سیاسی پیش رفتوں کے مثبت اشاریے
وزیراعظم عمران خان نے فوجی سربراہوں کی تعیناتی کے ترمیمی بل کی منظوری میں کشادہ نظری کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے فوجی سربراہوں کی تعیناتی کے ترمیمی بل کی منظوری میں کشادہ نظری کا مظاہرہ کیا۔ فوٹو: فائل
ملکی پارلیمانی جمہوریت و سیاست نے قومی اتفاق رائے سے مفاہمانہ سمت میں مثبت کروٹ بدلی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں فوجی سربراہوں کی تعیناتی کے ترمیمی بل کی منظوری سے صائب پیش رفتوں کے اشارے ملے ہیں۔ خطے میں تبدیلیوں کی لہر چلی ہے۔
پورے بھارت میں شہریت قانون کے خلاف طلبا کا احتجاج جاری ہے، نئی دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں اتوارکو تشددکے واقعے کے بعد واٹس ایپ پیغامات کے کچھ اسکرین شاٹس میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں جن میں دہلی یونیورسٹی پر ہندو غنڈوؤں کے طالبات پر حملے کا شدید رد عمل بھارت سمیت بیرون ملک بھی دیکھنے میں آیا۔ طالبات کو حملہ آوروں نے فولادی راڈوں سے مارا اور زخمی کیا۔
ایران ، امریکا آویزش اورجنگ کے خطرات سے پوری دنیا سہمی ہوئی ہے، عالمی معیشت زبردست دباؤ میں ہے، عالمی مارکیٹ میں فی بیرل تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں دو امریکی ایئر بیسز پر میزائلوں سے حملے میں80 افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ نیٹو فورسز ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔
نقصان کے حوالے سے ایرانی میڈیا اور امریکی ذرائع ابلاغ نے متضاد اطلاعات دی ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے عراق میںموجود دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی میزائلوں سے ہلاکتوں اور نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے تاہم سب کچھ ٹھیک ہے۔
دریںاثنا ء ایک دوسرے کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو لاکھوں سوگواروں نے سسکیوں اور آہوں میں سپرد خاک کیا، جنرل سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ مچنے سے 50 افراد جاں بحق ، 200 زخمی ہوئے، ایرانی پارلیمنٹ نے امریکی فوج کو دہشت گرد قرار دینے کا بل منظور کرلیا۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیرس اور دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے عالمی امن کے لیے امریکا، ایران جنگ کے ممکنہ خطرے کی روک تھام کے سلسلے میں رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے مطابق ایران خطے میں جنگ نہیں چاہتا، تاہم انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران نے امریکاکو مناسب جواب دے دیاہے،اور اپنے دفاع کا پورا حق استعمال کرے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلی بار پارلیمانی سیاست میں کچھ لو کچھ دو کے تحت سیاسی رواداری اور قومی اتفاق رائے کی ایک کرن پھوٹی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن حکومت محاذ آرائی کے تسلسل نے جہاں سیاسی تناؤ میںاضافہ کیا وہاں ملکی معیشت سمیت دیگر امور مملکت بھی زیادہ متاثر رہے، حکومت کو اقتصادی بریک تھرو میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور عوام بھی مہنگائی سے پریشان ، جمہوری ثمرات سے تاحال محروم ہیں۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے فوجی سربراہوں کی تعیناتی کے ترمیمی بل کی منظوری میں کشادہ نظری کا مظاہرہ کیا۔
سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئی اور تحفظات وگلے شکوؤں کے باوجود قومی مفاد میں سیاسی اشتراک عمل اور افہام وتفہیم کا قابل تحسین فیصلہ کیا۔ وہ 6 ماہ بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی مفاد میں اہم قانون سازی ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے میں جاری مسابقت، کشیدگی اور جنگ کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی اور عسکری سمیت تمام ادارے اور سول سوسائٹی کو ملکی سالمیت کو اولیت دینی چاہیے، عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم اسٹیرنگ سیٹ پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، قوم کو سیاسی ہم آہنگی کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے، دشمن ملک سرحدوں اورکنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ خطے میں انتشار، تخریب کاری اور دہشتگردی کی وارداتوں کی طرف مائل ہوسکتے ہیں، کوئٹہ واقعہ چشم کشا ہے، جس میں اگلے روز فورسزکی گاڑی کے قریب دھماکہ میں دو شہری شہید اور دو اہلکاروں سمیت 18زخمی ہوئے۔
لہٰذا ملک دشمنوں کے عزائم بھی ناکام بنانا اور ملکی جمہوری اور دفاعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اسٹیک ہولڈرز میں بے مثال ہم آہنگی کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کی رفتار بڑھا دی ہے۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا پچھلے پانچ ماہ میں حکومت کے ترقیاتی اخراجات ستاسی ارب روپے تھے جب کہ صرف دسمبرکے مہینے میں حکومت نے ترقیاتی کاموں پر75ارب روپے خرچ کیے ہیں۔
