گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال
ہمیں اپنے انفراسٹرکچرکو بچانے کے لیے قوانین پرلازمی عمل کرنا ہوگا۔
ہمیں اپنے انفراسٹرکچرکو بچانے کے لیے قوانین پرلازمی عمل کرنا ہوگا۔ فوٹو : فائل
ایکسللوڈ قانون کے عدم نفاذ اور روڈ پرمٹ فیسوں میں اضافے کے خلاف گڈز ٹرانسپورٹرز نے غیرمعینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال کا آغازکر دیا ہے۔ اضافی لوڈ کی وجہ سے ملک میں حادثات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب کسی بھی ہولناک حادثے کی خبرشائع ونشر نہ ہوتی ہو۔
ان حادثات کے نتیجے میں انتہائی قیمتی جانیں ضایع اور اثاثے تباہ ہوجاتے ہیں، اضافی لوڈ کی وجہ سے70 سال میں تعمیر ہونے والے روڈ انفرا اسٹرکچرکو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے ملک بھرکی ہائی ویز پرگاڑیاں سڑکوں کے کنارے اور مکمل پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دے رکھی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہیں۔ قوانین کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد میںہی ریاست کے باسیوں کی فلاح پنہاں ہوتی ہے، لیکن وطن عزیزمیں صورتحال یکسر مختلف ہے۔
اس احتجاج کو لیجیے جس میں ٹرانسپورٹرزکا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق پورے ملک میں ایکسل لوڈ لمٹ فی الفورنافذکیا جائے،گڈز ٹرانسپورٹرز کسی صورت اوور لوڈنگ نہیں چاہتے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان واحد ملک ہے جہاں لوڈ کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس وقت جو صورتحال رپورٹ ہوئی ہے، اس کے مطابق ایکسل لوڈ کنٹرول پالیسی کے خلاف گڈز ٹرانسپورٹرزاحتجاج کے معاملے پر دوگروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔
دوسرے گروہ نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ایکسل لوڈ پالیسی کا فائدہ ٹرانسپورٹرزکو ہی ہے۔ زائد لوڈ ڈالنے سے گاڑیاں بھی خراب ہوجاتی ہیں جب کہ سڑکوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایکسل لوڈ پالیسی سے گڈز ٹرانسپورٹرزکا کاروبار بڑھے گا ، جو سامان پہلے ایک گاڑی میں جاتا تھا، اب وہ دو سے تین گاڑیوں میں جائے گا، جس سے ٹرانسپورٹرزکے لیے مواقع بڑھیں گے۔
اس ساری صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے عمل کا فوری آغازکرے جو ان کے جائز مطالبات ہیں ان کو مانا جائے اور جہاں قانون شکنی کا پہلو نمایاں وہاں ان سے سختی سے نمٹا جائے۔ ہمیں اپنے انفراسٹرکچرکو بچانے کے لیے قوانین پرلازمی عمل کرنا ہوگا اور ٹریفک حادثات میں کمی کرکے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔
ہم ان سطورکے ذریعے حکومت اورگڈز ٹرانسپورٹرز سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کا قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فہم وتدبر سے پرامن حل نکالیں گے۔
ان حادثات کے نتیجے میں انتہائی قیمتی جانیں ضایع اور اثاثے تباہ ہوجاتے ہیں، اضافی لوڈ کی وجہ سے70 سال میں تعمیر ہونے والے روڈ انفرا اسٹرکچرکو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے ملک بھرکی ہائی ویز پرگاڑیاں سڑکوں کے کنارے اور مکمل پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دے رکھی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہیں۔ قوانین کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد میںہی ریاست کے باسیوں کی فلاح پنہاں ہوتی ہے، لیکن وطن عزیزمیں صورتحال یکسر مختلف ہے۔
اس احتجاج کو لیجیے جس میں ٹرانسپورٹرزکا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق پورے ملک میں ایکسل لوڈ لمٹ فی الفورنافذکیا جائے،گڈز ٹرانسپورٹرز کسی صورت اوور لوڈنگ نہیں چاہتے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان واحد ملک ہے جہاں لوڈ کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس وقت جو صورتحال رپورٹ ہوئی ہے، اس کے مطابق ایکسل لوڈ کنٹرول پالیسی کے خلاف گڈز ٹرانسپورٹرزاحتجاج کے معاملے پر دوگروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔
دوسرے گروہ نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ایکسل لوڈ پالیسی کا فائدہ ٹرانسپورٹرزکو ہی ہے۔ زائد لوڈ ڈالنے سے گاڑیاں بھی خراب ہوجاتی ہیں جب کہ سڑکوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایکسل لوڈ پالیسی سے گڈز ٹرانسپورٹرزکا کاروبار بڑھے گا ، جو سامان پہلے ایک گاڑی میں جاتا تھا، اب وہ دو سے تین گاڑیوں میں جائے گا، جس سے ٹرانسپورٹرزکے لیے مواقع بڑھیں گے۔
اس ساری صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے عمل کا فوری آغازکرے جو ان کے جائز مطالبات ہیں ان کو مانا جائے اور جہاں قانون شکنی کا پہلو نمایاں وہاں ان سے سختی سے نمٹا جائے۔ ہمیں اپنے انفراسٹرکچرکو بچانے کے لیے قوانین پرلازمی عمل کرنا ہوگا اور ٹریفک حادثات میں کمی کرکے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔
ہم ان سطورکے ذریعے حکومت اورگڈز ٹرانسپورٹرز سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کا قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فہم وتدبر سے پرامن حل نکالیں گے۔