عوامی ریلیف کے ادارہ جاتی چیلنجز

ملک کو ایک مربوط، جامع اور متحرک سیاسی ،سماجی اور اقتصادی نظام چاہیے۔

ملک کو ایک مربوط، جامع اور متحرک سیاسی ،سماجی اور اقتصادی نظام چاہیے۔ فوٹو : فائل

CHRISTCHURCH:
دنیا بھرکی فعال جمہوریتوں میں خدمت خلق یا عوامی فلاح و بہبود کا تصورکسی تعارف کا محتاج نہیں۔

جمہوریت کی اساس ہی منتخب حکومت اور اس کے عوامی نمایندوں کی اپنے حلقہ انتخاب کی دستگیری ، خدمت اور امدادکے ایک مربوط نظام پر استوار ہوتی ہے، حکومت اور ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں دیں، معاشرے میں ہر شہری کو اس کی استعداد ، ہنرمندی ، تعلیم ، صحت، صلاحیت اور میرٹ کے مطابق جینے کا موقع، وسائل اور امداد دے تاکہ وہ روزگار، رہائش، زندگی کے تحفظ اور حکومتی ریلیف کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کے قومی امورکی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کرسکے اور ریاست وحکومت کے لیے ایک متحرک معاہدہ عمرانی ایسا قائم ہوکہ دنیا کی جمہوری ریاستوں میں وطن کا نام بھی سیاسی ، معاشی اعتبار، علمی وقار اور جمہوری اقدار واصولوں کے حوالہ سے نمایاں نظرآئے۔

اس میں شک نہیں 72سالوں میں بہت سے کام ہوئے، حکومتوں نے منصوبے بنائے، غیر معمولی اقدامات ہوئے، ملک ایک ایٹمی طاقت بھی ہے اور عالم اسلام سمیت قوموں کی برادری میں پاکستان کی شناخت خطے کی ایک ایسی مستحکم اقتصادی اورسیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم شدہ ہے جو اپنے22 کروڑ عوام کے لیے فلاح وبہبود کی حتمی منزل کی تلاش میں ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ قومی ترقی اور سماجی استحکام کے بیشتر خوابوں کی تعبیر قوم کو آج تک نہیں ملی، بیشتر خواب تشنۂ تکمیل رہے اور ایسے سماجی اور معاشی شعبے بھی موجود ہیں جن میں تطہیر، تنظیم ، تزئین اور تبدیلی کی بڑی گنجائش ہے، ادارہ جاتی میکنزم کی اشد ضرورت ہے، لوگ فالٹ فری اور شفاف انتظامی اقدامات کے مربوط سسٹم حکومت کی صوابدید ، تدبر، فیصلہ کن اقدامات اور نشاہ ثانیہ کے منتظر ہیں۔

آئیے! دیکھتے ہیں کہ موجودہ سیناریوکے تناظر میں وہ کون سے سیاسی ، معاشی استحکام کے بریک تھرو والے شعبے ہیں جن میں حکومت جاری سسٹم کی بہتری کے لیے نیا input دے سکتی ہے، جہاں ایک کام دس ٹکڑوں میںسر انجام دیا جا رہا ہے اسے مربوط اور منضبط کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ حکومت ہر قسم کی کرپشن سے پاک سیاسی ومعاشی نظام کو لے کر چلے۔ معاشرہ میں تبدیلی ایک حقیقت بھی نظر آئے۔ یہ المیہ ہے کہ جب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن کا انکشاف ہوا تو پتا چلا کہ سب سے زیادہ بلوچستان اور سندھ کے افسران نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔

عوامی حلقوں نے اسے غریبوںکے حق پر سب سے بڑا ڈاکہ قرار دیا، جو کرپشن کے ملکی گلیشئیر میں '' ٹپ آف این آئس برگ '' ہے، لہذا اسی سیاق وسباق میں حکومت کے سارے امدادی پروگراموں کی رینج ، ان کی افادیت ، مقصدیت اور خدمت وریلیف کے ان ڈھیر سارے اقدامات پر ہونے والے اربوں کھربوں کے اخراجات کے نیٹ رزلٹس کا جائزہ لیں تو ملک سب کچھ کرنے کے باوجود تاحال ایک مثالی ترقی اور خوشحالی کی منزل سے دور لگتا ہے۔

اب اسی سپورٹ پروگرام کو سامنے رکھا جائے تو موجودہ حکومت ایک نئے روڈ میپ پر چلنے کا اہتمام کرسکتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ حکومت عوام کی خدمت کے لیے طرح طرح کی امدادی اسکیموں کی جگہ سسٹم ومیکنزم کے ساتھ مجموعی اقدامات کا ماڈل لائے، افراط وتفریط کا خاتمہ کرے، مثلا ً ہیلتھ کارڈ کی جگہ ملک کے صحت مراکز ، ڈسپنسریوں ، بڑے اسپتالوں ، میڈیکل کالجوں کا ادارہ جاتی معیار بہترکرے، شہر، دیہات اور قصبوں تک میں اسپتالوں کو ہمہ جہت معیار مہیا کرتے ہوئے اسے کاروباری اور تجاری سطح پر نجی و سرکاری تقابل عطا کرے ، یوں ایک جامع صحت نظام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف کو اور علاج کی ملک گیر سہولتوں کا قابل اعتبار نیٹ ورک مستحکم ہونا شرط ہے۔