ادھر گوادر بندرگاہ پر القاسم ایل پی جی گیس ٹرمینل کا افتتاح خوش آئند بریک تھرو ہے۔ ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کی رفتار بڑھنے سے بہتر روزگار ملے گا۔ 2020 انشاء اللہ تعمیر، ترقی اور عوام کی خوشحالی کا سال ہوگا۔ امید کی جانی چاہیے کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر سیاسی اور معاشی اکابرین زندگی کے ہر شعبے میں مشترکہ کاوشوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
پورے بھارت میں شہریت قانون کے خلاف طلبا کا احتجاج جاری ہے، نئی دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں اتوارکو تشددکے واقعے کے بعد واٹس ایپ پیغامات کے کچھ اسکرین شاٹس میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں جن میں دہلی یونیورسٹی پر ہندو غنڈوؤں کے طالبات پر حملے کا شدید رد عمل بھارت سمیت بیرون ملک بھی دیکھنے میں آیا۔ طالبات کو حملہ آوروں نے فولادی راڈوں سے مارا اور زخمی کیا۔
ایران ، امریکا آویزش اورجنگ کے خطرات سے پوری دنیا سہمی ہوئی ہے، عالمی معیشت زبردست دباؤ میں ہے، عالمی مارکیٹ میں فی بیرل تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں دو امریکی ایئر بیسز پر میزائلوں سے حملے میں80 افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ نیٹو فورسز ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔
نقصان کے حوالے سے ایرانی میڈیا اور امریکی ذرائع ابلاغ نے متضاد اطلاعات دی ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے عراق میںموجود دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی میزائلوں سے ہلاکتوں اور نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے تاہم سب کچھ ٹھیک ہے۔
دریںاثنا ء ایک دوسرے کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو لاکھوں سوگواروں نے سسکیوں اور آہوں میں سپرد خاک کیا، جنرل سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ مچنے سے 50 افراد جاں بحق ، 200 زخمی ہوئے، ایرانی پارلیمنٹ نے امریکی فوج کو دہشت گرد قرار دینے کا بل منظور کرلیا۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیرس اور دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے عالمی امن کے لیے امریکا، ایران جنگ کے ممکنہ خطرے کی روک تھام کے سلسلے میں رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے مطابق ایران خطے میں جنگ نہیں چاہتا، تاہم انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران نے امریکاکو مناسب جواب دے دیاہے،اور اپنے دفاع کا پورا حق استعمال کرے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلی بار پارلیمانی سیاست میں کچھ لو کچھ دو کے تحت سیاسی رواداری اور قومی اتفاق رائے کی ایک کرن پھوٹی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن حکومت محاذ آرائی کے تسلسل نے جہاں سیاسی تناؤ میںاضافہ کیا وہاں ملکی معیشت سمیت دیگر امور مملکت بھی زیادہ متاثر رہے، حکومت کو اقتصادی بریک تھرو میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور عوام بھی مہنگائی سے پریشان ، جمہوری ثمرات سے تاحال محروم ہیں۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے فوجی سربراہوں کی تعیناتی کے ترمیمی بل کی منظوری میں کشادہ نظری کا مظاہرہ کیا۔
سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئی اور تحفظات وگلے شکوؤں کے باوجود قومی مفاد میں سیاسی اشتراک عمل اور افہام وتفہیم کا قابل تحسین فیصلہ کیا۔ وہ 6 ماہ بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی مفاد میں اہم قانون سازی ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے میں جاری مسابقت، کشیدگی اور جنگ کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی اور عسکری سمیت تمام ادارے اور سول سوسائٹی کو ملکی سالمیت کو اولیت دینی چاہیے، عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم اسٹیرنگ سیٹ پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، قوم کو سیاسی ہم آہنگی کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے، دشمن ملک سرحدوں اورکنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ خطے میں انتشار، تخریب کاری اور دہشتگردی کی وارداتوں کی طرف مائل ہوسکتے ہیں، کوئٹہ واقعہ چشم کشا ہے، جس میں اگلے روز فورسزکی گاڑی کے قریب دھماکہ میں دو شہری شہید اور دو اہلکاروں سمیت 18زخمی ہوئے۔
لہٰذا ملک دشمنوں کے عزائم بھی ناکام بنانا اور ملکی جمہوری اور دفاعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اسٹیک ہولڈرز میں بے مثال ہم آہنگی کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کی رفتار بڑھا دی ہے۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا پچھلے پانچ ماہ میں حکومت کے ترقیاتی اخراجات ستاسی ارب روپے تھے جب کہ صرف دسمبرکے مہینے میں حکومت نے ترقیاتی کاموں پر75ارب روپے خرچ کیے ہیں۔
ادھر گوادر بندرگاہ پر القاسم ایل پی جی گیس ٹرمینل کا افتتاح خوش آئند بریک تھرو ہے۔ ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کی رفتار بڑھنے سے بہتر روزگار ملے گا۔ 2020 انشاء اللہ تعمیر، ترقی اور عوام کی خوشحالی کا سال ہوگا۔ امید کی جانی چاہیے کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر سیاسی اور معاشی اکابرین زندگی کے ہر شعبے میں مشترکہ کاوشوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