہی امتحانات کی مد میں 150روپے جبکہ میٹرک کے ضمنی امتحانات کی فیس کی مد میں اضافی400 اورایڈمٹ کارڈ کی مد میں 25 روپے وصول کیے گئے ہیں، قواعد کے مطابق سرکاری اسکولوں میں کسی بھی قسم کی کوئی فیس وصول نہیں کی جاسکتی کیونکہ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں تعلیم مکمل طورپرمفت فراہم کی جاتی ہے۔
Load Next Story