امن کی دور اندیشانہ حکمت عملی ناگزیر
درپیش صورت حال میں معاشی مسیحاؤں کو انتہائی سنجیدگی سے معاشی پیشرفت کا جائزہ لینا چاہیے۔
درپیش صورت حال میں معاشی مسیحاؤں کو انتہائی سنجیدگی سے معاشی پیشرفت کا جائزہ لینا چاہیے۔ فوٹو: فائل
ملکی معیشت کو ایران اور امریکا صورتحال سے نئے چیلنجز در پیش ہو سکتے ہیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی استحکام کے امکانات خوش آیند تھے ، تاہم خطے کی ڈائنامکس میں تحیر خیز تبدیلیوں کی دھمک ملکی سیاست و معیشت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
درپیش صورت حال میں معاشی مسیحاؤں کو انتہائی سنجیدگی سے معاشی پیشرفت کا جائزہ لینا چاہیے اور عوام کو زمینی حقائق سے باخبر رکھتے ہوئے اہم معاشی اہداف کے حصول میں پہلے سے زیادہ تیزی اور دوراندیشی کے ساتھ اقدامات کرنے چاہئیں۔ مبصرین کے مطابق ملکی معاشی صورت حال کے حوالے سے حقائق قابل غور ہیں، ایک طرف ایران، امریکا بحرانی صورت حال کے اثرات اسٹاک ایکسچینج پر پڑے ہیں۔
سونا93400 روپے تولہ ہو گیا ہے، ڈالر بھی مہنگا۔ ادھر اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں 4 فی صد معاشی نمو کا حصول مشکل ہے، سہ ماہی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگرام سے معاشی استحکام کی رفتار بڑھ گئی ہے، خسارہ نصف رہ گیا ہے۔
مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.5فیصد رہی، رواں سال فصلوں کی پیداوار ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی 27 سفارشات میں سے ''زیادہ عمل درآمد'' کی درجہ بندی حاصل کرنے کی امید پیدا ہو چکی، کیش کوریئر، حوالہ، ہنڈی، ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جب کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل پر حکومت پر کوئی دباؤ نہیں۔ یوں معاشی حلقوں کو یقین ہے کہ فیٹف میں پاکستان اپنی مثبت رپورٹ کے پیش نظر پیش قدمی کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔
تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان مخالف لابی اور خاص طور پر بھارتی ریشہ دوانیوں سے خبردار رہنا ناگزیر ہے ، یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستانی سفارشات شفافیت میں فیٹف حکام کو قائل کر لیں اور پاکستان فیٹف کی اعصابی کشمکش سے نجات حاصل کرے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران ، امریکا بحران پر پالیسی بیان جاری کیا ہے ، انھوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل سنجیدہ معاملہ ہے، حکومت اور پورے پاکستان کو اس واقعہ پر بے حد تشویش ہے، خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوا ہے، عراق اور شام میں عدم استحکام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے، پاکستان کسی یک طرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرتا، طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں، اس معاملے کو سفارتی طریقہ اور عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، یہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، جنگ کے پاکستان سمیت پورے خطے پر بھیانک اثرات مرتب ہوںگے، پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، پاکستان کسی علاقائی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔
سینیٹ کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا آگ بھڑکانا نہ ہماری پالیسی تھی نہ اس کا حصہ بنیں گے، مشرقی وسطیٰ میں صورت حال نازک اور تشویش ناک ناک ہے اور یہ کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے، پاکستان کسی یک طرفہ ایکشن کی تائید نہیںکرتا ، سب فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، عالمی برادری اور اقوام متحدہ اس آگ کو بجھانے اور خطے کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، ہم صورت حال کو مانیٹرکر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ میں ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے اہم وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا گیا۔ خطے میں تناؤ پہلے سے تھا، اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ حوثی سعودی عرب پر مزید حملے کر سکتے ہیں، آبنائے ہرمز کو بلاک کیا جا سکتا ہے، تیل کی رسد متاثر ہونے سے ہماری معیشت بھی متاثر ہو گی۔ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانی دی ہیں۔
دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آنے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ فریقین کے درمیان غلط فہمیاں دورکرنے کے لیے کردار ادا کریں گے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی آڑ میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور جعلی حملہ کرنے کے امکانات بڑھے ہیں۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ وزیر خارجہ کا تجزیہ مجبوری کا تجزیہ ہے جس میں آیندہ کی روشنی نظر نہیں آئی۔
پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اس صورت حال پر اپنا کردار ادا کر سکے۔ پاکستان کو ایران امریکا تنازع میں موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران ، امریکا کشیدگی خطے کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان کا انداز نظر اور دور اندیشی پر مبنی پالیسی ہی خطے کو ایک بڑے المیے سے بچا سکتی ہے، وزیر خارجہ کا کہنا صائب ہے، ایک طرف ایک ہمسایہ اور دوسری طرف ملکی مفادات ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مودی کی فسطائی پالیسیوں سے بھی خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے، بھارتی عوام کی اپنی شناخت خطرے میں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منشیات اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد سے ایک ادارہ نہیں نمٹ سکتا، پوری قوم کو کھڑا ہونا پڑے گا۔
دریں اثنا عالمی مبصرین نے امریکا اور ایران کشیدگی میں اب اس سوال کا جواب ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے کہ جارح امریکا کے مزید اہداف کیا ہو سکتے ہیں اور امن عالم کو امریکی عزائم کے راستے میں سد راہ بننے کے لیے کون سے اقدامات کرنا ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی داخلی اور عسکری صورت حال جنرل قاسم سلیمانی کے بہیمانہ قتل کے بعد اضطراب انگیز ہے، جنرل سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے کہا کہ امریکاکوسیاہ دن دیکھنا پڑے گا۔ بلاشبہ ایران انتقام کا عہد کر چکا ہے جب کہ ٹرمپ نے ایران کے ثقافتی مقامات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
یوں مشرق وسطی جنگ کے دہانے اور بارود کے ڈھیر پرکھڑا ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک چھوٹی سی غلطی یا تزویراتی مس کیلکولیشن بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ مغربی اور یورپی رائے عامہ بھی تقسیم ہوئی ہے، ٹرمپ کو امریکی عوام، کانگریس اور امن پسند پریشرگروپوں اور ڈیموکریٹس کی تنقید کا سامنا ہے، اسپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے سامنے مزاحمت کی علامت بنی ہیں، امریکی عوام ایران سے جنگ کے حامی نہیں، دنیا کو اندازہ ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، ایران کو تحمل کی تلقین کرنے والے بھی زمینی عالمی حقائق کی نئی تفہیم تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ خطے کے مورخین ایرانی تہذیب کے مقابل امریکی پالیسیوں اور گن بوٹ پالیسیوں کے مہلک اثرات و نتائج کا جائز ہ لے رہے ہیں۔
صورت حال ہولناک ہے۔ میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد اگرچہ ہارڈ لائنرز کے دباؤ میں تھے، جان بولٹن جیسے جنگجو مشیر انھیں ایران پر چڑھ دوڑنے پر اکساتے رہے، تاہم ٹرمپ نے شمالی کوریا کے مرد آہن کم جانگ ان سے مذاکرات کیے، اسی طرح افغانستان میں امن کے لیے طالبان سے بات چیت کا ڈول ڈالا، قطر میں مذاکرات ہوئے۔
پاکستان سے ابتدا میں تلخ سوالات کیے پھر وزیر اعظم عمران خان سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیش کش کی۔ چنانچہ جو مبصرین ٹرمپ کی متلون مزاجی اور ایک ''مجبور امریکی صدر''کی آئینی حیثیت سے خوب واقف ہیں ، وہ اب اس انتظار میں ہیں کہ ٹرمپ ایران کی برہمی کا پیمانہ لبریز نہ کریں، ایرانی عوام کو پہنچنے والے صدمے کا ادراک کریں۔