لیباریٹریز، خون کی بوتلوں، ادویات کی فراہمی، ٹراما سینٹرز، حادثات کی روک تھام اور انسانی جان کی قدروقیمت ایک شفاف صحت سسٹم کا لازمی جزو ہونا چاہیے، یہ فریضہ حکومت مربوط انداز میں ادا کرسکتی ہے۔ اسی طرح یوٹیلیٹی اسٹور اسکیم ، راشن مرچنٹس منصوبہ، نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے تربیتی مراکز بھی صنعتی پالیسی سے جڑے ہوں، دیگر منصوبے بھی ہیں، سرکاری میڈیکل کالجوں اور نجی جامعات میں میعارکی سبقت کا تسلسل سرکارکی اتھارٹی میں شامل ہو، ایک ادارہ جاتی نگاہ اعلیٰ طبی تعلیم کو یقینی بنائے۔ وزیراعظم نئی اسکیموں میں جامعیت اور ادارہ جاتی وسعت کو پیش نظر رکھ کر مربوط قومی اقدامات کا از سر نو جائزہ لیں ، انتظامی بے سمتی اور ڈپلیسٹی بے انتہا ہے، اسے ختم ہونا چاہیے جب کہ اقدامات اور ریلیف و خدمت کے حکومتی کاموں کو گریٹر اقتصادی اور معاشی سسٹم سے جوڑا جانا چاہیے۔

اس قومی مشن میں متعلقہ وزارتیں جوابدہ ہوں، ملک کی تعمیری اور فکری ترقی میں حکومت اور ریاست برابرکی کاروباری ، تجارتی اور امدادی شراکت کو فروغ دے،کسی کو وظیفہ دینے، ماہوار یا سہ ماہی مدد فراہم کرنے یا عارضی مداوے ، ازالے یا وقتی دستگیری سے غربت اور نہ ہی گھپلے کبھی ختم ہوں گے، غریبوں کو مفت کھانا کھلانا اچھی بات ہے مگر اس سے خلق خدا کو معاشی استحکام ، روزگار نہیں مل سکتا۔ ریاست مدینہ کے مثالی منظر نامہ کے لیے ادارہ جاتی اور حکومتی پیرا میٹرز ریاست وحکومت کی نگاہ میں ہونے لازمی ہیں، اور اس کے لیے سسٹم کی فولادی اور ناقابل شکست انتظامی بنیاد ناگزیر ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان نے تنخواہ دار، متوسط اورکم آمدنی والے طبقات کو رعایتی نرخوں پراشیاء ضروریہ فراہم کرنے کے لیے 7 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا باقاعدہ اجراء کر دیا، ریلیف پیکیج کے تحت ملک بھر میں قائم 4 ہزاریوٹیلیٹی اسٹورز پرسستی اشیاء دستیاب ہوں گی۔ وزیر اعظم نے بدھ کوجی نائن مرکز میں یوٹیلیٹی اسٹور کے دورہ کے موقعے پر ریلیف پیکیج کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت جلد غریب افرادکے لیے راشن کارڈز اسکیم کا بھی اعلان کریگی جس کے تحت وہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے ماہانہ تین ہزار روپے کی بنیادی اشیاء ضروریہ حاصل کر سکیں گے۔

یہ ریلیف پیکیج کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کو نہ صرف رعایتی نرخوں پرآٹا، چینی ،گھی، چاول اور دالوں سمیت بنیادی اشیاء ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہے، اس سے عام مارکیٹ میں مہنگائی کے رجحان پرقابو میں بھی مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا یوٹیلیٹی اسٹورز پر عوام کوآٹے کا 20کلوکا تھیلا تقریباً 800 روپے کے رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں خوردنی تیل کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافہ کی وجہ سے بڑھی ہیں، حکومت سورج مکھی اور کینولا کے کاشتکاروںکی حوصلہ افزائی کے ذریعے مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی طرح حکومت 1.5 ارب کی دالوںکی سالانہ درآمدات پر قابو پانے کے لیے ملک میں دالوںکی کاشت کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

یہ تمام اقدامات عوامی خدمت کے حوالے سے قابل قدر ہیں۔ ملک میں مخیر حضرات نے بے شمار ادارے قائم کیے ہیں جو فی سبیل اللہ غربیوں کے لیے رات دن خدمات مہیا کرتے ہیں، اس ملک میں عبدالستار ایدھی خدمت خلق کا روشن نام ہے، دیگر فلاحی تنظیمیں پاکستان کے غریب عوام کی امداد کے پروگرام سنبھالے ہوئے ہیں۔

یہ حکومت پر بوجھ نہیں بلکہ ان کی سپورٹ ایک نعمت سے کم نہیں، لیکن حکومت کے پیش نظر ایک تبدیلی کا نعرہ ہے، اسے حقیقت میں ڈھالنا ہے، اور نعرے اسی وقت حقیقت بنتے ہیں جب حکمراں طے کرلیں کہ ملکی نظام چاہے وہ تعلیم و صحت کا ہو، روزگار، رہائش ، اربن ٹرانسپورٹ، میڈیکل کالجز اور اعلی تعلیمی داروں کے معیار اور معاشی خودکفالت اور اقتصادی بریک تھرو کا ہو اس کے لیے سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

ملک کو ایک مربوط، جامع اور متحرک سیاسی ،سماجی اور اقتصادی نظام چاہیے، اب بے سمتی ، تقسیم در تقسیم تعلقات کار، اور ڈنگ ٹپاؤکا انداز فکر ترک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ملک ایک ادارہ جاتی انقلاب کی دہلیز پرکھڑا ہے، حکومت آگے بڑھے۔
Load Next Story