سری لنکا مسلم میرج لاء میں تبدیلی کا معاملہ

مسلم پرسنل لاء ریفارم کمیٹی کے صدر رضوی مفتی نے بھی موجودہ ایکٹ کو بالکل درست قرار دیا ہے۔

مسلم پرسنل لاء ریفارم کمیٹی کے صدر رضوی مفتی نے بھی موجودہ ایکٹ کو بالکل درست قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON:
سری لنکا کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے شادی اور طلاق ایکٹ مجریہ 1951 میں ترمیم کا ایک مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ ترمیمی مسودہ قانون ایک بدھ بھکشو کی طرف سے ایوان میں پرائیویٹ ممبرز کے وقت میں پیش کیا گیا ۔

سری لنکا میں مسلم شادی اور طلاق ایکٹ میں ترمیم کی استدعا کی گئی ہے کیونکہ اس ایکٹ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو بارہ سال کی عمر میں شادی کی اجازت دی گئی ہے بلکہ اس سے بھی کم عمر میں شادی کی اجازت کو مسلم پرسنل لاء کے تحت کہا جاتا ہے۔ مسلمان فعال کارکنوں کی طرف سے ایک مدت سے اس قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جس کے غلط استعمال کی بہت سی مثالیں بھی پیش نظر تھیں۔لیکن دوسری طرف قدامت پسند مسلمان اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ بعض مسلم سیاستدان اور علماء بھی مسلم پرسنل لاز میں ترمیم لانے پر اعتراض کر رہے ہیں۔

آل سیلون جمعیت العماء (اے سی جے یو) کا موقف ہے کہ مسلم میرج اینڈ ڈائیورس ایکٹ موجودہ حالات میں بالکل درست ہے جس میں کسی تبدیلی یا ترمیم کی ضرورت نہیں ہے لیکن سری لنکا کی خواتین کی تنظیمیں ریاست سے مطالبہ کر چکی ہیں کہ تبدیلیاں درکار ہیں۔ سری لنکا میں اسلامی تنظیمیں اس قانون میں تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں۔تاہم لبرل مسلم حلقے اس کے حق میں ہیں۔


قانون میں مجوزہ تبدیلیوں میں تجویز کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر کم از کم 18 سال مقرر کی جائے نیز بچوں کی پرورش کی ذمے داری شوہروں پر ڈال دی جائے بالخصوص طلاق کی صورت میں یہ ذمے داری مکمل طور پر شوہر کے سر پر رہنی چاہیے۔

سری لنکا کی گزشتہ حکومت میں بھی بعض ترامیم کو تجویز کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود فعال کارکن ایسے بھی تھے جو اس قانون کی مکمل تبدیلی کے حق میں تھے اور بطور خاص بچیوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد کرانا چاہتے تھے اور کم عمری کی شادی کے مسئلے کو مذہبی کے بجائے سماجی مسئلہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

مسلم پرسنل لاء ریفارم کمیٹی کے صدر رضوی مفتی نے بھی موجودہ ایکٹ کو بالکل درست قرار دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان خواتین کا گروپ اس میں مطلوبہ تبدیلیوں کا داعی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مسودہ قانون کا کیا بنتا ہے۔
Load Next Story