ذرا سا غلط قدم حالات بے قابو کر سکتا ہے یو این او
پیغام سادہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھانے سے اجتناب کرو اور زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرو۔
پیغام سادہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھانے سے اجتناب کرو اور زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرو۔ فوٹو : فائل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتریس نے کہا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے بلکہ یہ پوری صدی کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے اور دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک اس قضیے میں شامل ہو سکتے جس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی کوئی غلط اندازہ یا اقدام حالات کو تباہی کے دھانے پر پہنچا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کو بہت سے لوگ دنیا کا سب سے زیادہ بلند منصب والا سفارتکار تصور کرتے ہیں جس کا پیغام سادہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھانے سے اجتناب کرو اور زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرو' ڈائیلاگ کا عمل دوبارہ شروع کرو، بین الاقوامی تعاون کی ازسرنو کوشش کرو اور ہر حالت میں نئی جنگ سے بچنے کی کوشش کرو۔ گیوتریس نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور جو سوالات بہت زیادہ باآواز بلند ان سے کیے گئے۔
ان کا جواب نہیں دیا لیکن سیکریٹری جنرل کے اس انتباہی بیان سے امریکا کی ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی ابتدا بغداد میں ایران کے چوٹی کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون کے ذریعے ہلاک کرنے پر ہوئی جس کا ایران نے ہر صورت میں بدلہ لینے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی 2015 میں امریکا کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے جس کے ذریعے ایران پر جوہری قدغن عائد کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور جس سے امریکا پہلے ہی یکطرفہ طور پر باہر نکل چکا تھا اب ایران نے بھی اپنے طور پر اس معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی عراقی پارلیمنٹ نے تمام امریکی فوجیوں کے عراق سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا۔ امریکا نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی امریکا کے خلاف مختلف حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جس سے لاتعداد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جنرل سلیمانی امریکی فوجیوں پر ہلاکت خیز حملوں کا جو سلسلہ شروع کرنا چاہتا تھا اس کی زد میں مشرق وسطی کے حکام بھی آ سکتے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ان کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ کے امکان کو ختم کرنا تھا لیکن اگر ایران نے اس سلسلے میں کوئی اور کام کیا تو اس کا بھی خاطر خواہ جواب دیا جائے گا۔ ستمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر کے حکمران شرکت کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کی افسوسناک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بہت بری طرح تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے۔ سیکریٹری جنرل کا یہ بیان انتہائی مایوس کن ہے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کے 193ممالک کے صدور' وزرائے اعظم اور بادشاہ صرف تین ماہ بعد یہاں اکٹھے ہوں گے جس کے نتیجے میں ایک وسیع جنگ کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور سب سے بڑا خطرہ دنیا کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا ہے جس میں ایک طرف امریکا ہو گا دوسری طرف چین اور صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ ہم اس انتہائی خطرناک وقت میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالات اس قدر خراب ہیں کہ دنیا کی کرنسیاں بھی اتھل پتھل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا خطرہ ممکن ہے اتنا بڑا نہ ہو جتنا ہم سوچتے ہیں مگر ایک بات یقینی ہے کہ یہ خطرہ حقیقی ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کو بہت سے لوگ دنیا کا سب سے زیادہ بلند منصب والا سفارتکار تصور کرتے ہیں جس کا پیغام سادہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھانے سے اجتناب کرو اور زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرو' ڈائیلاگ کا عمل دوبارہ شروع کرو، بین الاقوامی تعاون کی ازسرنو کوشش کرو اور ہر حالت میں نئی جنگ سے بچنے کی کوشش کرو۔ گیوتریس نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور جو سوالات بہت زیادہ باآواز بلند ان سے کیے گئے۔
ان کا جواب نہیں دیا لیکن سیکریٹری جنرل کے اس انتباہی بیان سے امریکا کی ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی ابتدا بغداد میں ایران کے چوٹی کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون کے ذریعے ہلاک کرنے پر ہوئی جس کا ایران نے ہر صورت میں بدلہ لینے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی 2015 میں امریکا کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے جس کے ذریعے ایران پر جوہری قدغن عائد کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور جس سے امریکا پہلے ہی یکطرفہ طور پر باہر نکل چکا تھا اب ایران نے بھی اپنے طور پر اس معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی عراقی پارلیمنٹ نے تمام امریکی فوجیوں کے عراق سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا۔ امریکا نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی امریکا کے خلاف مختلف حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جس سے لاتعداد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جنرل سلیمانی امریکی فوجیوں پر ہلاکت خیز حملوں کا جو سلسلہ شروع کرنا چاہتا تھا اس کی زد میں مشرق وسطی کے حکام بھی آ سکتے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ان کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ کے امکان کو ختم کرنا تھا لیکن اگر ایران نے اس سلسلے میں کوئی اور کام کیا تو اس کا بھی خاطر خواہ جواب دیا جائے گا۔ ستمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر کے حکمران شرکت کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کی افسوسناک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بہت بری طرح تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے۔ سیکریٹری جنرل کا یہ بیان انتہائی مایوس کن ہے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کے 193ممالک کے صدور' وزرائے اعظم اور بادشاہ صرف تین ماہ بعد یہاں اکٹھے ہوں گے جس کے نتیجے میں ایک وسیع جنگ کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور سب سے بڑا خطرہ دنیا کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا ہے جس میں ایک طرف امریکا ہو گا دوسری طرف چین اور صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ ہم اس انتہائی خطرناک وقت میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالات اس قدر خراب ہیں کہ دنیا کی کرنسیاں بھی اتھل پتھل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا خطرہ ممکن ہے اتنا بڑا نہ ہو جتنا ہم سوچتے ہیں مگر ایک بات یقینی ہے کہ یہ خطرہ حقیقی ہے۔