ایران امریکا چپقلش اور پاکستان

ممکنہ جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے جس طرح افغان جنگ کے اثرات آج تک وہ بھگت رہا ہے۔

ممکنہ جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے جس طرح افغان جنگ کے اثرات آج تک وہ بھگت رہا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اتوار کو ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے خواہاں ہیں لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور خطے کا امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، بہت قربانیوں کے بعد پاکستان نے امن حاصل کیا ہے۔

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی آرمی چیف کے بیانات سنے ہیں، وہ نئے ہیں، افواج پاکستان ملک کا دفاع جانتی ہیں اور اس سے بھارت بخوبی آگاہ ہے۔

ایرانی جنرل پرحملے کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی اور اس حوالے سے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی، آرمی چیف نے کہا خطے میں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونی چاہے، خطہ خراب حالات سے بہتری کی طرف جارہا ہے۔

بغداد کے واقعے سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا ایران میں کشیدگی کم کرانے اور خطے میں ممکنہ جنگ رکوانے کے لیے سفارتی محاذ پر اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، اس سلسلے میں انھوں نے سعودی عرب' ایران' متحدہ عرب امارات اور ترکی کے ہم مناصب سے خطے میں وقوع پذیر ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور حالیہ واقعات پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازع سے بچنے' تحمل کی زیادہ سے زیادہ ضرورت اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقین سے اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قوانین کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اختلافات پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف کارروائیوں کی دھمکی کے بعد خطے کے حالات میں سرعت سے نمایاں تبدیلی آئی اور یہ جنم لینے والے نئے حالات کشیدگی' محاذ آرائی اور ممکنہ جنگ کی طرف رواں ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے حملے کی دھمکیوں کے بعد ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اب ایران جوہری معاہدے کی کسی شرط کا پابند نہیں ہے، ایرانی صدر حسن روحانی کی انتظامیہ نے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی' ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں میں تحقیق و ترقی میں کسی قسم کی حد بندی نہیں رکھے گا۔


عراقی پارلیمنٹ نے بھی اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی قرارداد منظور کر لی اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ بھی ختم کر دیا' عراقی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کر کے عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا۔

امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں ایران کو حملے کا مشورہ نہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے پھر بھی حملہ کیا تو امریکا دگنی طاقت سے جواب دے گا اور اسے نئے ہتھیاروں سے نشانہ بنائے گا۔ پاکستان نے افغان جنگ سے بہت سے اسباق سیکھے ہیں کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے لاتعداد مسائل اپنے آنگن میں جگہ بنا لیتے اور دوسروں کی آگ بجھاتے بجھاتے ہم اپنا جسم خود اسی آگ میں جھلسا لیتے ہیں۔

اس لیے پاکستان کا یہ فیصلہ بالکل صائب ہے کہ خطے کا امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہ بنا جائے اور اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دی جائے اور نئے جنم لینے والے کشیدہ حالات سے دور رہا جائے' پاکستان کا سعودی عرب ایران اور دیگر ممالک کو یہ مشورہ بھی بالکل صائب ہے کہ حالات کو خراب کرنے کے بجائے انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

ماہرین قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسرائیل سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس ممکنہ جنگ کے منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے جس طرح افغان جنگ کے اثرات آج تک وہ بھگت رہا ہے۔

موجودہ محاذ آرائی کی پہل امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر کے کی ہے جس کے بعد عراق اور ایران میں امریکا کے خلاف نفرت اور غم و غصہ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ ایران امریکا کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے پاس امریکا سے لڑنے کے لیے جنگی قوت اور وسائل موجود ہیں' اس لیے کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کا بھی اچھا خاصا نقصان ہو سکتا ہے۔

یہ حقیقت امریکا کے بھی مدنظر ہے اسی لیے صدر ٹرمپ نے نئے ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ نئے ہتھیار کون سے ہیں خدشہ ہے کہ امریکا ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیار استعمال کرنے پر نہ اتر آئے اگر ایسا ہوا تو پورا خطہ اس سے متاثر ہو گا۔ بہتر ہے کہ اقوام متحدہ امریکا کی کاسہ لیسی کرنے کے بجائے معاملات کو بہتر طریقے سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
Load Next Story