نیٹو سپلائی بند کی تو مشکل میں پھنس جائیں گے حکومت
ڈرون حملے میں حکومت کاہاتھ نہیں،طالبان جذباتی نہ ہوں،عبدالقادربلوچ، سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھایاجائے،ارکان
قومی اسمبلی میں ڈرون حملوں پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی۔ فوٹو: فائل
قومی اسمبلی میں ارکان نے ڈرون حملوں کے معاملے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلاکر وہاں یہ معاملہ اٹھانے ، نیٹو سپلائی روکنے کیلیے متفقہ فیصلہ کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلیے آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں پیشرفت کرنے کی تجاویز دی ہیں۔
جبکہ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے واضح کیا کہ شمالی وزیرستان ڈرون میں حکومت کا ہاتھ نہیں، طالبان جذباتیت کا شکار نہ ہوں، موجودہ حالات میں نیٹو سپلائی بند کرنا حکومت کو مشکل میں ڈالنا ہوگا۔ جمعرات کو چوتھے روز بھی ڈرون حملوں پر بحث جاری رہی ۔ جے یوآئی کے قاری محمد یوسف نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے مختلف ممالک سے مجاہدین کو پاکستان کے ذریعے افغانستان بھجوایا اور اپنا مقصد پورا ہونے پر پھر ان کیخلاف ہو گیا۔ اعجاز الحق نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات ملکی خود مختاری اور سالمیت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے ، جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے نیٹو سپلائی روکنے کیلیے متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے۔
عبدالستار بچانی نے کہا کہ انتہا پسندی کا مسئلہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پروان چڑھا۔ ایم کیو ایم کے سید آصف حسنین نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اے پی سی کی روشنی میں پیش قدمی کی جائے۔ فاٹا سے رکن شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ بات چیت نیک نیتی سے ہونی چاہیے ۔ تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلاکر ڈرون حملوں کا معاملہ وہاں اٹھائے۔ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ طالبان سے گزارش ہے کہ جذباتیت کا شکار نہ ہوں ، شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں، موجودہ حالات میں نیٹو سپلائی بند کرنا حکومت کو مشکل میں ڈالنا ہو گا، 2014ء میں امریکا افغانستان سے واپس جا رہا ہے ، اگر ہم نے نکلنے کا راستہ نہ دیا تو وہ متبادل راستہ اختیار کریگا۔ (ن) لیگ کے شہاب الدین نے کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ اجلاس میں تحفظ پاکستان آرڈیننس اور انسداد دہشت گردی کی دو ترمیمی آرڈیننس پیش کیے گئے۔ اسپیکر نے تینوں آرڈیننس مزید غور و خوض کیلیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیے۔
جبکہ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے واضح کیا کہ شمالی وزیرستان ڈرون میں حکومت کا ہاتھ نہیں، طالبان جذباتیت کا شکار نہ ہوں، موجودہ حالات میں نیٹو سپلائی بند کرنا حکومت کو مشکل میں ڈالنا ہوگا۔ جمعرات کو چوتھے روز بھی ڈرون حملوں پر بحث جاری رہی ۔ جے یوآئی کے قاری محمد یوسف نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے مختلف ممالک سے مجاہدین کو پاکستان کے ذریعے افغانستان بھجوایا اور اپنا مقصد پورا ہونے پر پھر ان کیخلاف ہو گیا۔ اعجاز الحق نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات ملکی خود مختاری اور سالمیت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے ، جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے نیٹو سپلائی روکنے کیلیے متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے۔
عبدالستار بچانی نے کہا کہ انتہا پسندی کا مسئلہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پروان چڑھا۔ ایم کیو ایم کے سید آصف حسنین نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اے پی سی کی روشنی میں پیش قدمی کی جائے۔ فاٹا سے رکن شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ بات چیت نیک نیتی سے ہونی چاہیے ۔ تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلاکر ڈرون حملوں کا معاملہ وہاں اٹھائے۔ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ طالبان سے گزارش ہے کہ جذباتیت کا شکار نہ ہوں ، شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں، موجودہ حالات میں نیٹو سپلائی بند کرنا حکومت کو مشکل میں ڈالنا ہو گا، 2014ء میں امریکا افغانستان سے واپس جا رہا ہے ، اگر ہم نے نکلنے کا راستہ نہ دیا تو وہ متبادل راستہ اختیار کریگا۔ (ن) لیگ کے شہاب الدین نے کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ اجلاس میں تحفظ پاکستان آرڈیننس اور انسداد دہشت گردی کی دو ترمیمی آرڈیننس پیش کیے گئے۔ اسپیکر نے تینوں آرڈیننس مزید غور و خوض کیلیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیے۔