اپنے سخت بیانات اور دھمکیوں سے خطے کی فضا کو خراب کرنے کی غلطی نہ کریں۔ ادھر دنیا بھر کے امن پسند مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں اور مسلم و عرب دنیا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امن کے لیے سلامتی کونسل سے فوری رجوع کریں۔ ویٹ اینڈ سی کے گرداب سے باہر نکلیں اور ایران اور امریکا کے درمیان تصادم کے جنگی خطرات کم کرنے کیلے ہوش مندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیں۔ اسی میں دنیاکا امن محفوظ رہ سکتا ہے۔
درپیش صورت حال میں معاشی مسیحاؤں کو انتہائی سنجیدگی سے معاشی پیشرفت کا جائزہ لینا چاہیے اور عوام کو زمینی حقائق سے باخبر رکھتے ہوئے اہم معاشی اہداف کے حصول میں پہلے سے زیادہ تیزی اور دوراندیشی کے ساتھ اقدامات کرنے چاہئیں۔ مبصرین کے مطابق ملکی معاشی صورت حال کے حوالے سے حقائق قابل غور ہیں، ایک طرف ایران، امریکا بحرانی صورت حال کے اثرات اسٹاک ایکسچینج پر پڑے ہیں۔
سونا93400 روپے تولہ ہو گیا ہے، ڈالر بھی مہنگا۔ ادھر اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں 4 فی صد معاشی نمو کا حصول مشکل ہے، سہ ماہی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگرام سے معاشی استحکام کی رفتار بڑھ گئی ہے، خسارہ نصف رہ گیا ہے۔
مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.5فیصد رہی، رواں سال فصلوں کی پیداوار ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی 27 سفارشات میں سے ''زیادہ عمل درآمد'' کی درجہ بندی حاصل کرنے کی امید پیدا ہو چکی، کیش کوریئر، حوالہ، ہنڈی، ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جب کہ فارن ایکسچینج ریگولیشن، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل پر حکومت پر کوئی دباؤ نہیں۔ یوں معاشی حلقوں کو یقین ہے کہ فیٹف میں پاکستان اپنی مثبت رپورٹ کے پیش نظر پیش قدمی کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔
تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان مخالف لابی اور خاص طور پر بھارتی ریشہ دوانیوں سے خبردار رہنا ناگزیر ہے ، یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستانی سفارشات شفافیت میں فیٹف حکام کو قائل کر لیں اور پاکستان فیٹف کی اعصابی کشمکش سے نجات حاصل کرے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران ، امریکا بحران پر پالیسی بیان جاری کیا ہے ، انھوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل سنجیدہ معاملہ ہے، حکومت اور پورے پاکستان کو اس واقعہ پر بے حد تشویش ہے، خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوا ہے، عراق اور شام میں عدم استحکام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے، پاکستان کسی یک طرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرتا، طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں، اس معاملے کو سفارتی طریقہ اور عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، یہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، جنگ کے پاکستان سمیت پورے خطے پر بھیانک اثرات مرتب ہوںگے، پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، پاکستان کسی علاقائی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔
سینیٹ کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا آگ بھڑکانا نہ ہماری پالیسی تھی نہ اس کا حصہ بنیں گے، مشرقی وسطیٰ میں صورت حال نازک اور تشویش ناک ناک ہے اور یہ کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے، پاکستان کسی یک طرفہ ایکشن کی تائید نہیںکرتا ، سب فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، عالمی برادری اور اقوام متحدہ اس آگ کو بجھانے اور خطے کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، ہم صورت حال کو مانیٹرکر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ میں ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے اہم وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا گیا۔ خطے میں تناؤ پہلے سے تھا، اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ حوثی سعودی عرب پر مزید حملے کر سکتے ہیں، آبنائے ہرمز کو بلاک کیا جا سکتا ہے، تیل کی رسد متاثر ہونے سے ہماری معیشت بھی متاثر ہو گی۔ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانی دی ہیں۔
دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آنے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ فریقین کے درمیان غلط فہمیاں دورکرنے کے لیے کردار ادا کریں گے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی آڑ میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور جعلی حملہ کرنے کے امکانات بڑھے ہیں۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ وزیر خارجہ کا تجزیہ مجبوری کا تجزیہ ہے جس میں آیندہ کی روشنی نظر نہیں آئی۔
پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اس صورت حال پر اپنا کردار ادا کر سکے۔ پاکستان کو ایران امریکا تنازع میں موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران ، امریکا کشیدگی خطے کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان کا انداز نظر اور دور اندیشی پر مبنی پالیسی ہی خطے کو ایک بڑے المیے سے بچا سکتی ہے، وزیر خارجہ کا کہنا صائب ہے، ایک طرف ایک ہمسایہ اور دوسری طرف ملکی مفادات ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مودی کی فسطائی پالیسیوں سے بھی خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے، بھارتی عوام کی اپنی شناخت خطرے میں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منشیات اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد سے ایک ادارہ نہیں نمٹ سکتا، پوری قوم کو کھڑا ہونا پڑے گا۔
دریں اثنا عالمی مبصرین نے امریکا اور ایران کشیدگی میں اب اس سوال کا جواب ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے کہ جارح امریکا کے مزید اہداف کیا ہو سکتے ہیں اور امن عالم کو امریکی عزائم کے راستے میں سد راہ بننے کے لیے کون سے اقدامات کرنا ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی داخلی اور عسکری صورت حال جنرل قاسم سلیمانی کے بہیمانہ قتل کے بعد اضطراب انگیز ہے، جنرل سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے کہا کہ امریکاکوسیاہ دن دیکھنا پڑے گا۔ بلاشبہ ایران انتقام کا عہد کر چکا ہے جب کہ ٹرمپ نے ایران کے ثقافتی مقامات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
یوں مشرق وسطی جنگ کے دہانے اور بارود کے ڈھیر پرکھڑا ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک چھوٹی سی غلطی یا تزویراتی مس کیلکولیشن بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ مغربی اور یورپی رائے عامہ بھی تقسیم ہوئی ہے، ٹرمپ کو امریکی عوام، کانگریس اور امن پسند پریشرگروپوں اور ڈیموکریٹس کی تنقید کا سامنا ہے، اسپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے سامنے مزاحمت کی علامت بنی ہیں، امریکی عوام ایران سے جنگ کے حامی نہیں، دنیا کو اندازہ ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، ایران کو تحمل کی تلقین کرنے والے بھی زمینی عالمی حقائق کی نئی تفہیم تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ خطے کے مورخین ایرانی تہذیب کے مقابل امریکی پالیسیوں اور گن بوٹ پالیسیوں کے مہلک اثرات و نتائج کا جائز ہ لے رہے ہیں۔
صورت حال ہولناک ہے۔ میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد اگرچہ ہارڈ لائنرز کے دباؤ میں تھے، جان بولٹن جیسے جنگجو مشیر انھیں ایران پر چڑھ دوڑنے پر اکساتے رہے، تاہم ٹرمپ نے شمالی کوریا کے مرد آہن کم جانگ ان سے مذاکرات کیے، اسی طرح افغانستان میں امن کے لیے طالبان سے بات چیت کا ڈول ڈالا، قطر میں مذاکرات ہوئے۔
پاکستان سے ابتدا میں تلخ سوالات کیے پھر وزیر اعظم عمران خان سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیش کش کی۔ چنانچہ جو مبصرین ٹرمپ کی متلون مزاجی اور ایک ''مجبور امریکی صدر''کی آئینی حیثیت سے خوب واقف ہیں ، وہ اب اس انتظار میں ہیں کہ ٹرمپ ایران کی برہمی کا پیمانہ لبریز نہ کریں، ایرانی عوام کو پہنچنے والے صدمے کا ادراک کریں۔
اپنے سخت بیانات اور دھمکیوں سے خطے کی فضا کو خراب کرنے کی غلطی نہ کریں۔ ادھر دنیا بھر کے امن پسند مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں اور مسلم و عرب دنیا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امن کے لیے سلامتی کونسل سے فوری رجوع کریں۔ ویٹ اینڈ سی کے گرداب سے باہر نکلیں اور ایران اور امریکا کے درمیان تصادم کے جنگی خطرات کم کرنے کیلے ہوش مندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیں۔ اسی میں دنیاکا امن محفوظ رہ سکتا ہے۔