ملک ایڈ ہاک پر چل رہا ہے بھائی بھتیجوں کی تعیناتی روکی جائے چیف جسٹس

نیپرا کا مستقل چیئرمین مقررنہ کرنے پر برہمی، اس پر فیصلہ دینگے جس کے نتائج سب کو بھگتنا ہونگے، عدالت

حکومت کو فری ہینڈ شفافیت لانے کیلیے دیا، بصورت دیگر ہمارے اور بھی آپشنز ہیں، عدالت۔ ۔فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے نیپرا کا قائم مقام چیئرمین لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لوڈ شیڈنگ و بجلی کی قیمتوں کے مقدمے میں انھیں سننے سے انکار کر دیا اور قرار دیاکہ مستقل چیئرمین نہ ہونے کی صورت میں نیپرا نامکمل ہے، ملک کو ایڈہاک بنیادوں پر نہ چلایا جائے۔

عدالت نے 1997سے اب تک تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا، چیف جسٹس نے کہا اس پر عدالت اپنا فیصلہ دے گی جس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے، فیصلے کے اثرات نیپرا کے مستقبل پر توہوں گے لیکن ماضی بھی متاثر ہوگا۔ مالی امور کی توثیق بھی مسئلہ بن جائے گی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ سارے ملکی اداروں کے سربراہ قائم مقام کیوں لگائے گئے ہیں،کسی کے بھتیجے اور کسی کے بیٹے کو تعینات کرنے کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ اس کو روکا جائے، عوام پر جو بم گرانے تھے گرا دیے، اب ملک چلنے دیا جائے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ایس ای سی پی، پی آئی اے، پی ٹی اے میں قائم مقام چیئرمین تو تھے ہی اب انکشاف ہوا ہے کہ نیپر ا میں بھی قائم مقام چیئرمین تعینات ہے۔ درخواست گزار اظہر صدیق نے انکشاف کیا کہ قائم مقام چیئرمین وزیربجلی خواجہ آصف کے عزیز ہیں تاہم عدلت نے انھیں اس نکتے پر بات کرنے سے منع کر دیا۔




نیپرا کے وکیل نے کہا کہ معاملہ عدالت میں آ گیا ہے، امید ہے چیئرمین بھی تعینات ہو جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسے کیس تو عدالت میں آنے ہی نہیں چاہئیں، سارے کام عدالت کوکرنے ہیں تو پھر حکومت کس کام کی ہے۔ چیئرمین پیمرا کی تقرری کا معاملہ ہمارے گلے میں نہ ڈالیں شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی ذمے داری ہے، اقربا پروری اور سفارش کا نظام آخر کب ختم ہو گا۔ اظہر صدیق نے کہا کہ لیسکو کا چیئرمین ایک دکاندار ہے اور تعلیم صرف میٹرک ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے حکومت کے تقرریاں کرنے کے اختیار پر قدغن نہیں لگائی، صرف شفافیت چاہتے ہیں، وفاقی سروسز ٹریبونل بند پڑا ہے، حکومت نے قانون سازی نہیں کی کہ سپریم کورٹ نے کہا ہوا ہے ۔ آن لائن کے مطابق پیپکو کے ایم ڈی ضرغام کا چارج بھی قائم مقام نکلا، عدالت نے اس پر حیرانگی کا اظہار کیاکہ وہ دسمبر 2012 سے قائم مقام ایم ڈی کے طور پر کام کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت سارے ملک کو ایڈہاک ازم پر چلا رہی ہے، کل کو کیا سپریم کورٹ میں بھی قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی ہوگی؟ آئین و قانون میں کوئی سقم ہے تو ترمیم کرکے درست کیا جاسکتا ہے، عدالتی احکام پر عمل نہ ہوا تو جوڈیشل آرڈر جاری کریں گے۔ مزید سماعت آج ہوگی۔
Load Next Story