ولی بابر کیس قتل کی سماعت اندرون سندھ منتقل کردی گئی
ڈی ایس پیز کی سینیارٹی لسٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کردیے گئے
مقدمہ میں گرفتار ملزمان کو بھی جلد اندرون سندھ منتقل کردیا جائے گا،زرائع ۔فوٹو : فائل
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر نے مقامی صحافی ولی بابر قتل کیس سماعت کیلیے کندھکوٹ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل کردیا، کراچی کی انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت IIIنے مقدمہ کی سماعت کیلیے 12نومبرکی تاریخ مقرر کررکھی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس مقبول باقر نے محکمہ داخلہ کی جانب سے ولی بابر قتل کیس بیرون کراچی منتقل کرنے کی درخواست منطور کر لی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس کی جانب سے صوبائی حکومت کو بتایا گیا ہے کہ مقدمہ کی پیروی کرنے والے نعمت علی رندھاواایڈووکیٹ اور 4پولیس اہلکاروں سمیت7گواہوں کو قتل کیا جاچکا ہے،ذرائع کے مطابق مقدمہ میں گرفتار ملزمان کو بھی جلد اندرون سندھ منتقل کردیا جائے گا، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے 282ڈی ایس پیزکی سینیارٹی لسٹ کے خلاف دائر درخواست پر چیف سیکریٹری ،محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10دسمبر تک جواب طلب کرلیا۔
ڈی ایس پی سید ذوالفقار حسین، ڈی ایس پی ممتاز ملک اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نے 4 ستمبرکو ڈی ایس پیز کی سینیارٹی لسٹ جاری کی ہے جس کے تحت ڈی ایس پی فاروق اعوان اورڈی ایس پی رائو انوار سمیت 24ڈی ایس پیز کو ایس پی کے عہدوں پر ترقی دی گئی ہے، فہرست کے ذریعے جونیئر افسران کو ترقی دے کران کا نام شامل کردیا گیا ہے اور من پسند افسران کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے،اس حوالے سے دو ڈی ایس پیز عذرا میمن او ر صغریٰ فاطمہ کو 62اور63نمبر سے 2اور3نمبر پر منتقل کیا گیا،سینیارٹی لسٹ میں ایسے افسران کو بھی شامل کرلیا گیا ہے جن کی اے سی آر بھی مکمل نہیں۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس مقبول باقر نے محکمہ داخلہ کی جانب سے ولی بابر قتل کیس بیرون کراچی منتقل کرنے کی درخواست منطور کر لی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس کی جانب سے صوبائی حکومت کو بتایا گیا ہے کہ مقدمہ کی پیروی کرنے والے نعمت علی رندھاواایڈووکیٹ اور 4پولیس اہلکاروں سمیت7گواہوں کو قتل کیا جاچکا ہے،ذرائع کے مطابق مقدمہ میں گرفتار ملزمان کو بھی جلد اندرون سندھ منتقل کردیا جائے گا، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے 282ڈی ایس پیزکی سینیارٹی لسٹ کے خلاف دائر درخواست پر چیف سیکریٹری ،محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10دسمبر تک جواب طلب کرلیا۔
ڈی ایس پی سید ذوالفقار حسین، ڈی ایس پی ممتاز ملک اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نے 4 ستمبرکو ڈی ایس پیز کی سینیارٹی لسٹ جاری کی ہے جس کے تحت ڈی ایس پی فاروق اعوان اورڈی ایس پی رائو انوار سمیت 24ڈی ایس پیز کو ایس پی کے عہدوں پر ترقی دی گئی ہے، فہرست کے ذریعے جونیئر افسران کو ترقی دے کران کا نام شامل کردیا گیا ہے اور من پسند افسران کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے،اس حوالے سے دو ڈی ایس پیز عذرا میمن او ر صغریٰ فاطمہ کو 62اور63نمبر سے 2اور3نمبر پر منتقل کیا گیا،سینیارٹی لسٹ میں ایسے افسران کو بھی شامل کرلیا گیا ہے جن کی اے سی آر بھی مکمل نہیں۔